مرکزی صفحہ / خصوصی حال / 107 سالہ بزرگ ڈانس ڈائریکٹر، ملنگ چارلی (حصہ دوم)

107 سالہ بزرگ ڈانس ڈائریکٹر، ملنگ چارلی (حصہ دوم)

تحقیق و تحریر : دانش بلوچ

اس پروگرام کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ان کی اپنے طائفے کے ساتھ دوبارہ وطن واپسی ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد بھارت دیش کی ایک اور مشہور ڈانس ڈائریکٹرمیڈم آزوری، جو کہ معروف انڈین مزاحیہ اداکار محمود کی ہمشیرہ تھیں، وہ پاکستان آئیں تو انہیں یہاں سے ایک ڈانس گروپ ترتیب دے کر مشرقی پاکستان ( موجودہ بنگلہ دیش) میں ایک ورائٹی پروگرام پیش کرنا تھا، میڈم آزوری کا رابطہ اسی کرسچن آبادی
میں بنے اس میوزیکل گروپ سے ہوا، جس میں ملنگ چارلی شامل تھے، میڈم آزوری نے اسی یوزیکل گروپ کچھ اور فنکار شامل
کئے اور ایک طائفے کی صورت مشرقی پاکستان پروگرام پیش کرنے گئیں، اس ورائٹی پروگرام میں میڈم آزوری ملنگ چارلی کے فن
سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ انہوں نے ملنگ چارلی کو اپنا گنڈا بند شاگرد بنا لیا۔

(3)
ملنگ چارلی نے میڈم آزوری کی شاگردی میں رہ کر مختلف ممالک میں جا کر بے شمار پروگراموں میں اپنا فن پیش کیا، جس میں
بلوچی ڈانس (دوچاپی)، افریقی ڈانس (بصورتِ لیوا)، سندھی ڈانس (جھومر)، پشتو ڈانس (خٹک )، پنجابی ڈانس
(بھنگڑا) کے علاوہ کلاسیکل، نیم کلاسیکل اور ویسٹرن ڈانس کے ساتھ ساتھ مزاحیہ آئٹم ڈانس بھی پیش کیے۔ میڈم آزوری کے
دوبارہ بھارت جانے کے بعد ملنگ چارلی نے اپنا ایک الگ ڈانس گروپ ترتیب دیا جو کہ کراچی شہر اور گرد و نواح کے مختلف
علاقوں میں اپنا ڈانس آئٹم پیش کرتے اور لوگوں سے داد و تحسین کے علاوہ کچھ معاوضہ بھی پاتے۔

ملنگ چارلی کہتے ہیں کہ ان کا فلموں کی طرف آنا بھی اتفاقی تھا۔ ہوا یوں کہ پاکستان فلم انڈسٹری کے ایک نامور فن کار ساقی
(جن کا اصل نام عبداللطیف بلوچ تھا) ان کے دوست تھے۔ ساقی کے پی ٹی کی گودی میں مزدوری کرتے تھے۔ اس گودی میں دنیا
بھر سے بحری جہازآکر لنگر انداز ہوتے تھے۔ ان جہازوں میں مختلف ملک اور زبان کے لوگ آتے تھے جن سے ساقی ان کی زبان
میں ٹوٹے پھوٹے انداز میں بات چیت کیا کرتے تھے۔ اس طرح آہستہ آہستہ وہ کئی ا نٹرنیشنل زبانیں روانی سے بولنے لگے۔ وہ
انگریزی زبان کے علاوہ دنیا کی کم از کم 18 زبانیں بول اور سمجھ سکتے تھے۔

1956ء میں جب ہالی وُڈ سے ایک فلمی یونٹ پاکستان میں انگریزی فلم ٌ بھوانی جنکشن ٌ کی شوٹنگ کرنے آیا تو انہیں ایسے فن کاروں کی ضرورت پیش آئی جو انگریزی زبان اچھی طرح بولتے اور سمجھ سکتے ہوں۔ اخبار میں اس فلم کا اشتہار دیکھ کرساقی بھی آڈیشن دینے پہنچ گئے۔ ساقی کی انگریزی سن کر فلمی یونٹ دنگ رہ گیا اور انہوں نے ساقی کو اپنی فلم میں ایک اہم رول کے لیے منتخب کرلیا۔ اسی طرح یہ انگریزی فلم پاکستان کی ایک اور مشہور اداکارہ نیلو بیگم (موجودہ پاکستانی اداکار و ہدایتکار شان کی والدہ) کی بھی پہلی فلم تھی، انہیں بھی انگریزی زبان بولنے کی وجہ سے منتخب کر لیا گیا تھا۔

جب ساقی کو فلم میں چانس ملا تو وہ اپنے دیرینہ دوست ملنگ چارلی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ ملنگ چارلی انگریزی زبان
سے نابلد تھے اس لیے انہیں ایکسٹرا رول کے لیے منتخب کر لیا گیا، لیکن جب فلم یونٹ کو پتہ چلا کہ ملنگ چارلی بہت اچھا ڈانسر ہے
تو انہوں نے ملنگ چارلی پر ایک ویسٹرن رقص بھی فلمایا۔ اس طرح 1956ء میں بنائی جانے والی یہ ہالی وُڈ کی انگریزی فلم ٌ بھوانی
جنکشن ٌ ملنگ چارلی کی پہلی فلم تھی۔

اس کے بعد اسی سال کراچی میں پہلی نمائش گرومندر کے قریب لگی تو بہت سے دوسرے فن کاروں کے ساتھ ملنگ چارلی نے بھی اپنا فن پیش کیا۔ اس نمائش میں کراچی فلم انڈسٹر ی کے ہدایت کار شیخ حسن بھی آئے۔ ملنگ چارلی کا ڈانس انہیں اتنا پسند آیا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ ایسٹرن فلم اسٹوڈیو لے گئے، جہاں پاکستان کی پہلی سندھی فلم ٌ عمر ماروی ٌ کی شوٹنگ ہورہی تھی۔ اس فلم میں ملنگ چارلی نے ڈانس آئٹم بھی پیش کیا، کردار بھی کیا، وہ اس فلم کے ڈانس ڈائریکٹر بھی تھے۔

اس فلم کے ہٹ ہو جانے کے بعدان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ اب ہر اردو یا سندھی فلم میں ان کا ایک ڈانس آئٹم ضرور ہوتا۔
اس طرح ملنگ چارلی نے بے شمار فلموں میں بحیثیت ڈانسر یا ڈانس ڈائریکٹر یا پھر فلم اداکار کے طور پر ضرور اپنا فن پیش کیا۔

(4)
ان فلموں میں شالامار، بھروسہ، دل نے تجھے مان لیا، کلب ڈانسر، تیرے بغیر، انقلاب، ٹائیگر گینگ، اُف یہ بیویاں، ان داتا، واہ رے زمانے، ہیرا اور پتھر، روپ بہروپ، سمندر، بنجارن، گاتا جائے بنجارہ، مِس 56 ، انوکھی، دھڑکن، جاگ اُٹھا انسان، دل والے، بارہ بجے، محبوب مٹھا (سندھی)، نئی لیلیٰ نیا مجنوں، اور بہت سی دیگر اردو، سندھی اور پنجابی فلموں کے نام شامل ہیں۔

ملنگ چارلی نے 70ء سے 90 ء تک کے مشہور پاکستانی مزاحیہ اداکار لہری اور نرالا کے ساتھ مل کر کئی فلموں میں مزاحیہ کردار بھی ادا کیے،۔ان کی آخری فلم بھی کراچی فلم انڈسٹری کے ڈائریکٹر شیخ حسن کے ساتھ "مہرانڑ جا موتی” (سندھی فلم ) تھی جو 1988ء میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں ملنگ چارلی نے ڈانس پرفارمنس اور ڈانس ڈائریکشن کے علاوہ پہلی بار گلوکاری بھی کی۔

جاری ہے

Facebook Comments
(Visited 74 times, 1 visits today)

متعلق دانش بلوچ

دانش بلوچ