مرکزی صفحہ / خصوصی حال / گوادر ایکسپو2018

گوادر ایکسپو2018

جاوید حیات

کشتی چوک پر سیکیورٹی پہ مامور اہلکاروں نے جب ہمیں ڈیڑھ گھنٹے تک روکے رکھا تو مجھے صبح گھر سے نکلتے جھاڑیوں کے پیچھے بچوں کے بچھائے جال میں پھنسا وہ بٹیر یاد آگیا جو خود کو چُھڑانے کے لیے پڑ پڑا رہا تھا۔ اُس بٹیر کو تو شکاری بچے جلدی چُھڑا کر لے گئے لیکن ہمیں چُھڑانے کوئی نہیں آیا۔

میں ایک دوست راشد کی موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھا تھا جو کبھی کبھار سڑک پر پیدل چلتے ہوئے ترس کھا کے اُٹھا لیتا ہے۔ آج میں اُس پہ ترس کھا رہاتھا وہ ایک خاموش ٹریفک کے سنّاٹے میں ڈاک خانے کے لیٹر بکس کی طرح ٹھہر گیا تھا۔ اِتنے میں ایک سپاہی نے زور سے آواز لگائی، ’’آگے جانے کے لیے کسی کو اجازت نہیں ہے، جن کے پاس ایکسپو کے کارڈز ہیں وہ جا سکتے ہیں۔‘‘

ہم نے جلدی سے اپنے کارڈ دکھائے اور بٹیر کی طرح اُڑ گئے۔ ڈھائی سو فٹ آگے چل کر پھر ہمیں ڈولفن مچھلی چوک پر روک دیا گیا. اب جیسے ہم کیکڑے کے ریشم والے مضبوط جال میں پھنس کررہ گئے۔ ’’آگے جانے پر پابندی ہے۔‘‘ سپاہی نے گرج دار آوازمیں کہا۔
’’سر جی! ہمیں آپ کے افسر نے کلیئرنس دی ہے، ڈیڑھ گھنٹہ ہمیں وہاں روکے رکھا، ایک گھنٹہ آپ روکیں گے اِتنی دیر میں ایکسپو کی تقریب ختم ہو جائے گی۔‘‘ اُس سے ہمارا دُکھ دیکھا نہ گیا اور ہمیں کیکڑے کے جال سے چُھڑا کر سڑک پر جھینگے کی طرح چھوڑ دیا۔

ویڈیوگیمز کی طرح ہم آگے کے اِسٹپ اِسی طرح پار کرتے جارہے تھے۔ ایک کلومیٹر چلنے کے بعد عمر بن خطّاب مسجد کے سامنے روک دییے گئے اور موٹر سائیکل کے پلگ سے کرنٹ غائب ہوگئی۔ فوجی بھائی موٹر سائیکل کے ساتھ ہمیں گلی میں لے گئے جہاں ایک گدھا بندھا ہُوا تھا اور گلی کے کتے اُس پر بھونک رہے تھے۔ لوگ ہماراتماشا دیکھ رہے تھے.

ہم تماشا دیکھنے کے لیے تماشا بن رہے تھے۔ بیس منٹ کے بعد سپاہی نے ہمیں چھوڑ دیا تو وہ گدھا زور زور سے ہانکنے لگا. جیسے وہ ہم پر ہنس رہا ہو۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اُسے بھی ایکسپو 2018ء دیکھنے جانا ہے۔

یہ قیامت صرف ہم پر نہیں ٹوٹی. ایکسپو دیکھنے والا ہر شخص اِس عذاب سے گزرا ہے۔ وہ لوگ بھی یہ ستم سہہ گئے جن کے اِسٹال لگنے تھے۔

ڈھائی منٹ کی مسافت کے بعد موسیٰ موڑ پر سپاہی نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے ہمیں آگے جانے سے منع کر دیا۔ ایک بار پھر سپاہی کو ہم پر رحم آیا اور ہمیں پندرہ منٹ ستانے کے بعد ایکسپو جانے کی اجازت دے دی۔ جب ہم وائی چوکی کراس کر گئے تو خوشی کے مارے مجھے بٹیر کے پر لگ گئے کہ اب ہمیں ایکسپو دیکھنے کیلئے کوئی نہیں روک سکتا۔ پرپٹ کو دو منٹ دوڑانے کے بعد سپاہیوں نے روک دی۔

’’ آج پورٹ پر بائیک لے جانے پر پابندی ہے اِس لیے آپ اپنی بائیک ڈوم سِٹ کے پیچھے پہاڑ کے دامن میں جاکر کھڑی کردیں۔‘‘
موٹر سائیکل کے نمبرز اور اپنا پتہ لکھوانے کے بعد اسکینر گیٹ پہ چیکنگ ہوتے ہی داخلے کے فوراًبعد ایک افسر نے روک کر کہا،
’’ایکسپو جانے کے لئے یہ کارڈنہیں چلے گا۔‘‘ اُس نے گیٹ کی سیکیورٹی اور بڑھا دی۔

ہم نے اپنے غصے پر قابو کرکے عاجزی کے ساتھ اُس سے بات کی، ’’سر! آپ ہمیں جانے دیں اندر، اگر منع کِیا جاتا ہے تو واپس آتے ہیں۔‘‘ اتنے میں میرے دو دوست اور آگئے، اُن میں کسی نے اپنے ڈائریکٹر کو فون کِیا تو ایک چھوٹی سی گاڑی آگئی اور ہم سب اُس میں بیٹھ گئے۔ پورٹ کے مین گیٹ پر کلیئرنس کے بعد آخر کار ہم تقریب کے شامیانوں تک پہنچ گئے۔

وہاں سیکیورٹی نے ہمارے موبائل رجسٹریشن کے بعد اپنے پاس رکھے اور پھر اِسکیننگ بعد ہم بزم میں داخل ہوگئے۔

محفل کی رونقیں دیدنی تھیں مگر وہاں لوگوں کا رش اِتنا زیادہ تھا کہ دُور دُور سے آئے مہمانوں کے لیے بھی کُرسیاں کم پڑ گئیں۔

وہاں پاکستانی خاندانوں کے علاوہ چائنیز مرد اور خواتین بڑی تعداد میں موجودتھیں۔ تھوڑی دیر میں تمام مہمانانِ گرامی تقریب میں تشریف لے آئے۔ دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی سُریلی دُھنیں بجیں۔ چینی سفیر یاؤژینگ اور چینی کمپنی کے چیئرمین نے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کِیا۔ وفاقی وزیر میر حاصل خان بزنجو نے گوادر کے پانی بحران پر تھوڑی سی روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے وہی باتیں دہرائیں جو رات دس بجے کے بلیٹن کے بعدٹیلی ویژن پر نشر ہوتی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے چند بنیادی مسائل کی نشاندہی کی اور وزیرِ اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے گوادر کیلئے کچھ مطالبات بھی کیئے. جو وزیرِ اعظم نے یہ کہتے ہوئے نظر انداز کر دیئے کہ بلوچستان کا مستقبل بلوچستان کے لیڈرشپ کے ہاتھ میں ہے۔ جب کہ وہ ایک مہینہ پہلے یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ بلوچستان میں مُسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔

اپنی تقریر کے خاتمے کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم نے گوادر فری زون کے بزنس سینٹر کا افتتاح کِیا اورفضامیں پٹاخوں کے ساتھ چمکتی دمکتی پُھلجڑیاں اُڑنے لگیں۔ ذرا دیر میں بزنس سینٹرکے پچھواڑے گوادر ایکسپو 2018ء کا فیتہ بھی کاٹ دیا۔ اُس ہال میں چینی اور پاکستانی پتنگوں کی طرح جُھوم رہے تھے۔

جہاں یہ بزنس سینٹر بنا ہے تھوڑے سے فاصلے پر کنارے پہ بادبان اوڑھے قدیم تاریخی بستی ملّا بند کے مکینوں کی کشتیاں کھڑی رہتی تھیں۔ اُس زندگی میں اِتنا شور اور ہنگامہ نہیں تھا. ایک مسجد تھی. پانی کی یک ٹینکی تھی اور ایک چھوٹا سا ایک کمرے کا پرائمری اسکول تھا۔

اب یہاں امریکہ ، چین ، افریقہ، مصر،ایران، عمان ،افغانستان، سعودی عربیہ سمیت دنیا بھر سے لوگ اِس بزنس سینٹر میں کاروبار کریں گے۔

بزنس سینٹر دیکھنے کے بعد ہم ایکسپو کے رنگ دیکھنے چلے گئے۔ وہاں گیٹ پر پہنچتے ہی سپاہیوں نے ہمیں روک لیا کہ آپ اندر نہیں جا سکتے، ابھی وی آئی پی ڈیلیگیشن وزٹ کریں گے۔
میں نے اُن سے کہاکہ اب آپ مجھے پورٹ کی سب سے اُونچی کرین پر ٹھانگ بھی دو، میں ایکسپو 2018ء دیکھنے ضرور جاؤں گا۔ میری باتیں وہ خاموشی سے سُن رہے تھے، میں نے اُن سے کہا کہ ایبٹ آباد ، سوات، مانسہرہ کے لوگ اندر جا سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں جاسکتا؟
جب کہ میرا گھر وہ سامنے کوہِ باتیل کے نیچے ہے، آپ اِس بزنس سینٹر کی چھت سے دوربین کے بغیر میرا گھر دیکھ سکتے ہو۔

آدھے گھنٹے کے بعد ایک افسر آیا اور اُس نے ہمیں ایکسپوکی سُرخ قالین پر چلنے پھرنے کی اجازت دے دی۔

دو ہفتے سے زیادہ سوشل میڈیا پر گوادر ایکسپو 2018ء کی دُھوم مچی ہوئی تھی۔ میں نے دیکھا جو لوگ عید، دیوالی ، کرسمس اور ھیپی نیو ایئر نہیں مناتے، وہ اِس دن کا بے صبری سے انتظار کرنے لگے۔ جن لوگوں نے پہلے کبھی ایکسپو نہیں دیکھا اُس کے لیے شاید یہ کوئی عجوبہ ہو، ہماری نظر میں مصنوعی بازار کے عارضی دکانوں کو ایکسپو کہتے ہیں۔ یہاں ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے اِسٹال لگے ہوئے تھے۔ وہاں سارے لوگ اپنے پراڈکٹ کی تشہیر کا سامان لیے بیٹھے تھے۔اِس ایونٹ سے ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کی تجارت سے نئی راہیں کُھلیں۔
آنے والے دنوں میں اِس ایونٹ کے بڑے مثبت اور خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔یہ ایکسپو بلوچستا ن کا پہلا میگا ایونٹ ہے۔

اِس ایکسپو میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، لیکن مقامی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو دو فیصد لوگ بھی شامل نہیں تھے۔

مجھے ذاتی طور اِس تقریب میں سب سے زیادہ خوشی اِس بات کی ہوئی کہ گوادر میں ایک نئی بلڈنگ کا اضافہ ہُوا ہے۔ کمرشل اور خوبصورت عمارتوں کا ملکی ترقی میں اہم رول ہوتا ہے، گوادر آج سے پچیس سال پہلے ایک چھوٹے سے گاؤ ں جتنا تھا۔ پانی کوہِ باتیل کے بند اور کنوؤں سے بھرتے تھے، شام کے پانچ بجے بجلی چلی جاتی تھی اور رات کو صرف 7سے 11 بجے چار گھنٹے کی بجلی ملتی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے آگے سارا علاقہ جنگل تھا جہاں دوپہر کو بھی اُلّو اور جھینگروں کی آوازیں آتی تھیں۔

گوادر کو ایک شہر بنانے میں کچھ ترقیاتی اور کمرشل پراجیکٹ کا بڑا ہاتھ رہا ہے جن میں گوادرفش ہاربر کی تعمیرایک درخشاں باب ثابت ہُوا۔

بیلجیئم کمپنی کے اِس تحفے سے شہر کا ڈھانچہ بدل گیا۔ کشتیوں کو نہ صرف طوفانی ہواؤں سے بچنے کیلئے ایک ٹھکانہ ملا بلکہ اُن کی مچھلیاں بھی اچھے دام بکنے لگیں۔ اِس کے بعد کوسٹل ہائی وے نے بھی اِس گاؤں کو شہر بنانے میں کلیدی کردار ادا کِیا۔گوادر کے لوگ تازی سبزیاں اور دہی کھانے کے لیے ترس گئے تھے، یہ سڑک ہی ڈیری فام اور سبزی منڈی کو اپنے ساتھ لے کر آگئی۔ پھر فائیو اسٹار ہوٹل نے بھی اِس شہر کی گرتی ہوئی ساکھ کو ہمیشہ بچائے رکھا۔ NFC ایوارڈ اور دیگر بڑے پروگرامز کی میزبانی میں PC ہوٹل نے اِس شہرکی لاج رکھی۔ اِس سے پہلے یہاں اِتنی اچھی رہائش اور طعام کا کوئی انتظام نہیں تھا۔
اور اب یہ بزنس سینٹر کی عمارت بھی گوادر کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگی جو سرمایہ کاروں کوتحفظ اور بہترین شیلٹر فراہم کرے گی۔

ایکسپو2018ء سال کا پہلا خوشگوار ایونٹ ہے جہاں ملک بھر سے فیملیز اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اپنے اپنے اِسٹالوں پر بیٹھے چینی لڑکے اور لڑکیاں توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ مقامی لڑکوں نے کئی چینی لڑکیوں کے ساتھ یادگار سیلفیاں بنوا کے اپنے منگیتروں کے دل توڑ دیے۔

چینی لڑکے اور لڑکیاں گڑیوں کی طرح ہیں، دل چاہتا ہے اُن سے کھیلیں مگر ڈرتے ہیں کانچ اور پلاسٹک کے یہ پتلے ٹوٹ نہ جائیں۔

خدا نے انسانوں کے روپ میں جو کھلونے بنائے ہیں وہ چینی اور جاپانی ہیں۔ میں تو چاہتا ہُوں ایکسپو 2018ء میں مسٹر چِنگ ایک گوادری لڑکی سے اور مس لولی تربت کے کسی لڑکے سے شادی کر لیں. تاکہ مستقبل میں اُن کی نسل ہماری بقاء کی جنگ لڑ سکے۔

تقریب کے پہلے دن پٹاخوں اور پُھلجڑیوں کے بکھرنے کے ساتھ ہی بزنس سینٹر کے سامنے سے ایک اُڑتا ہُوا بگلہ اپنی چہکار بکھیر رہا تھا کہ اِس وسیع آسمان کے ساتھ یہ نیلگوں سمندر بھی میرا ہے جہاں اب مچھیروں کی کشتیاں نہیں رہتیں، کنارے پہ کوئی گھروندا نہیں بناتا۔

Facebook Comments
(Visited 105 times, 1 visits today)

متعلق جاوید حیات

جاوید حیات گوادر میں مقیم قلم کار ہیں۔ مقامی اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔ javedhayat42@gmail.com