مرکزی صفحہ / منتخب حال / فولادی حوصلوں والی ارم بلوچ

فولادی حوصلوں والی ارم بلوچ

محمد آصف ریاض

مشکلیں ہر انسان پر آتی ہیں، بعض لوگ ان سے مایوس ہوجاتے لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو انہی کو اپنی طاقت اور کامیابی کا زینہ بناتے ہیں۔ سندھ کے پسماندہ شہر جیکب آباد کی ایک لڑکی ارم بلوچ نے بھی رنج و غم اور مشکلات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے اپنی زندگی کو خاندان اور دوسری لڑکیوں کے لیے ایک مثال بنایا ہے۔

ارم کی عمر چار برس کی تھی جب ان کے والد دو بہنوں اور ایک بھائی کو دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اس جہان فانی سے کوچ کرگئے- 2015 ء میں ایک بم دھماکے نے ان سے شفیق بھائی کا ساتھ بھی چھین لیا مگر اس باہمت لڑکی نے تن تنہا ساری مصیبتوں کا مقابلہ کیا وہ کسی کے آگے جھکی نہ ہی اس نے ہار مانی۔آج وہ بہن اور ماں کا مضبوط سہارا بھی ہے اور کھیلوں کے ذریعے اپنا شوق پورا کرنے والی لڑکیوں کے لیے امید کی کرن بھی۔

والد کی وفات کے بعد ارم کی ماں کو اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو لے کر مجبوراً میکے جانا پڑا تھا جہاں پر نانا ان کا سہارا بنے۔ ارم بچپن سے ہی پڑھائی میں سب سے آگے تھیں اور انہیں کھیلوں میں حصہ لینے کا بے پناہ شوق بھی تھا، مگر علاقے میں کوئی میدان تھا اور نہ ہی سہولیات۔ لڑکی ہونے کی وجہ سے وہ گلی محلے میں بھی کھیل نہیں سکتی تھیں-

وہ پانجویں کلاس میں تھیں جب ان کے سکول میں ٹیبل ٹینس کی ٹیم بنانے کا اعلان کیا گیا، ارم کی تو جیسے لاٹری نکل آئی- وہ ٹیم میں شامل ہوئیں اور پانچ سال تک سکولوں میں ہونے والے سالانہ کھیلوں کے مقابلوں میں ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن میں اپنے ادارے کو چیمپئن بنایا۔وہ کپتان بھی تھیں اور دوسری لڑکیوں کی رہنما بھی لیکن یہ کھیل صرف سکول تک ہی محدود تھے اور وہ بھی صرف سالانہ سپورٹس کے دنوں میں، عام زندگی میں وہ اپنا شوق پورا نہیں کر پاتی تھیں- ارم کالج گئیں تو اس سے یہ دونوں کھیل چھوٹ گئے کیوں کہ کالج میں نہ ٹیبل ٹینس کی ٹیبل تھی اور نہ ہی بیڈمنٹن کا کورٹ۔پر ان کے کالج کی لڑکیاں ہاکی کھیلا کرتی تھیں، ارم نے بھی اب ریکٹ چھوڑ کر ہاتھ میں ہاکی سٹک تھام لی- دیکھتے دیکھتے وہ اپنے کالج کی بہترین کھلاڑی بھی بنیں اور کپتان بھی لیکن اسی زمانے میں ان کے مالی حالات کافی بگڑ گئے تھے۔ایک دن وہ اپنی خالہ سے جیب خرچ کے لیے پیسے مانگنے گئیں تو ان کا رویہ انتہائی تضحیک آمیز تھا-ارم نے اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ اب وہ مزید کسی پر بوجھ نہیں بنیں گیں۔

انھوں نے کمپیوٹر آپریٹر کی نوکری کرلی، وہ صبح کالج جاتیں اور سہ پہر دو بجے سے سات بجے تک نوکری کرتیں- انہوں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی اور اپنی بہن کو بھی بی اے کروادیا- زندگی ایسے ہی رواں دواں تھی کہ پھر2015ء آگیا۔دس محرم کو ارم کی زندگی میں کرب و بلا جیسا واقعہ رونما ہوا جس نے ان کو ہلا کر رکھ دیا- اس دن جیکب آباد کے لوگ عاشورہ کے جلوس میں شریک تھے کہ خود کش حملہ ہوگیا اور کئی بہنوں کی طرح ارم بھی اپنے 22 سالہ بھائی سے محروم ہوگئیں-

ارم کے بقول یہ دن کسی قیامت سے کم نہیں تھا کیوں کہ ایک بھائی ہی تھا جو ہم بہنوں اور ماں کا واحد سہارا تھا۔ ظالموں نے یہ سہارا بھی چھین لیا، ان کا سب کچھ لٹ چکا تھا اور ہر طرف مایوسی کے ڈیرے تھے- کئی مہینے اسی ماتم میں گزر گئے۔ ایک دن دوستوں کے مجبور کرنے پر وہ سکھر میں لڑکیوں کا ایک دن کا سپورٹس گالا دیکھنے کے لیے گئیں- ’وہاں کئی ایسی لڑکیاں دیکھیں جن کی آنکھوں میں وہی حسرت تھی جو کبھی میری آنکھوں میں ہوا کرتی تھی۔ میچ ختم ہوا تو لڑکیوں سے ہاکیاں واپس لی جانے لگیں۔

میں نے دیکھا کہ ان لڑکیوں سے انتظامیہ کا رویہ بہت ہی تکلیف دہ تھا۔میچ کے لیے ان لڑکیوں کو جو ٹراوزر اور شرٹس پہنائی گئی تھیں وہ پہلے لڑکوں کے زیر استعمال رہی تھیں، انہیں دھویا بھی نہیں گیا تھا‘- ارم بتاتی ہیں کہ انہیں اس دن بہت دکھ ہوا کہ وہ کھلاڑی جو علاقے اور ملک کا نام روشن کرتی ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک؟

انہوں نے عزم کیا کہ وہ ان لڑکیوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کریں گی اور پھر کچھ عرصے بعد انہوں نے چند دوستوں کے مشورے پر شہر میں گرلز ہاکی اکیڈمی بنانے کا فیصلہ کیا-شہر میں لڑکیوں کا کوئی گراؤنڈ نہیں تھا۔مختلف سکولوں کے سربراہان سے رابطہ ہوا لیکن کہیں بات نہ بنی۔ آخر کار اسی گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج جہاں سے انہوں نے اپنی تعلیم مکمل تھی، اس کی انتظامیہ نے گراؤنڈ دینے کی حامی بھرلی-

ارم اس زمانے میں محکمہ صحت کے کمیونٹی مڈوائفری پروگرام میں بطور انگلش ٹیوٹر جاب کرتی تھیں-اکیڈمی کے لیے جبگہ تو مل گئی تھی لیکن نہ سامان تھا اور نہ ہی میدان کو ہاکی کے گراؤنڈ میں تبدیل کرنے کے پیسے-مگر ارم نے ہار ماننا نہیں سیکھا تھا۔ انہوں نے اپنی تنخواہ کے پیسوں سے کچھ پرانی ہاکیاں خریدیں اور کام شروع کردیا- پہلے ایک لڑکی آئی پھر دو اس طرح کارواں بڑھتا گیا اور اب ان کی اکیڈمی میں 22 لڑکیاں تربیت حاصل کررہی ہیں-

ارم کہتی ہیں کہ اب ان کے شہر کی ٹیم صوبائی سطح کے ہر ٹورنامنٹ میں نمایاں مقام حاصل کرتی ہے بلکہ یہاں تک کہ ان کی تربیت شدہ دو کھلاڑی اسما اور رخسارپاکستان سپورٹس بورڈ کی ٹیم کے ساتھ تھائی لینڈ کا دورہ بھی کرکے آئی ہیں-’میں نے لڑکیوں کو سکھایا ہے کہ ہر حال میں جیتنا ہے، چاہے وہ کھیل کا میدان ہو یا پھر معاشرے کے وہ ناسور جو انہیں آگے بڑنے سے روکتے ہیں۔میں بس اتنا کہوں گی کام کوئی بھی مشکل نہیں اس کو پورا کرنے کے لیے لگن اور جذبہ ہونا چاہیے‘۔

ہمارے معاشرے میں کتنی ہی ایسی لڑکیاں ہیں جو سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اپنے شوق پورے کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔جیکب آباد میں کھیلوں کا انفراسٹرکچر ہوتا تو شاید ارم بھی پاکستان کی مایہ ناز ٹیبل ٹینس سٹار یا پھر ہاکی کی نامور کھلاڑی ہوتیں۔

"بشکریہ: سجاگ”

Facebook Comments
(Visited 17 times, 1 visits today)

متعلق سجاگ

سجاگ