مرکزی صفحہ / بلاگ / نقل سے انکار کا نعرہ اور عملی تقاضے

نقل سے انکار کا نعرہ اور عملی تقاضے

عبدالحلیم

کسی بھی ریاست کی تعمیری تبدیلیوں میں تعلیم کا شعبہ کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم تعمیر اور ترقی کی ہی اصل بنیاد ہوتی ہے۔
یوں تو پاکستان کا مجموعی نظامِ تعلیم تسلی بخش نہیں جس کی وجہ طبقاتی نظام تعلیم کا فروغ اور دیگر بہت سی عوامل ہیں۔ لیکن بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کے اثرات صدیوں تک محیط ہیں۔

بلوچستان میں تعلیمی پسماندگی کا یہ عالم ہے کہ 1.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبہ بھر میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالتِ زار بھی اچھی نہیں جہاں بنیادی سہولتیں میسر نہیں جب کہ ایک رپورٹ کے مطابق 13 ہزار سرکاری اسکول غیر فعال ہیں۔ صوبہ بھر میں پرائمری سطح کے سرکاری اسکولوں کو سنگل استاد کی بنیاد پر چلانے کی بھی روایت قائم ہے۔

اس حوالے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صوبے میں ایک کمرہ پر مشتمل 5000 سرکاری اسکول قائم ہیں، جہاں ایک ایک استاد تعنیات ہے۔ یعنی کم سے کم پانچ سو طلبا کو ایک استاد درس دیتا ہے جس سے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ ان تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار کیسے ہوگا اور درسی کتب کے کورس کی تکمیل بروقت کیسے ممکن ہو پائے گی۔

بلوچستان کے مڈل اور سیکنڈری سطح کے سرکاری اسکولوں میں بھی اساتذہ کی کمی، درسی اور غیر درسی مسائل کا بھی انبار پایا جاتا ہے۔
کالجز کی شاندار عمارتیں بھی درس دینے والے استادوں سے خالی ہیں۔

ضلع گوادر کی سب سے بڑی تعلیمی درس گاہ گورنمنٹ سید ظہو رشاہ ڈگری کالج اس کی واضح مثال ہے جس میں ایسوسی ایٹس اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی کمی ہے۔ اسلامیات کے مضمون کا کوئی بھی استاد دستیاب نہیں۔

بلوچستان میں ایسے سرکاری اسکول بھی پائے جاتے ہیں جہاں سائنسی درس دینے کے لیے استاد تک میسر نہیں اور سائنسی لیبارٹری کی بھی کمی پائی جاتی ہے۔

سرکاری سطح پر اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کو اسکول میں داخلہ کے لیے "ہر بچہ اسکول میں” کے نعرہ کے تحت ہر سال کمپین بھی چلائی جاتی ہے۔
نقل سے انکار کا موٹو اور نعرہ بھی موجود ہے۔
سمینار اور واک سے ہر بچہ اسکول میں اور نقل سے انکار کے فواعد اور نقصانات کو اجاگر بھی کیا جاتا ہے۔

ان تمام تر کوششوں کے باوجود بلو چستان کے نظامِ تعلیم میں اصلاحات لانے کے حوالے سے تشنگی کی فضا اب تک موجود ہے۔ بالخصوص نقل کے رجحان کے سائے ختم نہیں ہو سکے ہیں۔

دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی تدبیریں تلاش کی جاتی ہیں لیکن ہمارے ہاں نظام تعلیم وہی کی وہی رکی ہوئی ہے۔

امتحانات لینے کا نظام بھی فرسودہ ہے جس میں تبدیلی لانے کی بظاہر کوشش نہیں کی گئی۔

سیمینار اور واک سے نظام تعلیم میں بہتری لانے، نقل کے خاتمہ اور اصلاحات کی راگنی بھی سننے میں ملتی ہے لیکن بعد میں سکوت طاری ہوتا ہے۔

نقل سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ نقل معیاری تعلیم کے خواب اور ہمیں آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ کی اہم وجہ ہے۔

نقل کے رجحان کی وجہ سے ملک اور قوم کے لیے اعلیٰ پایہ کے مغز جنم نہیں لے پاتے اور اس کے ساتھ یہ ان قابل لوگوں کا بھی راستہ روکتی ہے جس سے معاشرہ کماحقہ طورپر استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں گوادر کے گرلز کالج کی طالبات نے بڑی تعداد میں بی اے کے حالیہ امتحانات میں فیل ہونے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ ان امیدواروں نے یونیورسٹی آف تربت کو نتائج مرتب کرنے کے عمل میں امتیاز برتنے کے ساتھ ساتھ آؤٹ آف کورس پرچے ڈالنے کے بھی الزام عائد کئے۔

لیکن یہ بات بعید از قیاس ہے کہ نتائج کی تیاری میں اتنی بڑی تعداد میں امتیاز روا نہیں رکھا جا سکتا۔ یونیورسٹی آف تربت نے اپنے مختصر قیام کے بعد معیاری تعلیم کے نفاذ اور درس و تدریس کی اچھی اور شاندار روایت ڈالی ہے۔

نقل کے رحجان سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کا خاتمہ اس صورت ہو سکتا ہے جب اس کے رجحان کے فروغ میں موجود عوامل کا تریاق تلاش کیا جائے اور اس کے بعد اصلاحات کو عملی صورت دی جائے۔

حکومت بلوچستان نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ہدایت پر اپنے کالجوں میں بی ایس پروگرام کا نفاذ کیا ہے لیکن ان کالجوں میں مضامین پڑھانے والے استاد دستیاب نہیں اور نہ ہی ایس کے پروگرام کے تحت کالجز کے پاس متعلقہ لوازمات موجود ہیں۔

گوادر ڈگری کالج میں استادوں کی کمی سے بی ایس پروگرام کیسے چل سکتا ہے؟؟
جس سے یہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ ہم تعلیمی اصلاحات میں کس قدر مخلص ہیں۔

جب تک تعلیمی اصلاحات کو عملی صورت نہیں دی جاتی اور امتحانات کے انعقاد کے نظام پر نظرِثانی کے اقدامات نہیں کیے جاتے، نقل کے رجحان سے گلو خلاصی خواب ہی رہے گی۔

نقل سے انکار کا خواب عملی تقاضے کی صورت میں شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔

ہمارے پالیسی ساز اداروں سمیت ان کے عالمی اور ملکی معاون اداروں کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے باہر نکلنا ہوگا۔

Facebook Comments
(Visited 45 times, 1 visits today)

متعلق عبدالحلیم

گوادر میں مقیم عبدالحلیم کل وقتی صحافی ہیں۔ مقامی مسائل کی کوریج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ صحافت اور ادب کے امتزاج سے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ Email: haleemhayatan@gmail.com