مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / انصاف کا پرچم سرنِگوں نہ ہو!
Law school

انصاف کا پرچم سرنِگوں نہ ہو!

محمد خان داؤد

جب ایک امیر زادے نے راہ چلتے ایک غریب لڑکی کو چھیڑا تب…
جب اس بہن کی یہ حالت ایک بھائی نے دیکھی تب…
جب شاہ زیب کو ایک طاقتور نے گولیاں ماریں تب..
جب شاہ زیب اپنی زندگی وہیں اس سڑک پر ہار گیا…
جب شاہ زیب مقتول ہوا، پر شاہ رخ جتوئی مجرم بھی نہیں…
طاقتور حلقوں میں تو شاہ زیب مقتول بھی نہیں معصوم بھی نہیں اور شاہ رخ جتوئی مجرم بھی نہیں…
جب وہ مجرم ہی نہیں تب…
جب شاہ زیب کی اداس لاش سرکاری اسپتال کے سر خانے میں پڑی رہی تب…
جب ڈاکٹر اس لاش کا پوسٹ مارٹم ہی نہیں کر رہا تھا، معلوم نہیں کیوں؟ تب…
جب وہ شاہ زیب کی لاش گھر لائی گئی تب…
جب وہ شاہ زیب کا ماں نے آخری بار محبت سے ماتھا چُوما تب…
جب وہ لاش کئی گاڑیوں اور کئی کندھوں پر سوار ہوکر گزری کے قبرستان تک لائی گئی تب..
جب شاہ زیب دفن ہوگیا تب…!
جب شاہ زیب کا بابا کئی لوگوں کے ہجوم میں پر خالی خالی گھر کو لوٹا تب…
جب اُس ناحق قتل پر کسی نے کوئی کان نہیں دھرا تب…
جب پوری طاقت اس بات میں استعمال ہو رہی تھی کب شاہ رخ جتوئی جو معصوم بچہ ہے اور اس کا وڈیرا پاب کبھی اس کی ہڈیاں چیک کراتا اور کبھی اس کے دانتوں کا معائینہ ہوتا رہتا کہ وہ تو بچہ ہے تب…
جب سول سوسائیٹی کے بھرپور احتجاج کے بعد کیس کی آیف آئی آر کٹی تب…
جب وہ مجرم میڈیا پر مظلوم سے بنا کر پیش کیے جاتے تب…
جب ان مجرموں کو جیل میں بھی لگژری ماحول پیش کیا جاتا رہا تب…
جب وہ مجرم ہوتے ہوئے بھی مجرم نہیں تھے، جب وہ قاتل ہوتے بھی قاتل نہیں تھے تب…

جب شاہ زیب قتل ہوا اور مکار سندھی میڈیا یہ شور کرنے لگا کہ کراچی میں ایک سندھی تاجر کو پریشان کیا جا رہا ہے۔
جب مکار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو اس ماں کا درد نظر نہیں آ رہا تھا جو غیر سندھی تھی جس کا جواں سالہ بیٹا قتل ہوکر گزری کے قبر میں دفن ہو چکا تھا تب!

جب اس قتل کے کیس نے طوالت پکڑی جس سے انصاف کا قتل ہو رہا تھا اور اس طوالت کا فائدہ شاہ رخ جتوئی کو ہو رہا تھا تب!
جب اس قتل کو لے کر تیمور اپنے بینڈ کے ساتھ پریس کلب پر شاہ زیب کے لیے گیت گاتا نظر آیا تب۔
جب اس دہشت گردی کیس کا بہت سستا سودا ہوگیا تب۔
جب وہ سندھی وڈیرا اپنے بیٹے کی زندگی کے بدلے، ہارے ہوئے پولیس اہلکار کو بہت کچھ دے رہا تھا تب۔
جب ایک ماں خوش ہو رہی تھی اور ایک ماں کی زندگی ماتم میں تبدیل ہو چکی تھی تب۔
جب ایک ماں خوش تھی کہ اس کا بیٹا جیل ہی میں تو ہے۔رہا ہو جائے گا اور ایک ماں بہت روتی تھی اور اس بیٹی کو کوستی تھی۔ جس بیٹی کو چھیڑنے پر اس نواب زادے نے اس لڑکی کے بھائی کے سینے میں گولیاں اتاریں تب۔

جب، جب ایک غریب باپ اپنے بیٹے کو بھولنے کی کوشش کرتا۔اور ایک امیر باپ اپنے سیکرٹیری سے روز یہ معلوم کرتا کہ، کیا آج اسے پیزہ بھیجا گیا۔ کیا آج اسے سگریٹ بھیجے گئے۔ اس کی صحت ٹھیک ہے۔ اور جب اس امیر باپ کو اطمینان بخش جواب ملتے تو وہ فوراً اپنے سیکرٹری سے کہتا کہ چھیپا کو ایک بکرا بھیجو۔ اور دوسری طرف روز ایک ماں ذبح ہو رہی ہوتی تب!

جب کئی دنوں مہینوں کی عدالتی کاروائی کے بعد وہ امیر رہا ہوگیا۔ اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔اور وہ امیر زادہ قاتل اپنی انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتا بڑی گاڑی میں جاتا رہا تب!۔
جب کوئی کسی کی نہیں سُنتا۔ جب کوئی کسی کے آنسو نہیں دیکھتا۔جب مائیں بے آسرہ ہو جاتی ہیں تب!
جب تیمور کے سب گیت اور سب آوازیں گونگی ہو جائیں تب۔
جب انصاف کا پرچم سر نگوں ہو جائیں تب۔
جب کوئی بہت روئے، بہت روئے اور عدلیہ سے کہے، خدارا انصاف کیجیے، تب!

جب انصاف ہو اور نہ بھی ہو۔ جب ان مجرموں کو پھر سے گرفتار کیا جائے اور انہیں وکلا کا اعلیٰ پینل دستیاب ہو۔ اور وہ وکلا اپنے موکل سے بس یہ کہتے رہیں، سائیں نی گھبرائیں نہ بس کچھ ہی دنوں کی تو بات ہے، تب…

جب لطیف کھوسہ جیسے کردار یہ کیس لے کر میڈیا میں بھی ان رہیں۔ میڈیا کا پرائم ٹائم بھی ان کے حصے میں آئے۔ نام بھی کمائیں اور مال بھی تب!

جب انصاف کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا جائے تب۔
اور وہ ماں بھی جانتی ہو کہ آج نہیں کل وہ قاتل رہا ہو ہی جائے گا تب۔
اور وہ ماں بھی جانتی ہو کہ اس کا بیٹا بہت جلد رہا ہوجائے گا تب!

تب وہ ماں جس کا شاہ زیب قتل ہ وجاتا ہے اور قاتل اسلامی قانون کو بیچ میں لا کر صاف بچ نکلتا ہے…
جب انصاف کا پرچم سر نگوں ہو جاتا ہے
تب!
جب ایک باپ اپنے بیٹے کی قبر پر یہ سوچ کر نہیں جاتا کہ جا کر کیا کروں گا ؟!
تب!

جب بہنیں اداس گھروں میں روتی ہیں
اور مائیں رات کی تاریکی میں
تب!

ان ماؤں کے دل جلتے ہیں، اور آنکھوں سے اشک رواں ہوجاتے ہیں۔
اور ان ماؤں کے سینے بابا فرید کی یہ صدا بن جاتے ہیں…

روندے عمر نبھائی
یار دی خبر نہ کائی!

تب لطیف کھوسہ جیسے کردار کسی ٹی وی چئینل پر اپنے موکل کے کردار کو ان الفاظوں میں صاف کرتے نظر آتے ہیں کہ، "جب شاہ رخ جتوئی نے شاہ زیب کو قتل کیا تب وہ بچہ تھا اور پاکستان کے قانوں کی شق نمبر ۔۔۔۔۔۔۔ کے تحت اس پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا!”
تب انصاف کا پرچم سر نگوں ہو جاتا ہے…

اور پھر کبھی نہیں اُٹھ پاتا۔ وہ مائیں کہتی ہیں کہ،
انصاف کا پرچم کبھی سر نگوں نہ ہو!!

Facebook Comments
(Visited 12 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com