مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ایک گولی کا شور!

ایک گولی کا شور!

محمد خان داؤد

وہ پچاس قبیلوں کا سردار تھا۔ پر صبح کی سحر میں چلی ایک گولی نے سب کچھ ختم کردیا۔

وہ پچاس سال سے سیاست میں تھا۔ پر نئے سورج کی کرنوں میں چلی ایک گولی نے وہ پچاس سالہ سیاست کا دور ختم کردیا۔

اس کی عمر پچاس سال سے زائد تھی۔ پر ریوالر کی نالی سے نکل ایک گولی سے وہ عمر بھی اپنے اختتام کو پہنچی۔

اس کی نجی زندگی۔ اس کی سیاسی زندگی۔ اس کی قبیلائی زندگی۔ شور سے محفوظ رہی۔ پر ایک گولی کے شور میں وہ سکوت ٹوٹ گیا جو برسوں پر محیط تھا۔ اب اس کے جانے پر بہت شور اُٹھ رہا ہے۔ نہیں معلوم وہ شور کب تھمے گا؟!
وہ جو شکار کا شوق رکھتا تھا۔ دوست اور احباب کو ساتھ لے جاتا تھا۔ بندوق کی آواز اسے بہت بھاتی تھی۔ زخمی پرندے۔ پھڑپھڑاتے پرندے۔ خون آلود پرندے۔ اسے بہت بھاتے تھے۔ پر کون جانتا تھا کہ وہ بھی ایسے ہی شکار ہوجائے گا جیسے تلور شکار ہوجاتا ہے۔ اور ایک دن اس کی لاش بھی ایسے ہی خون میں لت پت پڑی ملی گی۔ اور اسے کوئی ہاتھ نہیں لگا رہا ہوگا۔ وہ ذاتی ملازم بھی نہیں جو یہ جانتے ہیں کہ صاحب کب غصے ہوتا ہے۔ اور کب خوش۔ اس دن تو وہ بھی اپنی جان بچانے میں پورے تھے۔

انہوں نے تو بس مددگار کو اطلاع دے کر اپنی جان بخشوالی۔ اور وہ اداس لاش اس ہی اسٹڈی روم میں رہی جہاں وہ اخباریں لیے صبح سات بجے داخل ہوتے تھے۔ اور دن چڑھے وہاں سے نکلتے تھے۔ پر اس دن تو وہ اخباریں بھی اس کے خون سے سرخ ہوگئیں۔ دوسرے دن ان ہی اخباروں میں اہلیہ سمیت خون آلود تصویر چھپی۔

وہ میر ہزار خان بجارانی جو اپنے قبیلہ سمیت مزید پچاس قیبلوں کا سردار تھا۔
جو سردار ہونے کے باوجود بہت پڑھا لکھا شخص تھا۔ جس نے اپنی زندگی سیاست کو دے رکھی تھی۔ وہ پچاس سال سے سیاست کی بارونق اور بے رونق وادیوں میں گھوم رہا تھا۔ وہ ذلفقار علی بھٹو کے قافلے میں شامل ہوا۔ اور بلاول تک اس ٹوٹی کشتی میں بھی چلتا رہا۔ جب وہ لوگ بھی اس کشتی سے اتر چکے تھے۔ جنہیں ڈوب جانے کا کوئی خدشہ نہ تھا۔ پر وہ لوگ یہ بات جانتے تھے کہ اگر عین بیچ میں یہ کشتی ڈوب جائے تو؟!

پر میر ہزار خان بجارانی اس ٹوٹی کشتی میں ہی سوار رہا۔ جس کشتی کا ہر روز ایک تکڑا نکل جاتا اور کشتی دولنے لگتی۔ پر میر ہزار خان اس جگہ اپنا ہاتھ، اپنا پیر رکھ دیتے کہ بس کشتی چلتی رہی۔

وہ میر ہزار خان بجارانی جو اپنی زندگی میں چار بار قومی اسمبیلی کا ممبر بنا۔ تین بار وفاقی وزیر بنا۔ تین بار سندھ اسمبیلی کا ممبر بنا۔ سندھ کے مختلف کھاتوں کا وزیر بھی بنتا رہا۔ جو سینٹر بھی بنا۔ پر ایک گولی نے یہ سب ختم کردیا۔

اس ایک گولی نے بس میر ہزار خان بجارانی کو ہی ختم نہیں کیا۔ پر اس ایک گولی نے وہ محبت بھی ختم کر دی جو اس کے سینے میں کسی بچے کی ہنسی کی طرح کھلتی تھی۔ اور اس کو وہاں لے جاتی تھی۔ جہاں بس محبت کا جہاں ہوتا ہے۔

اس ایک گولی نے بس اس کی زندگی ہی ختم نہیں کی۔ پر وہ آنکھیں، وہ دل، اور وہ نین بھی ختم کردیے جن میں محبت کا مسکن تھا۔

وہ ایک گولی جو سرکے ایک پاس سے ماری گئی اور دوسرے پاس سے نکل گئی۔جس گولی نے ایک سوچتے دماغ کو ختم کر دیا۔ جس گولی نے سر کے سفید بال بھی جلا دیے۔ پر اس گولی کا شور کب تھمے گا؟!!!

وہ میر ہزار خان بجارانی جو ہر ویک اینڈ پر اپنے گاؤں جاتے ان بوڑھوں سے ملتے جو اس کے سینئر تھے۔ ان پُرانے گھروں کو دیکھتے جن گھروں کے اُونٹ میں وہ کھیلے۔ جوان ہوئے۔ بڑھے اور بڑھتے ہی چلے گئے۔وہ اُن ووٹروں سے ملتے جو شہر میں اس کا پتا پوچھتے پونچھ جاتے اور اپنے سردار کے بڑے گھر میں رہتے۔ اور انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ
وہ ووٹر ہیں
اور وہ وزیر
وہ قبیلائی ہیں
اور وہ سردار
وہ غریب ہیں
اور وہ امیر!
وہ عام ہیں
اور وہ خاص!
وہ جاہل ہیں
اور وہ قابل

نہیں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ سب فرق اس میر ہزار خان بجارانی نے مٹا دیے تھے۔ جس کی پچاس سالہ سیاسی زندگی میں کبھی کوئی اسکینڈل نہیں بنا۔ وہ جو سیاست میں ایک صاف کردار تھا۔ وہ سفید کپڑے پہنتا اور کبھی ان سفید کپڑوں پر کوئی داغ نہیں لگا۔ پر کون جانتا تھا کہ ان سفید کپڑوں پر ایک دن اس خون کے دھبے رہ جائیں گے۔ جو خون یہ پوچھتا پھرے گا کہ اسے کس نے بہایا؟ اور کیوں بہایا؟!!

اب اس کی لاش وہاں لے جا ئی جا رہی ہے۔ جہاں بہت پُرانے درخت ہیں۔ جہاں وہ لوگ بھی ہیں جو شہر میں اپنے سردار کا پتا پوچھتے تھے۔

اس گھر کو تالا لگا ہوا ہے۔ پر اب بھی اس چلی گولی کا شور باقی ہے۔

Facebook Comments
(Visited 27 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com