مرکزی صفحہ / مباحث / بلوچی زبان میں رسم الخط کی ضرورت

بلوچی زبان میں رسم الخط کی ضرورت

شئے عبدالخالق زامرانی

بلوچی زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے بلوچ ادیبوں اور دانشوروں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق کام کیا ہے اور بلوچی زبان و ادب کو ایک مقام دلانے میں ان کی کاوشیں قابل دید و تحسین ہیں لیکن بلوچی زبان کے رسم الخط کے لیے جو قدم اٹھائے گئے ہیں یا تھوڑے بہت کام کیے گئے ہیں یا ابھی بھی اس پر کچھ حضرات محنت کر رہے ہیں ہمارے ادباء دانشور و ماہر لسانیات اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں وہ بھی قابل ستائش اور ان کی مخلصانہ کوششو‌ں کا نتیجہ ہے. جو زبان کی دیمروئی (ترقی) کے لیے مستقبل میں گہرے اثرات مرتب کرنے میں مفید ثابت ہو گی اور بلوچی زبان کو ایک اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں‌ اہم کردار ادا کرے گی.

بہرحال تمام تر کوششوں کے باوجود بلوچی زبان کی ترقی اور ترویج اِس وقت سے اہم مسئلہ اس کا رسم الخط ہے. بلوچی رسم الخط کے بارے میں بارہا کوشش ہوئے ہیں اور ماضی میں بھی کئی سیمنار اور پروگرام منعقد تو ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں ان پروگرامز میں شاید بہت سے بلوچ ادباء اور دانشور اس عہد کے ساتھ شریک ہوئے ہیں کہ اب اس سلسلہ کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ بلوچی زبان کو ایک رسم الخط دینے میں کامیاب ہوسکے.

مجھے یاد ہے 27 اکتوبر 2002 میں جب بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کوئٹہ کی جانب سے بلوچی رسم الخط ست متعلق ایک سیمینار منعقد کیا تھا اس میں بلوچی زبان کے بڑے ادیب و دانشور اور ماہر لسانیات شرکت فرما تھے. پروگرام کے مہمان خصوصی ڈاکٹر نبی بخش بلوچ تھے اور سیمنار میں بلوچ دانشور مولانا عبدالحق بلوچ، حیکم بلوچ، ڈاکٹر منیر بلوچ، امان اللہ گچکی، محمد بیگ بیگل، ممتاز یوسف، علی رئیسی، عبدالواحد بندیگ، اور جاپان سے Wako University Tokyo کے پروفیسر Murayam Kazuyuki بھی شریک تھے.

اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ دو پرائیویٹ یونیورسٹی نے اردو اور فارسی کے کورسز کا آفر کیا ہے اور Wako University کے ایک پروفیسر بلوچی زبان پر ریسرچ کررہے ہیں اس کے علاوہ جو ادیب سیمنار کا حصہ تھے نے اپنے مقالوں کے ذریعے بلوچی زبان و ادب پر اظہار خیال کیا. اور مسائل کی نشاندہی کی. مجھے حکیم بلوچ کی ایک ہی بات ذہن نشین ہوئی. کہ آج سے تقریباً 30 سال پہلے بھی اس طرح کا پروگرام بلوچی رسم الخط کے بارے میں منعقد ہوا تھا لیکن وہ اس لئے بار آور ثابت نہ ہوا کہ جس میں ہمارے شرکاء ماہر لسانیات اور دانشور حضرات صرف چند الفاظ سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے بلوچی زبان کو ایک مکمل جامع رسم الخط دینے میں کامیاب نہ ہوسکے. اس کے بعد یہ تاثر مل رہا تھا کہ شاید آج سے یہ عہد کررہے ہیں کہ اس سیمنار کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مزید ایسے پروگرام انعقاد کرنے کے عزم کرنے ہوں گے جو بلوچی زبان کو ایک الگ رسم الخط مہیا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے اور پھر وہی 30 سالہ پرانا تاریخ کو نہیں دہرائیں گے.

سیمنار کے اختتام پر مختلف گروپ تشکیل دیئے گئے جوکہ 5 یا 6 افراد پر مشتمل تھے گروپوں میں ایک پیپر کی شکل میں کچھ سوالات درج تھے بحث کے لیے تقسیم کیے جوکہ ان سے رائے لینی تھی مختلف مکتب فکر کی جانب سے رائے کا سامنے آجانا ہم جیسے طالب علموں کے لئے خوشی کی باعث بنی. اور ہم نے متوقع اندازہ یہی لگایا کہ یہ سیمینار معنی خیز نکلے گی. لیکن آج تقریباً 16 سال گزر گئے مگر اس سیمنار کے خاطرخواہ نتائج سامنے نہیں آئے ان سولہ سالوں‌ کے دوران مختلف پروگرام رسم الخط کے موضوع پر ہوئے، سنگت اکیڈمی آف سائنسز نے بھی بلوچی رسم الخط پر ایک جامع پروگرام بنایا ہے اور اس پر کام کررہا ہے.

ڈیڑھ سال قبل 17 اپریل 2016 کو مجھے بلوچ کلب بحرین میں بھی بلوچی رسم الخط کے موضوع پر منعقد ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کا موضوع "رومن پرچہ” (رومن کیون) تھا اس میں بھی ماہر لسانیات اور ادیب تاج بلوچ، ڈاکٹر ناگمان، ضیاء بلوچ اور پروفیسر کارینا جہانی نے آن لائن لیکچر اور مقالے پیش کئے کہ بلوچی زبان کے لیے رومن ہی بہترین رسم الخط ہے جس سے زبان کے وہ الفاظ جو ہم عربی کے حروف تہجی سے ادا نہیں کرسکتے رومن سے اچھی طرح ادا کیے جاسکتے ہیں اور رومن اس کا بہترین حل ہے.

تاج بلوچ اور ضیاء بلوچ کی کتابیں بھی بلوچی زبان میں رومن رسم الخط کو اجاگر کرنے میں بہت اہم ہیں ان تمام جدوجہد میں مصروف ہمارے ماہر لسانیات دانشور کوشش تو کر رہے ہیں لیکن کیا ابھی تک کسی مثبت نتائج پر پہنچے ہیں جو آنے والے وقت میں بلوچی زبان کو ایک رسم الخط دینے میں پر امید نظر آئے اور بلوچی زبان کے وہ تمام زبان زانت (ماہر لسانیات) اور دوسرے ڈائیلکٹ کے لوگوں کو مطمئن کرنے میں بھی کامیاب ہو سکیں‌ گے.

Facebook Comments
(Visited 223 times, 1 visits today)

متعلق شے عبدالخالق زامرانی

شے عبدالخالق زامرانی