مرکزی صفحہ / بلاگ / ایک تلخ خواب کا منظر

ایک تلخ خواب کا منظر

ظریف بلوچ

شام ڈھلنے کے باوجود ہر طرف رش اور شور وغل کی آواز تھی۔ ہر ایک اپنی دنیا میں مگن دوسرے سے بے خبر اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی میں تھا۔ بے ہنگم ٹریفک میں گاڑیوں کے رش کا منظر تھا، سب بے یقینی کی کیفیت سے دوچار تھے۔ ہر ایک دوسرے سے بے خبر اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ ٹریفک کے سگنل رکتے ہی گاڑیوں کے قریب آنے والوں کا رش بڑھتا چلا جا رہا تھا۔

لگ تو یہی رہا تھا کہ ٹریفک کے بند سگنل ان لوگوں کے لیے روزگار کا وسیلہ ہیں۔ کوئی کسی کی گاڑی کو صاف کرتا نظر آیا تو کوئی بھیک مانگتے دعائیں دیتا رہا۔

پھر منظر بدل جاتا ہے اور ٹریفک کا سگنل کھلتے ہی گاڑیوں، بسوں، موٹر بائیک اور رکشوں کی آواز شروع ہو جاتی ہے اور سب جلد منزل پر پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کو کراس کرتے ہوئے ٹریفک قانون کے دھجیاں ہوا میں اڑ رہے ہوتے ہیں۔

شہر کے باسی اپنے گھروں کی طرف جا رہے ہوتے تھے۔ جب کہ پردیسی ہوٹلوں اور ریسٹ ہاؤس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کسی کو دوسرے کی فکر نہیں تھی بلکہ ہر ایک اپنی زندگی میں مگن اپنی منزل کی تلاش میں گم تھا۔ شاید لگ ایسا رہاتھا کہ یہ ایک الگ دنیا ہے۔ جہاں رہنے والے لوگ بھی دوسروں سے الگ ہیں۔ جہاں روز لاشیں بھی گرتی ہیں اور گن پوائنٹ پر لاکھوں روپیے لوٹے بھی جاتے ہیں۔ اور رات کو عیاشیوں میں لاکھوں روپے اڑائے بھی جاتے ہیں۔ پھر بھی چہروں پر خوشی اور غم کے تاثرات عیاں ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک چیز جو منفرد تھی، وہ یہ کہ کوئی دوسرے کی زندگی میں دخل دینے کی بے جا کوشش نہیں کر رہاتھا بلکہ سب اپنی منزل اور راستوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آئے۔

منظر پھر بدل جاتا ہے۔ اب شہر کے سب سے بڑے ہسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں شہر کی سستی سواری کے بجائے کسی رکشہ سے جانا پڑتا ہے۔ منظر رات کا ہو تو یہ شہر ہر طرف روشن نظر آتا ہے۔ کیوں کہ یہ روشنیوں کا شہر ہے اور ایک بار پھر بے ہنگم ٹریفک سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس بار منزل کا پہلے سے تعین کیا گیا تھا۔

مین گیٹ پر رکشہ سے اتر کر رات کو شہر کے بڑے ہسپتال کے اندر داخل ہونے کے بعد یہ سوچا جا رہا ہوتا ہے کہ اب کس کو کہاں ڈھونڈوں۔ ہسپتال کے جس سیکشن میں جانا تھا، معلوم تک نہیں کہ کس کو پوچھ کر اپنے سیکشن تک پہنچوں۔ پاگلوں کی طرح چکر لگا لگا کر تھک چکا تھا۔ تھکن دور کر کے قریب جانے والی کسی حسینہ سے منزل کا پتہ پوچھ کر اور ان کی بہتر گائیڈنگ سے اپنی منزل ملی۔

پھر واپسی کا سفر شروع ہو چکا تھا۔ وہی راستے، وہی بے ہنگم ٹریفک اور شوروغل کے بعد واپس کسی اجنبی کی طرح ہوٹل کے روم میں پہنچ چکا تھا اور سوچ رہا تھا کہ لوگوں نے درست کہا تھا کہ شہر امیروں کو بھی کنگال بناتا ہے۔ غریبوں کے لیے اس شہر میں گھومنے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ جہاں بھی نظر پڑتی ہے ایک الگ منظر کا سماں اور لوگ بھی الگ۔

ہوسکتا ہے کہ ہمارے لیے یہ اجنبی دنیا ہو۔

میں انہی خیالوں سے نکل نہ پایا تھا کہ آنے والی فون کال نے مجھے خواب سے بیدار کیا۔

اب ایک اور منظر کی تلاش میں چلنا تھا؟

Facebook Comments
(Visited 33 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔