مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم "سکندر”

اس ہفتے کی فلم "سکندر”

ذوالفقار علی زلفی

سہراب مودی کا شمار ہندی سینما کے عظیم معماروں میں ہوتا ہے ـ وہ ایک باصلاحیت ہدایت کار ہونے کے ساتھ ساتھ گہرائیوں میں اترنے والے اداکار بھی تھے ـ سہراب مودی کا میدان تاریخ ہے ـ انہوں نے ہندوستان کے مختلف تاریخی واقعات و شخصیات کو کمالِ مہارت سے سینما کے پردے پر پیش کیا ـ

انہی تاریخی فلموں میں سے ایک 1941 کی "سکندر” ہے ـ "سکندر” مسیح کی پیدائش سے تین سو سال قبل ہندوستان پر کیے گئے یونانی جارحیت اور ہندوستانیوں کے دفاع کی شاندار رزمیہ داستان ہے ـ یونانی حکمران سکندر (پرتھوی راج کپور) ایران و توران کی عظیم الشان سلطنتوں کو روندتا ہوا ہندوستان کی سرحد دریائے جہلم پر پہنچتا ہے ـ سکندر کی ٹڈی دل فوج کی ہیبت سے لرز کر ہندوستان کے راجے مہاراجے بنا جنگ کیے سکندر کی اطاعت کا اعلان کر دیتے ہیں ـ ایسے میں پنجاب کا حکمران پورو (سہراب مودی) جذبہ حب الوطنی اور آزادی کے آفاقی اصولوں کے تحت اسے روکنے کا جرات مندانہ اعلان کرتا ہے ـ

سکندر کی لاکھوں کی پُرہیبت فوج اور پورو کی مختصر سپاہ کا کوئی مقابلہ نہیں مگر ہندوستان طاقت کے آگے سر جھکانے کی بجائے عزت کے ساتھ سر کٹانے کا فیصلہ کرتا ہے ـ بظاہر یہ دیوانگی ہے مگر مٹی سے جڑے اولولعزم افراد ایسی ہی دیوانگیوں کا مظاہرہ کر کے تاریخ رقم کرتے ہیں ـ

سکندر خود کو خدا کا عظیم بیٹا گردان کر پورو سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے جب کہ پورو اسے غارت گر، وحشی، کم ظرف اور انسان دشمن قرار دے کر اس کے وجود کو دنیا کے امن کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے ـ پورو کے مطابق کسی انسان کو یہ حق نہیں وہ طاقت کا ناجائز استعمال کر کے انسانوں پر جنگ مسلط کرے ـ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو انسانیت کا تقاضا اس کا راستہ روکنا ہے ـ

گھمسان کی جنگ ہوتی ہے ـ دونوں طرف کُشتوں کے پُشتے لگ جاتے ہیں ـ پورو اس جنگ میں اپنے چھوٹے اور عزیز فرزند امر (ظہور راجا) کو کھونے کے باوجود استقامت کا مظاہرہ کر کے راج کے ہر ایک شخص کو مادرِ وطن کے دفاع پر راغب کرتا ہے ـ غیرمتوازن فوجی قوت کے باعث پورو بظاہر شکست کھا جاتا ہے مگر وہ سکندر کے دربار میں شان سے کھڑے ہو کر کہتا ہے "میرے ساتھ وہ سلوک کیا جائے جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے” ـ وہ سکندر کے دربار میں قیدی ہونے کے باوجود ایک آزاد ہندوستانی حکمران کی طرح سکندر کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے ـ

دوسری جانب پورو کی بہادری اور جرات سے خوف زدہ یونانی سپاہی اندرونِ ہند جانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ جب ہندوستان کا سرحدی حکمران ہمیں ناکو چنے چبوا سکتا ہے تو آگے پتہ نہیں ہماری کیا حالت ہو ـ

سکندر جنگ جیتنے کے باوجود ہار جاتا ہے ـ وہ آگے بڑھنے کا ارادہ موخر کر کے پنجاب کو دوبارہ پورو کے حوالے کر کے لوٹ جاتا ہے ـ

سکندر کی ہوسِ زر اور جہان گیری کی بے لگام خواہش کو بلا کم و کاست بڑی فن کاری سے پیش کیا گیا ہے ـ سکندر کی نام نہاد عظمت کی قلعی کھول کر اس کے غرور، خود سری اور عیاری و مکاری کو عیاں کر کے اسے عظمت کی بلندی سے پستی کی جانب دھکیلا گیا ہے ـ

فلم کا آغاز ایران سے ہوتا ہے جہاں ایک تقریب سے عظیم فلسفی ارسطو کو خطاب کرنا ہے ـ دوسری جانب سکندر اپنی ایرانی محبوبہ رخسانہ (ونامالا) کے ساتھ گلچھرے اڑا رہا ہے ـ استاد کی عورت مخالف تقریر سن کر سکندر اپنے اصلی مقصد ہندوستان کی فتح کے لیے نکلتا ہے ـ

فلم کے اسکرین پلے کو تاریخی و غیر تاریخی واقعات سے ترتیب دیا گیا ہے ـ اسکرین پلے کافی حد تک مضبوط ہے ـ مکالموں کے ذریعے اسے خوب صورت بنانے کی بھی ہر ممکن سعی کی گئی ہے ـ خاص طور پر پورو اور سکندر کے درمیان مکالماتی جنگ خوب صورت ترین مکالماتی سیکوینس ہے ـ اسکرین پلے بہرحال خامیوں سے بھی مبرا نہیں ـ جیسے امبی کے راجہ (کے این سنگھ) کی بہن رتنا (مینا شورے) اور پورو کے بڑے بیٹے تمر (صادق علی) کے درمیان رومانس اضافی نظر آتے ہیں، جس کا فلم کے مرکز سے کوئی تعلق محسوس نہیں ہوتا ـ

اداکاری کا شعبہ سونے پہ سہاگہ ہے ـ بالخصوص پرتھوی راج کپور کی بھاری آواز اور حکمرانوں کا سا انداز اور سہراب مودی کے دلکش اطوار متاثر کن ہیں ـ صادق علی اور ظہور راجا کی اداکاری پر البتہ تھیٹر کی چھاپ نمایاں ہے ـ ویسے بھی یہ فلم 1941 کی ہے ـ اس دور میں سینمائی اداکاری کا چلن عام نہ تھا ـ

کاسٹیوم کے انتخاب میں بھی سہراب مودی کا تاریخی شعور جھلکتا ہے ـ یونانی و ہندوستانی کاسٹیوم کی تفریق سے یہ بھی بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ صرف دو اقوام کی ہی نہیں بلکہ دو متحارب تہذیبوں کی بھی کشمکش ہے ـ تہذیبی تفریق کو رکھشا بندھن کے تہوار اور دیہاتی روایات سے بھی دکھایا گیا ہے ـ

چالیس کی دہائی میں ، ٹیکنالوجی سے محروم ہندی سینما کا یہ کمال ہے کہ اس فلم میں ہاتھیوں اور گھوڑوں پر مبنی جنگی سیکوینس بڑی خوبصورتی سے فلمائے گئے ہیں ـ سینماٹوگرافی اعلیٰ اور قابلِ داد ہے ـ ایکسٹرا اداکاروں کی بڑی تعداد، تلواروں کی جھنکار اور تیروں و نیزوں کی بارش خلاقی کے ایسے مظاہر ہیں جو سراہے جانے کے قابل ہیں ـ

اس فلم کی ریلیز کے وقت ہندوستان کی تحریکِ آزادی زوروں پر تھی ـ فلم میں چھپے آزادی کے پیغام، غیرملکی حکمرانوں کے خلاف عوامی مزاحمت اور آزادی کے ترانوں کے باعث اس نے تحریک آزادی پر گہرے اثرات مرتب کیے ـ انگریز حکمرانوں نے چھاؤنیوں کے علاقے میں اس کی نمائش پر پابندی بھی لگا دی تھی ـ

مزاحمت، آزادی اور وطن دوستی کے نظریات سے لبریز "سکندر” آج بھی اہمیت رکھتی ہے ـ پورو کہتے ہیں کسی کو یہ حق نہیں وہ طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر انسانیت کو خطرے میں ڈالےـ گر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کا راستہ روکنا ضروری ہو جاتا ہے ـ

کیا اس جملے کے دائرے میں آج کے امریکہ و چین نہیں آتے؟ ـ

Facebook Comments
(Visited 39 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔