مرکزی صفحہ / بلاگ / بلوچستان کی سیاسی جدلیات

بلوچستان کی سیاسی جدلیات

ظریف بلوچ

بلوچستان رقبے کے لحاظ ملک کا آدھا حصہ ہے جب کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے۔ قدرتی معدنی اور ساحلی وسائل سے مالا مال بلوچستان کو سیاسی حوالے سے بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔

بلوچستان مشرقی اور مغربی علاقوں پر مشتمل صوبہ ہے جہاں سیاسی پارٹیوں سے زیادہ قبائلی شخصیات کا سیاست پر کافی اثر و رسوخ ہے۔ خاص کر بلوچستان کا مشرقی علاقہ جہاں نسل درنسل سے ایک ہی خاندان کے لوگ اقتدار پر براجمان نظر آتے ہیں۔ بلوچستان کے مشرقی اضلاع میں قبائلی اور سرداری نظام چوں کہ مضبوط ہے، اس لیے وہاں سے زیادہ تر نواب اور سردار الیکشن میں نسل درنسل فاتح ہوتے آ رہے ہیں۔ جب کہ پشتون بیلٹ میں مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) اور محمود خان اچکزئی کی پارٹی پشتوانخوامیپ بھی سیاسی حوالے سے مضبوط ہے۔ جب کہ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں مختلف جماعتوں کا ووٹ بینک اپنی جگہ موجود ہے۔

بلوچ بیلٹ میں بگٹی، مری، جمالی، مگسی، رئیسانی، لانگو، زہری، مینگل اور بزنجو قبائل سیاسی اور قبائلی اثر و رسوخ کی وجہ سے الیکشن جیتتے آ رہے ہیں۔ ساحلی بیلٹ جو کہ مکران اور لسبیلہ کے چند اضلاع پر مشتمل ہے، یہاں لسبیلہ ڈسٹرکٹ میں جام اور بھوتانی خاندان نسل درنسل سے ممبر صوبائی اور قومی اسمبلی منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔ مکران ڈویژن بلوچستان کے دیگر اضلاع سے اس حوالے سے منفرد ہے کہ یہاں قبائلی اور سرداری نظام کا وجود نہیں ہے بلکہ میر و معتبر موجود ہیں، مگر ان کا ووٹ بینک تقسیم ہے۔

مکران تین اضلاع کیچ،گوادر اور پنجگور پر مشتمل ہے جو کہ چھ صوبائی اور دو قومی اسمبلی کی نشستوں پر مشتمل قوم پرست سیاست کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ 2013 کے الیکشن میں شورش زدہ ہونے کی وجہ سے یہاں ووٹ ماضی کی بہ نسبت بہت کم کاسٹ ہوئے۔ سیاسی حوالے سے یہ علاقہ اس لیے اہم ہے کہ یہ مڈل کلاس سیاسی کارکنوں کا علاقہ سمجھا جاتا ہے اور موجود حکومت کے پہلے دور میں نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک مکران سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیراعلیٰ بنے تھے، اور بلوچستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ صوبہ کی وزارتِ اعلیٰ کسی نواب یا سردار کے بجائے کسی مڈل کلاس سیاست دان کو ملی۔

مکران کا قریبی علاقہ جھاؤ، آوارن جو کہ موجودہ وزیر اعلیٰ کا حلقہ انتخاب ہے، یہ علاقہ بھی شورش زدہ ہے۔ جس کا اندازہ سابقہ الیکشن سے لگایا جا سکتا ہے جب میر عبدالقدوس بزنجو 544 ووٹ لے کر یہاں سے ایم پی اے منتخب ہوگئے تھے۔ یہاں اس سے پہلے ان کے والد میر عبدالمجید بزنجو بھی صوبائی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں۔ مشرف دور حکومت میں جب صوبائی اور قومی اسمبلی کےممبر بننے کے لیےگریجویشن کی شرط رکھی گئی تھی تو بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح اسی حلقے سے میر عبدالمجید بزنجو کو اپنے نوجوان صاحبزادہ میر عبدالقدوس بزنجو کو میدان میں اتارنا پڑا جو کہ انگش لٹریچر میں ماسٹر ڈگری کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں بلوچستان اسمبلی کے ممبر بننے والے میر عبدالقدوس اسی حلقے سے بہت کم ووٹ لے کر جیت گئے۔ مشرف دورِ حکومت میں جام یوسف کی کابینہ میں صوبائی وزیر اور حالیہ حکومت کے ابتدائی ادوار میں ڈپٹی اسپیکر بھی رہے ہیں۔

بلوچستان کو سینٹ یعنی ایوانِ بالا کے الیکشن میں دوسرے صوبوں سے کافی فوقیت حاصل ہے کہ یہاں سینٹ کی جنرل سیٹ کے لیے کامیابی کے لیے نو ووٹ درکار ہوتے ہیں جب کہ ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی دوسرے صوبوں سے کم ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ کیوں کہ سینیٹ میں تمام صوبوں کو برابر کی نمائندگی حاصل ہے اور بلوچستان اسمبلی کے ممبران کی تعداد سب سے کم 65 ہے۔ اسی فارمولے کے تحت باقی صوبوں میں الیکشن ہوتے ہیں۔

ماضی کے تناظر سے دیکھا جائے تو یہ تاثر ملتا ہے کہ بلوچستان میں سینٹ کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کے بعض ممبران پارٹی پالیسی کے برخلاف ووٹ دیتے رہے ہیں۔ بلوچستان کے حالیہ سیاسی تناظر میں جہاں سینٹ کے الیکشن بھی بہت قریب ہیں، بلوچستان کی سیاست مزید اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین کا اپنے وزیراعلیٰ کے خلاف بغاوت اور اِن ہاؤس تبدیلی کے بعد اب بلوچستان میں حالیہ مجوزہ سینٹ کے الیکشن میں بھی گروپ بندی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردای کے حب بلوچستان کے جلسہ عام سے خطاب کو بھی آنے والے الیکشن کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کی حالیہ سیاسی تاریخ سے زیادہ تر یہ تاثر ملتا ہے کہ اس صوبے میں کوئی بھی ایک پارٹی بھاری اکثریت حاصل نہیں کر پاتی جس کی وجہ سے یہاں زیادہ تر مخلوط حکومت ہوتی ہے۔ جب کہ بلوچستان میں حکومت بنانے میں آزاد امیدواروں کا بھی اہم رول ہوتا ہے۔

ماضی کے سیاسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ آنے والے مجوزہ الیکشن میں بھی بلوچستان میں کسی ایک پارٹی کے لیے بھاری اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا کیوں کہ بلوچستان میں زیادہ تر نشستیں سیاسی پارٹیوں کی بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 66 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔