مرکزی صفحہ / اداریہ / بلوچستان کی سیاسی ہلچل، اثرات و نقصانات

بلوچستان کی سیاسی ہلچل، اثرات و نقصانات

ایڈیٹر

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی بلوچستان میں راتوں رات جس سیاسی ہلچل کا آغاز ہوا، ماہِ رواں کے تیسرے ہفتے کے آغاز کے ساتھ بظاہر وہ طوفان اب تھمتا نظر آ رہا ہے، لیکن بادی النظر میں اس کے پہلو سے مزید طوفانوں کے درآمد ہونے کی اطلاعات اب تک نہیں تھمیں.

اب تک سابق ہو جانے والے وزیراعلیٰ ثنااللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جس غیرمتوقع طریقے سے جمع ہوئی اور جس خلافِ توقع انداز میں اسے پذیرائی نصیب ہوئی، اسے کسی بھی صورت معمول کا یا معمولی واقعہ جان کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا.

اپنے مخصوص و مضبوط سرداری پس منظر کے باعث ثنااللہ زہری کو ایک مضبوط وزیراعلیٰ سمجھا جاتا رہا ہے. اس لیے ان کے خلاف بالخصوص ایک نسبتا کمزور قبائلی حیثیت کے حامل عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے داخل کی گئی تحریک عدم اعتماد کا جمع ہونا جہاں ایک طرف حیرت کا باعث بنا، وہیں نہایت تیزی سے ان کی اپنی جماعت مسلم لیگ ن کے اہم ترین اراکین، حتیٰ کہ ان کی کابینہ میں شامل وزرا کی جانب سے فوری استعفے اور اس کے بعد منحرف ہو کر اقلیتی ق لیگ کے اراکین کا ساتھ دینا اور پھر انہیں کامیاب بنانا، جہاں کئی سیاسی تبصرہ نگاروں کے لیے حیرت کا باعث بنا، وہیں یہ سب بلوچستان کے مخصوص سیاسی مزاج و حالات کی بھی عکاسی کرتا ہے.

بظاہر اب بلوچستان میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے. ن لیگ کے وزرا اکثریت میں ہونے کے باوجود اس وقت صوبے میں ق لیگ کی حکومت قائم ہو چکی ہے اور کل تک کے حکمران ن لیگی اراکین سمیت، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا میپ اب اپوزیشن بنچوں پر جا چکے ہیں. آواران سے گزشتہ انتخابات میں 544 وٹ سے ایم پی اے منتخب ہونے والے ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو اب سوا کروڑ انسانوں‌کی تقدیر کے نئے مالک ہیں.

گوکہ نئے وزیراعلیٰ کی جانب سے نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد اب صوبے کے انتظامی امور اپنی ڈگر پر اپنا شروع ہو چکے ہیں. مگر آمدہ اطلاعات، مسلسل بدلتی صورت حال کے پس منظر میں کہا جا سکتا ہے راتوں رات اٹھنے اور نہایت تیزی سے تھم جانے والا یہ ہنگامہ آنے والے دنوں میں مزید سیاسی انتشار کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے.

اسمبلی تحلیل کیے جانے کا پروپیگنڈہ اگر محض افواہ بھی ثابت ہو، نئی کابینہ کی پیپلزپارٹی میں‌ شمولیت کی بات درست ہو یا نہ ہو، سیاسی انتشار بہرحال آئندہ انتخابات تک مسلسل قائم رہنے کا یقینی امکان ہے. یہ انتشار نہ صرف موجودہ صورت حال کو غیریقینی بنائے گا بلکہ سینیٹ سمیت آئندہ انتخابات پر بھی یقیننآ اثرانداز ہو گا.

اس تمام تر سرگرمی کا مجموعی نتیجہ یا تاثر جو عوام میں راسخ ہو چکا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بلوچستان میں سیاست اب مکمل طور پر ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی تمام باگ ڈور نادیدہ قوتوں کے ہاتھ میں ہے. حکومت بنانے اور گرانے میں عوام کا کوئی حصہ یا کردار باقی نہیں رہ گیا.

اور یہی اس تمام تر سرگرمی کا ناقابلِ تلافی و ناقابلِ معافی پہلو ہے.

Facebook Comments
(Visited 80 times, 1 visits today)

متعلق ایڈیٹر