مرکزی صفحہ / فلم ریویو / اس ہفتے کی فلم "رامن راگھو 2.0”

اس ہفتے کی فلم "رامن راگھو 2.0”

ذوالفقار علی زلفی

کہا جاتا ہے ساٹھ کی دہائی میں بمبئی کی سڑکوں پر ایک "ہتھوڑا مار” نفسیاتی قاتل گھومتا تھا ـ رامن راگھو نام کا یہ قاتل راتوں کو معصوم افراد کا سر اپنے ہتھوڑے سے کچل دیا کرتا تھا ـ بظاہر 2016 کی ہندی فلم "رامن راگھو 2.0” اسی کی کہانی ہے ـ تاہم ہدایت کار انوراگ کیشپ فلم بین پر اوائل میں ہی واضح کردیتے ہیں یہ کہانی اس کی نہیں ہے ـ پھر یہ کیا ہے؟ ـ

یہ دو افراد کی کہانی ہے ـ ایک ہے نفسیاتی مریض رامن (نواز الدین صدیقی) جس کے نزدیک کسی الوہی طاقت نے اس پر فرض کردیا ہے وہ لوگوں کا سر کچلتا پھرے ـ وہ قتل پر قتل کیے جاتا ہے ـ یہاں تک وہ اپنی اس بہن کو بھی قتل کردیتا ہے جس کی جوانی کو وہ خود لوٹتا رہا ہے اور ساتھ اس کے چھوٹے سے بچے اور شوہر کو بھی ـ دوسرا نشے اور عورت کی لت میں مبتلا پولیس افسر راگھون سنگھ ہے، یہ پولیس افسر بھی اندر سے رامن ہی ہے اسی لئے رامن اسے تلاش کرکے اس تک پہنچتا ہے اور اسے بتاتا ہے وہ اس کا دوسرا حصہ راگھو ہے ـ وہ رامن یہ راگھو، یوں کہانی ساٹھ کی دہائی کے رامن راگھو کے نئے جنم میں بدل جاتی ہے ـ

فلم کے اسکرین پلے کو ہر ممکن حد تک سسپنس میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے ـ حد سے زائد سسپنس ڈالنے کی وجہ سے کہانی وحدت کی بجائے انتشار کی جانب نکلتی محسوس ہوتی ہے ـ انتشار کی وجہ سے کہانی میں بعض مقامات پر جھول پیدا ہوجاتے ہیں ـ جیسے رامن کبھی کہتا ہے وہ بھگوان سے بات کرکے اس کی غلطیوں کو سدھار رہا ہے ـ وہ رام، راون اور سیتا کی کہانیوں کو ایک نئے ڈھنگ سے پیش کرکے خود کو رامائن اور مہا بھارت کے ایک ایسے کردار میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے جس کا وجود اسکرین پلے میں ثابت نہیں ہے ـ آگے چل کر وہ مذہبی رسومات جیسے دسہرا، محرم اور بقرعید منانے والوں پر طنز کرکے انہیں "رامن” قرار دے کر کہتا ہے وہ جرم چھپانے کے لئے مذہب کا سہارا لیتے ہیں جبکہ اپنے متعلق اس کا خیال ہے وہ جرم کو جرم سمجھ کر ، انسانی زندگی کا معمول مان کر کرتا ہے ـ یہاں اسکرین پلے نہ ضمیر کی خلش دکھاپاتا ہے نہ بھگوان کی مبینہ غلطیوں کے سدھار کی جانب اشارہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی پدرانہ یا جنسی بیماری کی جانب اشارہ کرتا ہے ـ

اسکرین پلے ہر چند کافی دلچسپ اور رنگا رنگ ہے ـ فلم بین کے لئے یہ ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ کسی بھی سیکوینس کو غیر ضروری تصور کرکے آنکھ ہٹا سکے ـ بصری حد تک اسکرین پلے کی ترتیب درست ہے لیکن فنی لحاظ سے انوراگ کیشپ اسکرپٹ کے ساتھ انصاف نہ کرپائے ـ

فلم کی سب سے بہترین چیز اس کی اداکاری کا شعبہ ہے ـ اس شعبے کے سرتاج بلاشبہ نوازالدین صدیقی کی بے مثال اداکاری ہے ـ انہوں نے رامن کے کردار کو خود پر اس طرح چڑھادیا ہے کہ شاید بہترین کا لفظ بھی ان کی اداکاری کی تعریف میں ہیچ لگے ـ ڈائیلاگ ڈلیوری میں بھی انہوں نے فن کی بلندیوں تک خود کو پہنچایا ہے ـ پولیس افسر کے کردار میں وکی کوشل بھی ٹھیک ہیں ـ اگر نوازالدین کی اداکاری سے ان کا موازنہ نہ کیا جائے تو ان کی اداکاری بھی سراہے جانے کے مستحق ہے ـ اسی طرح رامن کی بہن کے کردار میں امروتا سبھاش اور راگھو کی گرل فرینڈ کے کردار میں سوبھیتا نے بھی دیے گئے کرداروں سے انصاف کیا ہے ـ

اداکاری کے بعد موسیقی اور سینما ٹوگرافی کے شعبوں کو اہم مانا جاسکتا ہے ـ تھرلر، سسپنس اور خوف کے لمحات کو موسیقی کی مدد سے ہیجان خیز بنانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ـ ممبئی کی گلیوں کی حقیقت نگاری اور چھوٹے چھوٹے خستہ حال مکانوں کے سچ کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے ـ

انوراگ کیشپ ایک تخلیقی اور باصلاحیت ہدایت کار ہیں ـ ان کی خلاقی اس فلم میں بھی چھلکتی ہے ـ انوراگ البتہ رامن راگھو کی کہانی کو کلائمکس تک درست سمت میں رکھنے کی کوشش میں ناکام دکھائی دیے ـ کوئی بھی تخلیق مکمل نہیں ہوتی اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے مگر "رامن راگھو 2.0” میں بہتری کی گنجائش پہلی نظر میں ہی پتہ چل جاتی ہے ـ پہلی نظر کی پکڑ ہی انوراگ کیشپ کی ناکامی بن جاتی ہے ـ وہ اگر سسپنس کو اس قدر برتنے کی کوشش کرنے کی بجائے نفسیاتی عارضوں اور جرم کی سماجی تال میل پر ہی توجہ مرکوز رکھتے تو غلطیوں کی گنجائش یقینی طور پر کم رہتی ـ

ہدایت کاری اور اسکرین پلے میں موجود خامیوں کو نظر انداز کرکے مجموعی فلم کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اسے ایک اچھی اور پراثر کاوش ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ـ ہالی ووڈ کے عظیم ہدایت کار الفرڈ ہچکاک کو اس قسم کی فلموں کا استاد سمجھا جاتا ہے ـ اگر انوراگ کیشپ ان کی ہدایت کاری کو بغور دیکھ کر اس فلم پر خود تنقیدی کرتے تو بہتر ہوتا ـ

فنی خامیوں سے قطع نظر یہ فلم جدید ہندی سینما کی بہترین تخلیقات میں شمار کی جانی چاہیے ـ خاص طور پر نواز الدین صدیقی کی ناقابلِ فراموش اداکاری ـ

غیر اخلاقی مکالموں کے باعث یہ شاید ہمارے سماج میں اہلخانہ کے ساتھ دیکھنے کے قابل نہ ہو ـ متشدد سیکوینسز کی وجہ سے عدم تشدد کے پیروکار یا تشدد کے حوالے سے حساس فلم بینوں کی طبعیت بھی مکدر ہوسکتی ہے اس لئے انہیں اس فلم کو دیکھنے کا مشورہ نہیں دوں گا ـ

Facebook Comments
(Visited 24 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔