مرکزی صفحہ / خصوصی حال / وزیراعلیٰ بلوچستان کا آبائی علاقہ کتنا ترقی یافتہ ہے؟

وزیراعلیٰ بلوچستان کا آبائی علاقہ کتنا ترقی یافتہ ہے؟

شبیر رخشانی

آواران میرا آبائی علاقہ ہے۔ یہیں میں نے آنکھیں کھولیں. یہیں سے میں نے بچپن کے دن گزارے. یہیں سے بچپن کی یادیں سمیٹیں۔ تیس سال آدھی سے زیادہ عمر ہوتی ہے۔ عمر کے تیس سال یہیں صرف کیے۔ آدھی سے زیادہ عمر میں جو چیز میرے مشاہدے میں آئی اور جو میں نے محسوس کیا وہ تھی غربت۔ غربت نے اس سماج سے کبھی بھی اپنا ناطہ نہیں توڑا۔ آج بھی حالات وہی ہیں جو کل تھے کچھ نہیں بدلا۔ اگر بدلا تو عوام کے ووٹوں سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے عوامی نمائندوں کی تصویریں۔ علاقے کے حالات اب بھی ویسے ہیں جو کل تھے بلکہ غربت نے احساسِ محرومی کو جنم دیا اور احساسِ محرومی نے شورش کو۔ آئیے آپ کو اس بدقسمت ضلع کے ان حکمرانوں کا قصہ سناتے ہیں جو برسر اقتدار آئے اور اقتدار ہی کے مزے لوٹتے رہے۔

1986 میری پیدائش کا سال ہے ایک سال قبل میر آدم جان بزنجو اور میر عبدالکریم بزنجو ششک کی جنگ لڑتے ہوئے شہید کیے جاتے ہیں۔ تو کسان مزدوروں میں میر عبدالکریم اور آدم بزنجو کے خاندان کے لیے ہمدردی جاگ جاتی ہے۔ 1985 کے جنرل الیکشن میں شہدا کے کزن میر عبدالمجید بزنجو کو صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب کراتے ہیں. 1988 میں ایک بار پھر سے جنرل الیکشن منعقد کیے جاتے ہیں۔ آواران اس وقت خضدار کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ میر عبدالمجید بزنجو پی بی 32 خضدار III سے الیکشن لڑتے ہیں اس الیکشن میں عوام انہیں دوبارہ ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں۔ 1990 کے الیکشن میں وہ پھر اسی سیٹ پر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ 1992 میں یہ علاقہ کولواہ سے آوران بن جاتا ہے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے اس علاقے کو ضلع کے اختیارات مل جاتے ہیں۔ آواران ہی اس کا ہیڈکوارٹر بن جاتا ہے۔ 1993کے جنرل الیکشن میں وہ مسلسل چوتھی بار کامیاب ہو کر ایک ریکارڈ قائم کرتے ہیں یوں یہ سیٹ ان کی وراثت میں آ جاتی ہے۔ پے درپے کامیابیوں کے بعد 1996میں انہیں میر اسلم گچکی سے شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پھر مشرف دور حکومت آ جاتا ہے۔ الیکشن کا سلسلہ تھم جاتا ہے۔ 2003 کے جنرل الیکشن میں میر عبدالمجید بزنجو کے بیٹے میر عبدالقدوس بزنجو مسلم لیگ ق کی طرف سے بطور امیدوار کھڑے ہوتے ہیں۔ عوام اسلم گچکی کی کارکردگی سے خائف دکھائی دیتے ہیں۔ یوں عبدالقدوس بزنجو کامیاب قرار پاتے ہیں۔ لیکن 2008 کے الیکشن میں وہ میر اسلم گچکی کے بیٹے قمبر گچکی (جسے والد کے خون معاف کے عوض الیکشن میں کھڑا کیا جاتا ہے) کے سامنے میر عبدالقدوس بزنجو ہار جاتے ہیں۔ اس ہار میں اس کی گزشتہ اسمبلی میں غیرتسلی بخش کارکردگی کو گردانا جاتا ہے۔ 2013 کے الیکشن خوف کے سائے میں منعقد کیے جاتے ہیں عوام رائے دہی کے لیے باہر نہیں نکل پاتے۔ الیکشن کے بجائے سلیکشن ہوتی ہے۔ میر عبدالقدوس بزنجو 544 ووٹ لے کر کامیاب قرار پاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور حکومت میں وہ ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر فائز ہوتے ہیں۔ ثنااللہ زہری کے دور میں وہ یہ سیٹ چھوڑ دیتے ہیں۔ نواب ثنااللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک چلتی ہے۔ میر عبدالقدوس بزنجو پیش پیش ہوتے ہیں اور نواب ثنااللہ زہری عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے سے پہلے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں اور نئے وزیراعلیٰ کے لیے میر عبدالقدوس بزنجو کا نام سامنے جاتا ہے۔ اور وہ اپنے مدمقابل کو شکست سے دوچار کر کے وزیراعلیٰ‌ کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں.

میر عبدالقدوس بزنجو کی وزارت اعلیٰ کے طور پر نامزدگی کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی. وہ بحث یہ ہے کہ 544 ووٹ لے کر منتخب ارکان وزرات اعلیٰ کے عہدے کے لیے کیسے اہل ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان میں سب کچھ جائز ہے کے تحت چل رہا ہے اور یہ سارا کچھ ایک فارمولے کے تحت ہو رہا ہے۔ یقیناً سوالات تو اٹھیں گے کہ ایک جونیئر وزیر کو جو 544 ووٹ لے کر ارکان اسمبلی منتخب ہوا ہو وہ وزارت اعلیٰ کے عہدے پر کیسے فائز ہو سکتے ہیں۔۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اس سے اہم سوال یہ کہ اس سے قبل اسی حلقے سے منتخب رکن میر عبدالقدوس بزنجو اور ان کے والد میر عبدالمجید بزنجو نے اپنے حلقے کی فلاح و بہبود کے لیے کون سے اقدامات اٹھائے تھے کہ اب وہ وزارت اعلیٰ کی پوزیشن پر براجمان ہو کر پورے صوبے کے لیے کریں گے۔ ہم نے آواران سے منتخب ارکان اسمبلی کا مختصر سا خاکہ آپ کے سامنے پیش کر دیا اب ان کے آبائی علاقے کی زمینی حالات کا جائزہ لیتے ہیں.

2013 کے جنرل الیکشن کو لے کر بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ مزاحمت کاروں کی جانب سے اس الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کیے تھے. جس کا زیادہ اثر آواران میں‌ ہونے والے الیکشن پر پڑا تھا. جس کی وجہ سے کم ووٹ پڑے تھے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امیدواروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر الیکشن میں حصہ لیا تھا اور 544 ووٹ لینے والے رکن اسمبلی کو داد کا مستحق سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے کہ آواران کی موجودہ صورتحال اور مزاحمت کاروں کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ عوامی نمائندوں کی سابقہ پالیسیوں کا ہی ثمر ہے کہ ایک طرف خوف کا ماحول تو دوسری جانب آواران کے عوام نے رائے دہی میں حصہ لینے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ آواران میں بڑھتی ہوئی غربت، صحت و تعلیم کی مخدوش صورتحال اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نوجوانوں کو مزاحمت پر آمادہ کیا۔ اور ان سب کے پیچھے مقتدر حلقوں کی وہ پالیسیاں ہیں جو انہوں نے آواران میں رواں رکھیں۔ نمائندہ اراکین نے ضلع کی صحیح صورت حال کی عکاسی نہیں کی اور نہ ہی ضلع کی ڈویلپمنٹ پہ کام کیا جس سے بہتری کے آثار پیدا ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ 2013 کے الیکشن میں اول تو خوف کی فضا اور دوسری جانب سے نمائندوں کی پرانی روش اور پالیسیوں نے عدم دلچسپی کا میدان عوام کے لیے کھلا چھوڑ کر رکھ دیا۔

آواران کی تحصیل جھاؤ کو اس حوالے سے منفرد حیثیت حاصل ہے کہ میر غوث بخش بزنجو کا جنم اسی علاقے میں ہوا۔ آواران کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر میر عبدالمجید بزنجو اور ان کے بیٹے میر عبدالقدوس بزنجو برسر اقتدار آئے اور اب بھی ہیں۔ موجودہ ضلعی چیرمین میر نصیر بزنجو کا تعلق بھی جھاؤ سے ہے۔ جھاؤ ہی سے تعلق رکھنے والے خیرجان بلوچ دو بار ضلعی ناظم بنے اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور حکومت میں وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے پولیٹیکل سیکرٹری بنے۔ آواران کے مقتدر حلقے کا تعلق گو کہ جھاؤ سے رہا لیکن جھاؤ اب بھی وہی جھاؤ ہے۔ جھاؤ اب بھی بدحالی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ تعلیم اور صحت کا نظام موجود ہی نہیں۔ روزگار کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کھیتی باڑی سے ہونے والی آمدن قرض کی مد میں چلی جاتی ہے۔ پورے ضلع میں انفرا اسٹرکچر کا نظام موجود نہیں۔ جھاؤ اس وقت بلوچستان کا شورش زدہ علاقہ کہلاتا ہے۔ شورش کی بنیادی وجوہات میں جھاؤ کی زمینی صورت حال ہے۔ جس کو اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔

بلوچستان میں حالیہ سیاسی اتھل پتھل کو کامیابی گردانا جا رہا ہے, میر عبدالقدوس بزنجو کی نامزدگی کو سراہا جا رہا ہے۔ دیکھنا ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں اپنے آبائی علاقہ جھاؤ کے لیے کچھ کیا کچھ کر پاتے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 76 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani