مرکزی صفحہ / مباحث / زینب کا وحشیانہ قتل اور قاتل نظام

زینب کا وحشیانہ قتل اور قاتل نظام

نادر گوپانگ

یہ اپنی نوعیت کا نہ کوئی پہلا واقعہ ہے نا آخری اور اس طرح کا جذباتی ردعمل بھی پہلے کئی مرتبہ نظر آیا ہے۔ دکھ بھرے رویے سے لے کر غمگین نظموں تک اور غم و غصے سے لے کر عبرت دلانے والی سزاؤں کی مانگوں تک، بھی بارہا دیکھ چکا ہوں. پھر انہی جذبوں کو روزمرہ کے امور کی آگ میں جلنے کا نظارہ بھی کر چکا ہوں۔ اس طرز عمل پہ آپ لوگوں کو دوشی ٹھہرانے کے لیے بھی میرے پاس کوئی جواز نہیں ہے. میرے نزدیک، آپ لوگ اس وقعے کے ذمہ دار بھی نہیں ہیں ، ظلم و زیادتی، جبر اور وحشیانہ پن پر مبنی اس واقعے پر آپ کی طرح میں بھی غم والم اور شدید کرب سے سرشار ہوں ، ان تمام بچوں کے چاہنے والوں اور انسان دوستوں کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں. لیکن میں چاہتا ہوں کہ اگر ہم لوگ اس طرح کے سنگین نوعیت کے حادثات کو اپنے معاشرے سے ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں جذباتیت پر مبنی سطحی بیانات اور رد عمل کے طور پر ناکافی حل سے ہٹ کر ان گھمبیر حالات کا تفصیلی تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے. تاکہ ہم ا ن محرکات کو سمجھنے کے اہل ہوں جن کی وجہ سے معصوم زندگیاں درندگی کی دوزخ میں جل رہی ہیں. کیونکہ جب تک ہم اس بیماری کی وجوہات سے آگاہ نہیں ہوں گے تب تک علاج ممکن نہیں ہے۔

ایسی کیا وجوہات ہیں آخر کہ ایک انسان جو اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتا ہے، اس حد تک چلا جاتا ہے کہ اس کے کرتوتوں کے آگے درندگی بھی ماندپڑ جاتی ہے؟ کیا اس کا ضمیر اسے کچوکے نہیں لگاتا؟ ایسا کرنے سے وہ پہلے وہ مر کیوں نہیں جاتا؟ کیا اسے لعنت ملامت سے ڈر نہیں لگتا؟ کیا سخت سزائیں نہ ہونے کی وجہ سے ایسے واقعات نظر آتے ہیں؟ اس طرح کے سینکڑوں سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں جن کے جوابات تلاش کرنا اور ان کے مطابق حکمت عملی طے کرنا ہمارا فریضہ ہے اگر ہم دلی طور پر اس مسئلے کاحل چاہتے ہیں۔

کوئی بھی معاشرہ انسانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوگا تو وہاں پر لازمی طور پر معاشرتی بگاڑ، اخلاقیات میں گراوٹ، جذبوں میں کھوکھلا پن، مصنوعی رشتے، انتشار ، غیر یقینیت، وحشیانہ رویے، بوکھلاہٹ اور تیزی سے بڑھتے ہوئے جرائم پیدا ہوں گے۔ بنیادی ضروریات میں خواراک، رہائش، تعلیم، صحت ، انصاف ، حفاظت اور سیکس وغیرہ شامل ہیں. ہمارے معاشرے میں غربت، بیروزگاری اور معاشی مسائل کی وجہ سے کروڑوں افراد اپنی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے دن رات ایڑیاں رگڑ رہے ہیں. ہر لمحہ ایک اذیت سے کم نہیں ہے۔

انسانی تہذیب کی عمارت دراصل فرد کے ضمیر کی بنیادوں پر کھڑی ہے جو انسانی جبلی خواہشات کو لگام دینے کے لیے ہر وقت سرگرداں رہتا ہے. تاکہ ایسی خواہشات جو معاشرے کی مروجہ اخلاقیات کے خلاف ہوں انہیں دبایا جا سکے اور کسی بھی بگاڑ سے معاشرے کو بچایا جاسکے. فرد کے ضمیر کی تعمیر میں معاشرے کی اخلاقیات، خاندانی تربیت اور سکولوں کی تعلیم کا اہم کردار ہوتا ہے. ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ فرد کی جبلی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر جائز وسائل مہیا کئے جائیں. اگر کسی بھی صورت میں ان خواہشات کی تکمیل نہ ہو سکے تو انسان میں نفسیاتی طور پر گھٹن پیدا ہو جاتی ہے. جو معاشرے کی مروجہ اخلاقیات سے بغاوت کرنے پر اکساتی ہے اور کسی بھی جائز ناجائز طریقے سے اپنی تکمیل کی خواہاں ہوتی ہے. سیکس کا تعلق بھی انسان کی جبلت سے ہے جب کسی بھی فرد کی جنسی ضرورت پوری نہیں ہوگی تو وہ جنسی گھٹن کا شکار ہو جائے گا اور کسی بھی طرح اس کی تکمیل کی کوشش کرے گا. چاہے معاشرے کی اخلاقیات کوذبح ہی کرنا پڑے اس کے لیے سب سے اہم اس خواہش کی تکمیل ہوگا. یہاں پر باقی مسائل پر تو بات کی جاتی ہے لیکن اگر نہیں کی جاتی تو جنسی ضرورت کی تکمیل اور اس حوالے سے درپیش مسائل کے بارے میں۔

اس سماج میں جنسی ضرورت کی تکمیل کے لیے ایک ہی طریقہ درست تصور کیا جاتا ہے جس کاحصول شادی کے ذریعے ممکن ہے لیکن معاشی مسائل کی وجہ سے بہت سارے افراد کے لیے شادی کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے، ایسے افراد پھر جنسی گھٹن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جنسی تعلیم کی عدم فراہمی، غلط معلومات اور پورنوگرافی کے باعث جنسی تصورات اور حقیقت میں جنسی عمل کے درمیا ن بڑھتے خلا کی وجہ سے شادی شدہ لوگ بھی جنسی طور پر ناخوش اور کج روی کا شکار نظر آتے ہیں جس کے نتیجے میں جنسی گھٹن کے گڑھے میں گر جاتے ہیں، جنسی گھٹن پر گفتگو کرنا اس معاشرے میں شجر ممنوعہ ہے. اس طرح کے واقعات کی سب سے بڑی وجہ تو جنسی گھٹن ہے جو نفسیاتی بیماریوں اور ریپ وغیرہ کی شکل میں اپنا اظہار کرتی ہے۔

اس کے علاوہ جاوید اقبال کی طرح سائیکو پیتھک شخصیات بھی ہوتی ہیں جو نفسیاتی بگاڑ کا شکار ہوتی ہیں. کچھ دن پہلے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی کتاب اپنا قاتل پڑھنے کا موقع ملا جو انہوں نے جاوید اقبال سے ملاقاتوں اور اس مسئلے پر تحقیق کے بعد لکھی تھی، ان کے مطابق سائیکو پیتھک شخصیات کے بننے میں موروثی ، حیاتیاتی، نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں، ایسے لوگ اخلاقی پاگل پن کا شکار ہوتے ہیں. نفسیاتی طور پر احساسِ شرم اور احساسِ جرم سے عاری ہوتے ہیں اور معاشرتی طور پر غیرقانونی اور غیر اخلاقی حرکات کرتے رہتے ہیں ، یہ بات اہم ہے کہ سائیکو پیتھک شخصیت کے مالک افراد غیرقانونی اور غیر اخلاقی حرکات کرتے ہیں لیکن ایسی حرکتیں کرنے والے سب لوگ سائیکو پیتھ نہیں ہوتے۔ سائیکو پیتھک افراد چونکہ عام لوگوں کی طرح ہی ہوتے ہیں اور زیادہ تر چھپ کر وار کرتے ہیں اس لئے ان کو پہچاننا بھی مشکل کام ہے کیوں کہ ان میں سے کئی افراد تو معاشرے میں عزت یافتہ پیشوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے پیشوں میں کامیاب ہوتے ہیں. ان کا علاج کرنے سے بھی لوگ گھبراتے ہیں اور یہ بات ابھی تک ایک معمہ ہے کہ انہیں قتل کردینا چاہیے یا ان کا علاج کرنا چاہیے. لیکن ایسی شخصیت کے وجود میں آنے کے لیے جو سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی محرکات ہیں ان کو کنٹرول کرتے ہوئے اس امر کو محدود کیا جا سکتا ہے. ایسے لوگوں سے حفاظت کے لیے بچوں کو جنسی تعلیم اور ایسے واقعات سے بچاؤکیلیے تربیت دی جانی چاہیے جو ہمارے معاشرے میں ندارد ہے۔

پسمانگی، جہالت اور غیر انسانی رویوں کے پیش نظر کچھ لوگ انتقام کی بنیاد پر بھی ایسے وحشیانہ اقدام اٹھاتے ہیں. خاندانی جھگڑوں اور ذاتیات پر مشتمل لڑائیوں کی وجہ سے بھی آسان ٹارگٹ کے طور پربچوں کو جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ بچپن میں اس طرز کا کوئی واقعہ درپیش ہوا ہو تو ان میں سے کچھ افرادمعاشرے سے انتقام کے طورپر اس طرح کے گھناؤنے اقدام بھی کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط افراد بھی جنسی حوس مٹانے کیلیے اپنی طاقت کے بل بوتے پر بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں اور اس طرح کے ظالموں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں جس طرح قصور اسکینڈل میں ایک ممبر صوبائی اسمبلی کا ہاتھ تھا۔

کسی بھی نظام کا مقصد لوگوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل اور درپیش مسائل کا حل کرنا ہوتا ہے. موجودہ سرمایہ دارانہ نظام جس بھونڈی شکل میں ہمارے سماج پر مسلط کیا گیا اور بحران کی کیفیت میں لوگوں کو بنیادی ضروریات سے محروم کرتے ہوئے معاشرے کو ایسی بھیانک صورتحال میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں بیگانگی سے لے کر دہشتگردی اور بھوک سے لے کر وحشیانہ جرائم تک انسانوں کا مقدر بن چکے ہیں. یہ نظام اپنے نامیاتی بحران کی وجہ سے بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے کیونکہ اس کا مقصد انسانی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ چند افراد کے منافعوں میں بے پناہ اضافہ کرنا ہے۔ معاشی نظام میں گراوٹ کی وجہ سے معاشرہ، سیاست، ثقافت، اخلاقیات غرض ہر شعبہ ہائے زندگی گراوٹ اور پراگندگی کا شکار ہے، اس نظام میں رہتے ہوئے انصاف ممکن نہیں ہے کیونکہ عدلیہ کے موجودہ فیصلوں سے ہم دیکھ چکے ہیں کہ انصاف سرمایہ دار طبقے کی لونڈی بن کے رہ گیا ہے۔ سخت سزا سے بھی ان مسائل کا مستقل حل نہیں کیا جا سکتا جب تک ان مسائل کے عوامل کو جڑ سے اکھاڑ کے نہ پھینکا جائے. جب تک جنسی گھٹن پر بات نہیں کی جائے گی. اس کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جائیں گے. تب تک اس طرز کے واقعات دیکھنے کو ملیں گے۔ بنیادی انسانی مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ ہم اس قاتل نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں جو انسانوں سے انسانیت چھیننے کے در پے ہے. اس طرح ہم نہ صرف اس نسل کو بلکہ آنے والی نسلوں کو غیر انسانی اور وحشیانہ رویوں سے بچا سکتے ہیں، جس کیلئے سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ عملی جدوجہد بے حد ضروری ہے۔

Facebook Comments
(Visited 52 times, 1 visits today)

متعلق نادر گوپانگ

نادر گوپانگ
مصنف کا تعلق ملتان سے ہے اور سیاسیات کا طالب علم ہے۔ سیاسی، سماجی، نفسیاتی اور تاریخی موضوعات کا مطالعہ کرنےر لکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔