اے قاتلانِ شب!

محمد خان داؤد

وہ دن کی روشنی میں شکار کی تاڑ میں رہتے ہیں۔ کبھی اُن پٹی پرانی جُگیوں میں جاتے ہیں ۔ جو جُگیاں اُن رلیوں سے بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ جو سندھ کی غریب عورتیں اپنا نور دے کر ایک ایک قطرہ کر کے وہ اُن رلیون کو سیتی ہیں۔ سندھ کی وہ غریب عورتیں بس وہ رلی جو کپڑی کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ بس ان پر سوئی دھاگے سے اپنے ہاتھوں سے باریک اور بڑے ٹوپے ہی تو نہیں لگاتیں. پر وہ اُن سیتی رلیوں میں اپنے نور کو بھی اُن ٹانکوں میں سے لیتی ہیں جو وہ ٹانکے اُن رلیوں پر لگا رہی ہوتی ہیں۔ پر ظلم تو جب ہوتا ہے جب کسی وڈیرے کی بیوی کو اُن غریب سندھی عورتوں کی وہ رلیاں پسند آجاتی ہیں تو وہ اُن رلیوں کو مفت میں ہی لے جاتی ہیں۔ وہ وڈیریان یہ بات کبھی نہیں جان پائیں گے کہ وہ بس سوئی دھاگے اور نئے کپڑے سے بنی رلیاں ہی نہیں پر ان رلیوں میں اُن غریب عورتوں کا نور بھی شامل تھا۔ وہ اُن رلیوں میں ٹانکتی رہی ہیں۔ اسی بات کو سندھ کے دادلے شاعر حسن درس نے محسوس کیا تھا اور لکھا تھا کہ
،،ھُن رلی ٹھائے نور نچوڑیو
سابہ وڈیری ء کھے تہ ونی وئی
سا بہ وڈیری مفت کھنی وئی!،،

،،اُس نے اپنا نور نچوڑے جو رلی بنائی، وہ بھی اُس وڈیری کو پسند آگئی، وہ بھی وہ مفت لے گئی!،،

جب ان پرانی رلیوں کو پھینکا جاتا ہے۔ جس سے وہ جگیوں میں بنتی ہیں۔ انہی جگیوں میں وہ جسنی شکاری دن کو اپنا شکار ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ اُن شکاریوں کی نظر اُن بچیوں پر جاتی ہیں جن کے تن پر پورا لباس بھی نہیں ہوتا۔ وہ تیزی سے جوان ہو رہی ہو تی ہیں۔ اُن کے لبوں پر رخسار کھل رہی ہو تی ہیں۔ اُن کی چھاتیاں غربت ہونے کے باجود ایسے کھلیں ہوئی ہوتی ہیں کہ جیسے سانوال گلاب۔ کیوں کہ وہ جوان ہو رہی ہو تی ہیں۔ پر اُن کے لباس پر پورے کپڑے نہیں ہوتے ۔ وہ غریب ہوتی ہیں۔ مفلسی اُن کے ہاں صدا کی مہمان ٹھرتی ہے۔ وہ ادھ ڈھکے۔ ادھ کھلے گریبان سے ان جگیوں، اُن کھیتوں ، اُن کھلیانوں، اُن پگنڈیوں، اُن گلیوں، اُن نئے اور مختصر بازاروں، اُن کچے دکانوں، کچے کیے گرتے مکانوں، اور ڈھلتے سورج میں اُن رستوں سے گزرتی ہیں جو رستے وہاں سے ہوتے وڈیرے کی اوتاق تک جاتے ہیں۔ اور وہ اُن وڈیرے ، سرداروں، میروں ، پیروں، نوابوں، با اثر لوگوں کے وہ زلیل ترین نوکر ملاز کمدار ان ذلیل ترین وڈیروں کی اولاد کے لیے اس سانولی رنگت والیوں بچیوں سے رات کے لیے شکار چنتے ہیں۔ اور رات کو ان کی اُن جگیوں سے آکر ایسے اُٹھاتے ہیں جیسے وردی والے اُن دماغوں کو اُٹھاتے ہیں اور اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ جن دماغوں کا بس یہ قصور ہوتا ہے کہ وہ سوچتے ہیں۔

وہ وڈیروں کی کمینی اولاد اُن ان سانولی رنگت والی معصوم بچیوں کو پوری رات نوچتے ہیں۔گدھ بن کر انہیں کھاتے ہیں۔ جب جی بھر جاتا ہے۔ تو کسی جی جان بخشی ہوجاتی ہے۔ اور کسی کو مقدس سینے میں۔ مقدس اس لیے کہ اُن سینوں پر کعبہ کے دو میناروں جیسے منبر بھی تو ہوتے ہیں!

اُن منبروں سے مبرہ سینے پر گولیاں داغ دی جاتی ہیں۔ اور اُن اداس لاشوں کو ان نہروں میں پھنیک دیا جاتا ہے۔ جو نہریں ان معصوم بچیوں کے نصیب کے جیسے بلکل خشک ہوتی ہیں۔ اور ان مردہ جسموں کو دن کی روشنی میں کتے کھاتے نظر آتے ہیں۔

جن کے سینوں پر گولیاں نہیں برستیں۔ انہیں اس لیے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ذلیل نسل انہیں دوبارہ پھر سے چھکے۔ پر جب وہ دوبارہ اُن کے ساتھ نہیں جاتی۔ کوئی مذمت کرتی ہیں تو انہیں وہ نوابوں کی کمینی اولاد اپنے ساتھ زبردستی لے جاتی ہے۔ پھر جو ہوتا ہے۔ اُس کے لیے حسن مجتبیٰ نے لکھا تھا کہ
،،وارث شاہ ایتھے کیہ کیہ وِکدا
وِکدا وچ بزار
قبراں وِکدیاں
قبراں و چوں بول وی وِ کدے
یاری وِکدا
اوہدے گل دا ہار وی وِکدا
عشق دا ورقہ ورقہ وِ کدا
وِکدے قول قرار
وارث شاہ۔۔۔۔۔
ہٹیاں وِ کدیاں
جٹیاں وِ کدیاں
رنگ وی وِ کدا
جھنگ وی وِ کدا
ہیراں وِکدیاں
رانجھے وِ کدے
وِکدا تخت ہزار
وارث شاہ۔۔۔۔۔۔

اور سندھ کا پرنٹ میڈیا تو بہت ہی کمینہ اور چاپلوسی میڈیا ہے ۔ وہ اُن لوگوں کا ہے جو وڈیروں کے لوگ ہیں۔ اور سردار میر پیر بھوتار وڈیرے یہ اسمبلی ممبران بھی ہیں۔ یہ اخباری مالکان ان کے ساتھ بنا کے رکھتے ہیں اگر وہ اُن کے ساتھ بنا کے نہیں رکھیں گے۔ تو اُن اخبارات کو اشتہار کون دے گا۔ب ھلے سے وہ سندھ کا مقبول ترین اخبار ہو یا بلکل یلو پیپر ، ڈمی پیپر ان پیپر ز میں اتنی جرات ہی نہیں کہ یہ ان کیسز کو اجاگر کریں۔ ان اخبارات میں تو اتنی بھی جرات نہیں کہ یہ بس ان وڈیروں اور ان کی ذلیل ترین نسل کا جو یہ جرم کرتے ہیں۔ بس ان کا نام ہی چھاپیں۔ جتنا بھی بڑا جرم ہوتا ہے۔ ان اخباروں کے منہ ہی کالے ہوتے ہیں اور ان پر اگر ایسی خبر شائع ہو بھی جاتی ہے۔ تو بس اتنا لکھتے ہیں کہ ،،با اثر لوگ، با اثر افراد!،،
سندھ پوچھتا ہے یہ ،،با اثر لوگ کون ہیں؟!،،

پر سندھ نہیں پوچھے گا۔ کیوں کہ سندھ میں نہ تو عقل ہے۔ اور نہ ہی شعور اور وہ سانولی رنگت والی بچیاں ان وڈیروں کی اولاد کی حوس کا نشانہ بنتی ہی رہیں گی!
سندھ ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ روزانہ بہت سے ایسے کیس ہوتے ہیں پر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ کیسے رپورٹ ہوں یہاں کا پرنٹ میڈیا تو ان وڈیرون کی لونڈی ہے۔ یہاں کا پرنٹ میڈیا وہ گھوڑا ہے جسے گھاس ہی یہ وڈیرے فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ ایسے کیس رپورٹ کریں تو گھوڑی کی گھاس ہی بند ہوجائے گی۔

ایسا ایک تازہ واقعہ سکر کے علاقے صالح پٹ کے گوٹھ لڑھا بکار میں پیش آیا ہے۔ جس میں کئی لوگوں نے ایک معصوم بچی کو جنسی زیادتی کے بعد پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ اور وہ ان سردیوں میں ایسے جلتی رہی جیسے آگ میں پڑی لکڑیاں جلتی ہیں۔ پر وہ کوئی لکڑی تو نہیں تھی۔ وہ سندھ کی ایک معصوم بیٹی تھی۔ پر اُس رات سکر نے دیکھا کہ نظراں کیسے شعلے شعلے بن کر جل رہی تھی۔ اور کوئی اسے نہیں بچا رہا تھا۔ وہ جب تک جلتی رہی جب تک کہ وہ خاک نہ ہوئی، اور خاک جلا نہیں کرتی۔

دوسرے دن اخباروں نے وہی رپورٹ کیا انہیں کہا گیا تھا
،،بااثر افراد،با اثر لوگ!،،

ایک سندھ بااثر لوگوں کو پتا پوچھتا ہے۔ دوسرا سندھ خاموش ہے۔ اور چھاپڑا ہوٹلوں میں دیپکا پڈکون کا ادھ کھلا جسم دیکھ رہا ہے۔ آدھا کپ چائے پر پورا دن ہوٹل کی نظر کر رہا ہے۔ اور حسرت سے اُن لوگوں کو دیکھ رہا ہے جو سگریٹ پینے کی عیاشی کر رہے ہیں۔
یہ وہ قاتلانِ شب
ہیں
جنہیں کوئی نہیں پکڑتا
نہ میڈیا، نہ عدالتیں
نہ پولیس
نہ سندھ کا شعور!

تو ہم ایسے صدمے میں حسن مجتبیٰ کا یہ پرسوز دل گداز گیت کیوں نہ گائیں کہ
،،ایتھے شکر دو پہری وِ کدی
شاماں وِ کدیاں نیں
دن وی وِ کدے
راتاں وِ کدیاں
ایتھے جگر!جگراتے وِ کدے
نندراں وِ کدیاں
سفنے وِ کدے
سفنیاں دے وچ
سجن وکدے
وارث شاہ ایتھے۔۔۔۔!!!

Facebook Comments
(Visited 15 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com