مرکزی صفحہ / خصوصی حال / اردو بلاگنگ ویب سائیٹس کے مدیران کا حال

اردو بلاگنگ ویب سائیٹس کے مدیران کا حال

شبیر رخشانی

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اب بلاگنگ ویب سائیٹس کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر ادارے کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی باقاعدہ ویب سائیٹ ہو جس کے ذریعے وہ اپنی کمپنی کی پراڈاکٹ کی تشہیر کر سکے اور بیچ سکے۔ منافع بخش ادارے اس کام کو اپنے لیے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ ویب سائیٹس کی لانچنگ سے کمپنی اور کسٹمر کے درمیان گیپس ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ جو نئی پراڈکٹ مارکیٹ میں آئی اس کی اشتہار سازی نہ صرف الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے کی جاتی ہے بلکہ کمپنی اپنی ویب سائیٹس کے ساتھ ساتھ دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کے ذریعے اس کی پروموشن بھی کرتی ہے۔ یہ سارا کچھ ایک منافع بخش کاروبار کو چلانے کے لیے کیا جاتا ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی اس فیکلٹی میں نیا اضافہ اردو نیوز اور بلاگنگ ویب سائیٹس ہیں۔ یہ وہ ویب سائیٹس ہیں جو رضاکارانہ بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ جن کا کام تحریروں کے ذریعے مکالمے کی راہوں کا تعین کرنا ہے۔ اور عام افراد میں مکالمہ سازی کی راہوں کو وسعت دینا ہے۔ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ یہ لوگ ویب سائیٹ کن بنیادوں پر چلا رہے ہیں؟ ایک ویب سائیٹ کو چلاتے ہوئے ویب سائیٹ مدیر کن کن امور کا خیال رکھتا ہے اور ویب سائیٹ کو کتنا وقت دیتا ہے۔

مدیر کے لیے سب سے پہلا کام ویب سائیٹ کو لاگ ان کرنا ہوتا ہے۔ لاگ ان ہونے کے بعد وہ ای میل کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ای میل کو کھنگالتا ہے۔ چونکہ مضامین اور خبروں کی بھرمار ہوتی ہے, وہ ان مضامین کی چھانٹی کرتا ہے۔ کون سے مضامین اور خبریں اہم ہیں اور کون سی غیر اہم ہیں۔ سب کی ایک ایک کر کے خبر لے لیتا ہے پھر اسے ویب سائیٹ کی زینت بناتا ہے۔ مضامین کا انتخاب، انتخاب کے بعد ایڈیٹنگ، پروف ریڈنگ، اپلوڈنگ، تصاویر کا انتخاب، شیئرنگ وغیرہ یہ وہ مرحلے ہوتے ہیں جن سے ایڈیٹر کو گزرنا پڑتا ہے۔ تب ایک مخصوص تحریر سامنے آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایڈیٹر کو دنیا سے باخبر رہنے کے لیے خود کو باخبر رکھنا پڑتا ہے۔ تازہ ترین کیا چل رہا ہے۔ وہ دیگر ویب سائیٹس کو وزٹ کرتا ہے۔ اہم خبریں جمع کرتا ہے۔ انہیں ویب سائیٹ کی نذر کرتا ہے۔ یہ سارا کام کرتے ہوئے ایڈیٹر کو وقت دیکھنا پڑتا ہے۔ وقت نکالنا پڑتا ہے۔ مضامین کو ترتیب دینا پڑتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت کثیر تعداد میں اردو بلاگنگ ویب سائیٹس کام کر رہی ہیں اور اکثر ایسی ہیں جو رضاکارانہ بنیاد پر کام کر رہی ہیں۔ اس کام کے عوض وہ صرف داد ہی سمیٹتے ہیں انہیں اس کام کا معاوضہ نہیں ملتا۔ ان ویب سائیٹس میں ’’ ہم سب‘‘،’’ نقطہ نظر سجاگ‘‘ ، ’’حال حوال‘‘، ’’مکالمہ‘‘، ’’اک روزن‘‘، ’’دانش‘‘، ’’ گفتگو‘‘ اور دیگر بے شمار ویب سائیٹس شامل ہیں جو رضاکارانہ بنیاد پر مکالمے کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ اب ان اداروں کی خاصیت ہے کہ نہ صرف انہوں نے مکالمے کی راہیں کھول دی ہیں بلکہ لکھاریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ تمام تر صورتحال اپنی جگہ موجود ہے ہم یہاں پر چند ویب سائیٹس کے مدیران کی آرا آپ کے سامنے رکھتے ہیں کہ وہ کس طرح ویب سائیٹ کو وقت دیتے ہیں روزانہ کتنا وقت نکالتے ہیں, یہ کتنا دقت طلب کام ہے, کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے؟

اصغر زیدی آن لائن اردو ویب سائیٹ ’’ سجاگ ‘‘ کے مدیر ہیں۔اس ویب سائیٹ کا آغاز دو سال قبل ہوا تھا۔ ویب سائیٹ کا بنیادی مقصد لوگوں کے سامنے متوازی بیانیہ پیش کرنا ہے۔ تاکہ لوگ سماجی اور سیاسی معاملات پر کھل کر لکھ سکیں اور لوگوں کے سامنے تصویر کا اصل رخ پیش کرنے کی کوشش کرسکیں۔ درجنوں کے حساب سے لکھاری سجاگ کے لیے اپنی تحریریں بھیجتے ہیں۔ درجنوں لکھاریوں کی یہ تحریریں وہ اور ان کے ایک اور ساتھی محمد فیصل ٹھکانے لگتے ہیں۔ گو کہ اس کام کو کرتے ہوئے وہ ادارے سے معاوضہ لیتے ہیں۔ لیکن اس کام کے لیے وہ روزانہ کی بنیاد پر آٹھ گھنٹے دیتے ہیں ۔ بسا اوقات جو مضامین رہ جاتے ہیں وہ اسے گھر میں بھی وقت دے دیتے ہیں۔ یہ کام کرتے ہوئے انہیں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی سوال میں نے ان کے سامنے رکھا۔ تو ان کا کہنا تھا’’ صاف لکھی ہوئی تحریر کی ایڈیٹنگ، سبنگ، تصاویر کے انتخاب اور ایڈیشن پر کم سے کم ایک گھنٹہ صرف ہوتا ہے۔ بعض مضامین چار سے پانچ گھنٹے لے لیتے ہیں۔ ویب سائیٹس کے اور بھی بہت سے باریک کام ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ان پیج میں تحریر بھیجتے ہیں جس کی ورڈ میں کنورجن کرنا ہوتی ہے جو ایک سہل کام نہیں ہوتا ہے جو کبھی کبھار کام بھی نہیں کرتا۔ ورڈ میں بھیجے ہوئے مضامین کی سبنگ بڑا مسئلہ ہے۔ کامے، ڈیش، اعراب، پنکچویشن کے دوسرے ہنر اپنی پالیسی اور ویب سائیٹ کے مطابق استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ ورڈ میں لفظوں کی اسپیسنگ کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بعض اوقات سپیسنگ کا مسئلہ حل کرنے میں 40 سے 50 منٹ لگتے ہیں‘‘۔

’’ ہم سب‘‘ پاکستان کی سطح پر ایک بڑا آن لائن ادارہ بن کر سامنے آیا۔ قلیل وقت میں ادارے نے بے شمار کامیابیاں سمیٹیں۔ اور بڑے بڑے لکھاریوں کو اپنے پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب ہوا۔ ویب سائیٹ کا آغاز جنوری 2016 کو ہوا۔ ادارے کے لکھاریوں کی تعداد 1300کے قریب ہے۔ ویب سائیٹ کے مدیر اعلیٰ وجاہت مسعود ہم سب کی لانچنگ سے قبل’’ دنیا پاکستان‘‘ ویب سائیٹ سے منسلک رہے تھے۔ بعدازاں اس ادارے سے ناطہ توڑ کر ایک نئی ویب سائیٹ ہم سب بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ادارے کا مقصد لوگوں میں مکالمے کا رجحان پیدا کرنا تھا۔ ویب سائیٹ کو کس طرح وقت دیتے ہیں اور کن بنیادوں پہ چلا رہے ہیں, یہی سوال میں نے ویب سائیٹ کے مدیر عدنان کاکڑ سے کیا۔ ’’ ایک مضمون لگانے میں 30 منٹ لگتے ہیں۔ اگر مضمون بالکل صاف ہو تو بھی اسے ایڈٹنگ اور اپلوڈنگ میں 15منٹ لگتے ہیں‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس وقت تقریباًً تمام اردو بلاگنگ سائیٹس کچھ خاص نہیں کما رہی ہیں۔ سب ہی رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں اوراس کام کو کرتے ہوئے شوق کا عمل دخل شامل ہے۔

’’حال حوال‘‘ پہلا آن لائن اردو جریدہ ہے جس نے بلوچستان کی سطح پر کام کرنا شروع کیا۔ اور بہت جلد بلوچستان کی سطح پر اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوا۔ ویب سائیٹ کے پاس اس وقت کثیر تعداد میں لکھاریوں کی ایک کثیر موجود ہے جو حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں۔ حال حوال ویب سائیٹ کا مطمع نظر ہی یہی تھا کہ بلوچستان کی سطح پر سنجیدہ اور بامعنی مکالمے کا آغاز کیا جائے۔ حال حوال نہ صرف اردو میں بلکہ بلوچستان کی قومی زبانوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ جس کے لیے براہوئی اور بلوچی سیکشن بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ٹیم سات افراد پر مشتعمل ہے۔ اور یہ ساتوں رضاکارانہ بنیاد پر وقت دیتے ہیں۔ ویب سائیٹ کو شروع کرنے میں کون سے عوامل کا عمل دخل شامل تھا۔ رضاکارانہ بنیاد پر ویب سائیٹ کو وقت کیسے دے پاتے ہیں۔ یہی سوال میں نے ویب سائیٹ کے اعزازی مدیر عابد میر سے کیا, ’’ ہم نے بلوچستان میں آن لائن میڈیا کا ایک سپیس دیکھا۔ سو کود پڑے۔ بطور ذمہ داری کے اسے محسوس کیا اور اب تک اسے بطور فریضہ نبھا رہے ہیں۔ یہ سارا کام رضاکارانہ بنیادوں پر ہو رہا ہے۔ عموماً بلاگنگ ویب سائیٹ کے لیے ایک ایڈیٹر کو مختلف اوقات میں اوسطًً تین سے پانچ گھنٹے دینے پڑتے ہیں۔ ایک مضمون کی ایڈیٹنگ اور اپ لوڈنگ میں 15 سے 25 منٹ درکار ہوتے ہیں۔ ہم دن میں 10 سے 15 مضامین اقر خبریں اپلوڈ کرتے ہیں۔ بسا اوقات حالات کے پیش نظر یہ لمٹ بھی کراس ہو جاتی ہے۔‘‘

’’ایک روزن‘‘ ایک اردو آن لائن ویب سائیٹ ہے۔ اسے اسلام آباد کی سطح پر چند دوست مل کر چلا رہے ہیں اور سب باقاعدگی سے اور رضاکارانہ طور پر کام رہے ہیں۔ ویب سائیٹ میں زیادہ تر سماجی اور ادبی موضوعات ہوتے ہیں۔ خبروں کو بہت کم اسپیس دیا جاتا ہے۔ ویب سائیٹ کے مدیر یاسر چھٹہ کے سامنے میں نے وہی سوال رکھے جو دیگر ویب سائیٹس کے مدیران کے سامنے رکھے تھے تو ان کا کہناتھا ’’ ایک روزن کو بطور خاص خبروں سے متعلق ویب سائیٹ تو نہیں کہا جا سکتا۔ ہماری خبروں کی کوریج 1فیصد مواد سے بھی کم ہوتی ہے۔ پر ایسی خبر جو ہماری معاشرت، معاشرے، ہماری مشترکہ دنیا پر اثر انداز ہوتی ہو ہم اسے پیجز پر جگہ دیتے ہیں۔ کسی بھی مواد کی ایڈیٹنگ، اپلوڈنگ اور پوسٹنگ میں 35 سے 45 منٹ لگتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم کافی حد تک احتیاط و ذمہ داری کا احساس کر کے پوسٹوں اور مضامین کی اپلوڈنگ کا کام کرتے ہیں۔

کسی بھی ویب سائیٹ کو چلاتے ہوئے اس کی بھاری ذمہ داری مدیر کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ وہ نہ صرف ویب سائیٹ کے معاملات پر نظر رکھتی ہے بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات و واقعات سے اسے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رہنا پڑتا ہے۔ ویب سائیٹ ایڈیٹر چینلز کے برعکس بریکنگ نیوز کے چکر میں نہیں پڑتا۔ بلکہ مکمل خبر و تفصیلات کا انتظار کرتا ہے۔ تب اسے اپنی ویب سائیٹ کا حصہ بنا لیتا ہے۔ چونکہ وہ رضاکارانہ بنیادوں پر ویب سائیٹ چلا رہا ہوتا ہے۔ تو اس کا وقت اور ویب سائیٹ کے مالی اخراجات بھی رضاکاریت کے زمرے میں آتے ہیں۔ ویب سائیٹس چلانا ایک آسان کام نہیں بلکہ ایک مشکل اور دیر پا کام ہوتا ہے۔ جس کے لیے مستقل مزاجی چاہیے ہوتی ہے۔ یہ ویب سائیٹ مدیر کا خاصا ہے کہ نہ صرف وہ خود متحرک رہتا ہے بلکہ ٹیم کو متحرک رکھ کر ساتھ لے کر چلتا ہے۔

لکھاری کا کام لکھنا ہوتا ہے۔ وہ اپنے لکھنے کی حد تک باخبر رہتا ہے جب کہ ایک قاری پڑھنے کی حد تک, لیکن دونوں اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ ایک ویب سائیٹ کو چلاتے ہوئے یا کسی مضمون کی ایڈیٹنگ سے لے کر اپ لوڈنگ میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے اور مدیر کو کن مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس سے متعلق لکھاری اور قاری دونوں انجان ہیں۔

اس مضمون کا مقصد یہی تھا کہ لکھاری اور قاری کے سامنے ویب سائیٹ ایڈیٹر کا ایک خاکہ بیان کیا جائے جس میں اس کے کام کی تفصیلات ہوں اور ان کی مشکلات سے آگاہی ہو۔

Facebook Comments
(Visited 32 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani