مرکزی صفحہ / بلاگ / کیچ، صحت و تعلیم کی تباہ حالی کا نمونہ

کیچ، صحت و تعلیم کی تباہ حالی کا نمونہ

یلان زامرانی

درج ذیل تصویر کسی ٹھیکیدار کے کرائے میں لیے گئے مزدوروں کی نہیں بلکہ یہ بلوچستان کے ایک سابقہ مڈل طبقہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ بلوچستان کے حلقہ تربت سٹی کے اندر، ان کے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر واقع گورنمنٹ پرائمری اسکول جوش محلہ سنگانی سر کیچ کی ہے، جہاں طلبا خود ریت اور بجریوں میں لت پت اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے مزدوری کر رہے ہیں.

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کیچ سٹی ایریاز میں واقع سرکاری اسکولوں میں تو اس تعلیمی ایمرجنسی کے اثرات و ثمرات نمایاں طور پر ظاہر ہوتے مگر افسوس کہ جب تربت سٹی کا یہ حال ہو تو پھر باقی بلوچستان اور تربت کے دیہی علاقوں کا اللہ ہی حافظ ہے.

یہ اس سرزمین کے فرزند ہیں جس پر دنیا کی نظریں اس وقت جمی ہیں اور جو 700 کلومیٹر طویل ساحل کی مالک ہونے کے ساتھ ساتھ سیندک، کوئلے اور سوئی گیس کی بھی سرزمین ہے. ضلع کیچ مکران کا ہیڈکوارٹر ہونے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی دوسری بڑی آبادی بھی ہے.

یہ صرف ایک کہانی کی ہلکی سی جھلک ہے، ایسی کہانیاں نہ صرف کیچ تربت میں عام ہیں بلکہ بلوچستان بھر کی کہانی اس سے بہتر نہیں. بلوچستان جو ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بھی محرومیوں اور غربت کے شکنجے میں پھنسا ہے، واقعی ضلع کیچ میں سڑکوں کا جال بچھایاگیا لیکن تعلیم سے لے کر صحت کے مسائل جوں کے توں ہیں.

کیچ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سماجی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تربت کے سرکاری سول ہسپتال میں سہولیات کا شدید فقدان ہے اور بیماروں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے جب کہ پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی عوام مطمئن نہیں، میڈیکل اسٹورز مالکان دواساز کمپنیاں اور ڈاکٹروں کا آپس میں ففٹی ففٹی کے حساب سے کاروبار چل رہاہے.

جب کہ تعلیمی ایمرجنسی کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں. جن کا پول ابھی کھل کر سامنے آ چکا ہے.

Facebook Comments
(Visited 55 times, 1 visits today)

متعلق یلان زامرانی

یلان زامرانی
کیچ کے رہائشی یلان زامرانی قلمی نام سے لکھتے ہیں۔ "رُژن" کے نام سے ایک ماہنامہ بھی چھاپتے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی، سماجی مسائل ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہیں۔