مرکزی صفحہ / بلاگ / زینب زیادتی کیس اور پاکستانی معاشرہ

زینب زیادتی کیس اور پاکستانی معاشرہ

برکت اللہ بلوچ

پنجاب کے ضلع قصور میں آٹھ سالہ معصوم زینب کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعہ کے بعد ملک بھر میں غم وغصے کی ایک لہر دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ملک کے کونے کونے سے لوگ اپنے غم و غصے اور ہمدردی کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ زینب کے آبائی شہر قصور کی نہ صرف فضا سوگوار ہے بلکہ پرتشدد مظاہروں، دھرنوں اور ہڑتالوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان پرتشدد مظاہروں میں پولیس کی فائرنگ سے دو افرادکے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ جس کے بعد لوگوں کے غم و غصہ میں مزید تیزی آئی ہے۔

پاکستان میں کئی سالوں سے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خاص طور پر پنجاب اس فہرست میں نمایاں نظر آتا ہے۔ سماجی تنظیم ساحل کی جانب سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سال 2017 کے پہلے چھ ماہ کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 768 واقعات پیش آئے۔ جن میں سے 68 ضلع قصور سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ پنجاب خصوصا ضلع قصور میں ان واقعات کا گراف کتنا زیادہ ہے۔ 2015 میں منظرعام پر آنے والا قصور کا بدنام زمانہ ویڈیو اسکینڈل بھی لوگوں کو یاد ہوگا جس میں کمسن لڑکوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ان کے ویڈیو بھی بنا لیے گئے تھے اور ان ویڈیو کے ذریعے ان کے گھر والوں کو بلیک میل کر کے پیسے بٹورے گئے تھے۔

2016 میں بھی جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں ضلع قصور سرفہرست رہا ہے۔ جس میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے کل 141 کیسز میں سے99 جنسی تشدد، ریپ اور قتل کے تھے۔

2017 میں ضلع قصور میں اغوا کے بعد ریپ اور قتل کے 12 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ جب کہ زینب کی گمشدگی سے ایک ماہ قبل کائنات نامی بچی بھی لاپتہ ہوئی تھیں جسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جو اس وقت قصور کے ہی ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
زینب زیادتی کیس قصور میں سال 2018 کا پہلا واقعہ ہے اور یوں 2017 اور 2018 کے درمیان پیش آنے والے واقعات کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔

لیکن زینب سے قبل پیش آنے والے ان گیارہ واقعات کا نہ لوگوں کو کوئی خاص خبر ہے اور نہ ہی ان کیس میں ملوث درندہ صفت مجرمان کو گرفتار کرنے اور سزادلانے میں پولیس نے کوئی کردار ادا کیا اور نہ ہی میڈیا اور سول سوسائٹی نے ان واقعات پر اس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کیا تھا۔

یقینا آج زینب کے دلخراش واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل رنج وغم میں ڈوبا ہوا ہے۔ آج اس واقعے کے خلاف ملک کے کونے کونے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور "زینب کو انصاف دو” کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ مین اسٹریم میڈیا پر اس خبر کو نمایاں کوریج مل رہی ہے اور سوشل میڈیا پر باقاعدہ کمپین کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔

یقینا ہر ذی روح انسان اس واقعہ پر غمزدہ ہے اور ہرایک کی خواہش ہے کہ زینب کے ساتھ ظلم کے پہاڑ توڑنے والے اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں اور زینب کے لواحقین کو انصاف ملے۔

لیکن کیا ایک سال قبل چار دسمبر 2016 کو اس قسم کا پہلا واقعہ پیش آنے پر بھی ہم نے اس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کیا تھا؟
کیا ان گیارہ بچیوں یا ان کے والدین کی ہم نے کبھی خبرگیری کی ہے جو 2017 میں اس قسم کی درندگی کا نشانہ بنے تھے؟
کیا ان واقعات کو اسی طرح میڈیا نے کوریج دے کر آسمان سر پہ اٹھایا تھا؟ کیا ان واقعات میں متاثرہ بچیوں کے لیے کوئی ملالہ، شوبزنس کے ستارے اور کھلاڑی میدان میں آئے تھے؟

کیا اس وقت سول سوسائٹی کی جانب سے قانون سازی اور مجرموں کو قرار واقعی سزادینے کے مطالبات سامنے آئے تھے؟
کیا ان واقعات میں قتل کیے گئے کسی ایک بچی کی نمازہ جنازہ میں طاہرالقادری کو دیکھا گیا تھا؟ کیا ان بچیوں کے لیے کسی عمران خان یا زرداری نے مذمتی بیانات جاری کیے تھے؟ کیا ان متاثرین کے گھر پر خادم اعلی کی صبح پانچ بجے آمد ہوئی تھی؟
بحیثیت سماج ہم جذباتی ہونے کے ساتھ چڑھتے سورج کے پجاری بھی ثابت ہوئے ہیں۔

یہ تو زینب کے والدین کی خوش قسمتی ہے کہ ان کا تعلق ایک مذہبی سیاسی تنظیم سے ہے جس کی بنا پر ان کے بچے کی نماز جنازہ میں ان سے پہلے اس تنظیم کے سربراہ پہنچ چکے تھے اور والدین کی آمد سے قبل ہی زینب کی نمازِجنازہ پڑھائی گئی تھی۔ اور قصور میں اس واقعہ کے بعد پیش آنے والے تمام ردعمل میں اس تنظیم کے کارکنوں اور ذمہ داران کا کردار بھی نمایاں تھا۔

یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر زینب کے والدین کا تعلق کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے نہ ہوتا تو اس واقعہ کو اتنی کوریج یا پذیرائی ملتی؟ کیا بحیثیت قوم ہم صرف ان واقعات کے خلاف آواز اٹھانے کے روادار ہیں جو کسی گروپ یا شخصیت سے منسوب ہوں۔ کیا کسی اثرورسوخ اور سیاسی سپورٹ سے مبرا بچی کو اس قوم کی بیٹی ہونے کا حق حاصل نہیں۔ اور اس کے ساتھ زیادتی کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری نہیں بنتی۔

اگر چار دسمبر 2016 کو کائنات کے ساتھ زیادتی کیس میں بھی اس طرح کا ردعمل سامنے آتا اور مجرموں کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دی جاتی تو یقینا زینب سمیت ان گیارہ بچیوں کی عصمتیں اور زندگیاں محفوظ بنائی جا سکتی تھیں۔ لیکن افسوس کہ نہ اس وقت سول سوسائٹی نے کوئی کردار ادا کیا نہ میڈیا نے آسمان سر پہ اٹھایا اور نہ ہی حکومت نے کوئی ایکشن لیا۔

یہ بھی اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے حکمران لاتھوں کے بھوت ثابت ہوئے ہیں اور جب تک دھرنوں ، مظاہروں اور املاک کو نقصان پہنچانے کی نوبت نہ آئے حکمران ٹس سے مس نہیں ہوتے شاید ہی دنیا میں ہمارے حکمرانوں سے ذیادہ بے حس اور لاپرواہ حکمران کہیں اور ہوں گے۔

بحیثیت قوم ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم وقتی ردعمل دکھانے کے بجائے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے منصوبہ سازی کریں۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ ان معاملات پر کھل کر بات کریں، انھیں اعتماد دیں کہ وہ اپنے مسائل ان سے کھل کر شیئر کر سکیں۔ اپنے بچوں کو اچھائی اور برائی کی تمیز دیں اور ان پر بھروسہ رکھیں تاکہ آنے والے وقت میں کوئی بھی زینب ایسی درندگی اور سفاکیت کا نشانہ نہ بنے۔

Facebook Comments
(Visited 54 times, 1 visits today)

متعلق برکت اللہ بلوچ

برکت اللہ بلوچ
برکت اللہ بلوچ گوادر یوتھ فورم کے سربراہ ہیں نہ صرف گوادر کے نوجوانوں لیے اس فورم پر آواز بلند کرتے ہیں ان کے مسائل پر قلم کشائی بھی کرتے ہیں۔