مرکزی صفحہ / بلاگ / کل کے معمار

کل کے معمار

اشرف بلوچ

جناح ہسپتال میں کچھ دن گزارنے پڑے ویسے پہلے بھی کافی دفعہ وہاں جانے کا اتفاق ہوا. مختلف قسم کے مناظر دیکھنے کوملتے ہیں. مریضوں سے لے کر ان کے تیمارداروں تک سب انگشتِ بداندان نظر آتے ہیں. مختصراً ایک عجیب سماں دیکھنے کو ملتا ہے. لیکن وہاں ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جوکہ بظاہر نا مریض ہیں اور نا ہی تیماردار اور نا ہی وہ ہسپتال میں کسی عملے کے لوگوں میں سے شمار ہوتے ہیں لیکن ہمیشہ وہ ہسپتال کے ہر کونے میں پھرتے نظر آتے ہیں اور ان کی وہاں موجود ہونے کی وجہ شاید معاشی مرض ہی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی سبب بظاہر نظر نہیں آتا. ویسے تو پوری عوام اس مرض کی لپیٹ میں ہے اور ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اس مرض کی علاج کروانے میں مصروف ہے. اور شاید اس گروہ نے بھی کسی سوچ و بچار کے تحت اپنی مرض کی علاج کیلئے وہاں ہسپتال کا رخ کیا ہے اور شاید انہوں نے یہی سوچا ہوگا کہ پوری عوام اس ہسپتال میں آکر اپنی مفت علاج کرواتی ہے تو ہم بھی اپنی اس مہلک مرض سے جان چھڑوانے میں کامیاب ہوجائیں۔

یہ مریضوں کی ایک ایسی ٹولی ہے کہ جس میں زیادہ تر نوجوان اور نو عمر بچے مبتلا نظر آتے ہیں جنہوں نے اس کی علاج کے لیے وہاں کا رخ کیا ہے. ہر ایک نے ایک بڑی چائے کی کیتلی کے ساتھ ایک چھوٹی بالٹی بھی ہاتھ میں تھما ہوا ہوتا ہے جس میں ڈسپوزیبل پیالے اور کیک سلائس رکھے ہوئے ہوتے ہیں. کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہاتھوں میں پانی کی چھوٹی بوتلیں اور جوسز کے ڈبے لئے پھرتے نظر آتے ہیں. ہر ڈپارٹمنٹ کے سامنے جاکر چائے، پانی یا جوس کی آواز لگا رہے ہوتے ہیں. اور وہ اپنے مرض کا علاج کروانے میں اتنا ہی کامیاب نظر آتے ہیں جتنا کہ ہسپتال کے اندر دیگر جسمانی مریضوں کی علاج ہے۔ ان مریضوں میں سے ایک نوعمر مریض نذیر احمد بھی شامل ہے جس نے دوسرے معاشی مریضوں کی طرح اپنی بیماری کی علاج کیلئے ہسپتال کا رخ کیا تھا۔ ہم زبان ہونے کی وجہ سے اس سے تھوڑی سی مگر افسردہ گفتگو ہوئی۔

وارڈ سے باہر انتظار گاہ ہے جہاں ہمیشہ لوگوں کی بڑی ہجوم بیٹھی ہوتی ہے اور نذیر جیسے لاتعداد مریض ان سے شفا پانے کیلئے وہاں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔ میں اپنی ایک رشتہ دار کے ساتھ اسی ہجوم میں بیٹھا تھا کہ ایک نو عمر لڑکا وہی کیتلی اور بالٹی کے ساتھ ہمارے پاس آکر چائے چائے کی آواز لگائی تو میرے ساتھی نے مجھے بلوچی میں پوچھا کہ چائے پیئیں‌گے؟ میں نے کہا نہیں۔ تو وہ لڑکا انتہائی معصومانہ انداز میں بلوچی میں کہنے لگے کہ یہاں غیر بلوچ مجھ سے چائے لیتے ہیں لیکن آپ لوگ اپنے بلوچ ہو کر بھی مجھ سے چائے نہیں لے رہے۔ مجھے لگا کہ شاید یہ مارکیٹنگ کا حربہ چلاکر اپنی چائے بیچنا چاہتا ہے پھر میں نے سوچا کہ یہ نو عمر کہاں کا ایم بی اے یا چارٹرڈ اکاونٹینٹ کا پڑھا ہوا لگتا ہے کہ اپنی چائے بیچنے کیلئے مارکیٹنگ کا حربہ چلائے گا ؟ بہر حال جیب سے اجازت مانگے بغیر میں نے اس کو ایک کپ چائے کا کہہ دیا۔ جیسے ہی اس نے کپ نکالی تو میں نے پوچھا کہ کونسے بلوچ ہو؟ اس نے جواب دیا بگٹی بلوچ ہوں۔ پھر میں نے کہا پیارے یہ آپ کی پڑھنے کی عمر ہے یہاں کیا کر رہے ہو؟

میری اس بات نے اس کو ایک لمحے کیلئے خاموش تو کردیا مگر اس خاموشی اور چہرے پر جو تاثرات اور جذبات میں نے دیکھے تو اپنی کہی ہوئی بات پر شرمندگی ہوئی۔ میں نے یہ بھی سمجھ لیاکہ اس کے اندر پڑھنے کا جدت کتنا ہے؟ اور اپنے گریبان میں جھانکاکہ گاؤں میں میرے اپنے بھائی سمیت ہزاروں نو عمر بچے اسکول کیلئے تڑپتے ہیں لیکن بھلا ہو غربت کا وہ وہاں تک نہیں پہنچ سکتے. میں نے اس سے یہ کیوں پوچھا. اب میرے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا لیکن اس نے افسردگی کی حالت میں کہا "میں کیسے پڑھوں؟ میری پیدائش سے پہلے میرے ابو انتقال کرگئے تھے۔ علاقائی حالات کے سبب میرا خاندان علاقہ بدر ہوکر سندھ آئے. وہاں بھی گزارہ نہیں ہورہا تھا تو پھر میں نے اپنے چچا ذاد بھائی کے ساتھ کچھ کمانے کیلئے کراچی کا رخ کرلیا اور مشکل کام ہم نہیں کر سکتے۔ باقی سارے خاندان والے حیدرآباد میں ہیں۔ ایک چچا ہے وہ وہاں گھر سنبھالتا ہے میں یہاں اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ چائے بناکر یہاں بیچتے ہیں۔ ہمارے پاس یہاں کوئی گھر بھی نہیں ہے اب تم خود بتاؤ اس حالت میں کیا کوئی پڑھ سکتا ہے”؟ اتنے میں میرے ساتھی سے چائے کے پیسہ لے کر ایک بار پھر ارمان لئے چہرے کے ساتھ چائے کی آواز لگا کر وہاں سے چل دیے۔

میں اپنے کیے ہوئے سوال پر شرمندہ اور پشیمان ہوکر سوچ رہا تھا کہ میں نے یہ سوال پوچھا کیوں؟ پھر اپنے آپ کو خود تسلی د ے کر سوچا کہ اور کس سے پوچھوں؟ میری اوقات ہی ان لوگوں سے پوچھنے کی حد تک ہے۔ وہ جو اس سنگین مسئلہ کے زمہ دار ہیں صرف اور صرف اپنے عہدے کی تنخواہ لینے اور کرپشن کرنے تک محدود ہیں۔

یہ کہانی صرف نزیر تک محدود نہیں ہے. لاکھوں کی تعداد میں نزیر جیسے نوجوان غربت سے دست و گریباں ہیں. جہاں دیکھو مستقبل کے معمار اسکولوں سے باہر کسی کچرا کنڈی میں کچرا اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں. کہیں چوراہوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں تو کہیں گلیوں اور بازاروں میں ہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں. کہیں نزیر کی طرح چائے بیچتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کہیں دوکانوں اور ورکشاپوں میں مزدوری کرتے نظر آتے ہیں. یہ شہری صورتحال ہے اور دیہی علاقوں میں حالات اس سے انتہائی بدتر ہے۔

دوسری طرف ماشااللہ، ہمارے حکمران ہیلی کاپٹروں میں سفر کرتے ہیں. ملکی حقیقی صورتحال کو دیکھنے کے لیے وہ نیچے جھانکنے تک کی زحمت نہیں کرتے جب کہ زمینی سفر کے لیے انہیں فرصت ہی نہیں ملتی لیکن بہت ہی خوبصورت نعرے لگاتے ہیں. ان نعروں میں سے ایک نعرہ یہ بھی لگاتے ہیں کہ” آج کے بچے کل کے معمار ہیں” بلکہ وہ تو کہیں اور کل کیلئے معمار بننے کے بجائے بوجھ بن رہے ہیں۔

بہرحال صرف جھوٹے نعروں سے غربت ختم نہیں ہوتی اس کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے. اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو روشن مستقبل کی نہیں بلکہ دھند و تاریک مستقبل کی نشانی ہے اور واقعی مستقبل کو سوارنے کی خصلت ہے تو سب سے پہلے اس کے معماروں کو خوشحال اور جدید علم کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے.

Facebook Comments
(Visited 48 times, 1 visits today)

متعلق اشرف بلوچ

اشرف بلوچ
اشرف بلوچ کراچی یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں بی ایس کر رہے ہیں. طلبا سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور اسی موضوع پر لکھتے ہیں۔