مرکزی صفحہ / خصوصی حال / ڈاکٹر عارف بارکزئی : کچھ یادیں، کچھ باتیں (3)

ڈاکٹر عارف بارکزئی : کچھ یادیں، کچھ باتیں (3)

ذوالفقار علی زلفی

"عارف چلا گیا” ـ

ایک دن عامر بارکزئی (عارف کا چھوٹا بھائی) نے مجھے بتایا ـ "اچھا! عارف کبھی بھی بتا کر نہیں جاتاـ” میں نے مسکرا کر جواب دیا ـ جس وقت میں ایسا کہہ رہا تھا اس وقت میرے وہم و گمان میں نہ تھا میں یہ جملہ مہینوں بعد ایک افسردہ دوپہر کو قبرستان میں آصف عبداللہ (امان کا چھوٹا بھائی) کے سامنے دہرا کر مسکرانے کی بجائے ……

مجھ کو شکوہ ہے میرے بھائی کہ تم جاتے جاتے
لے گئے ساتھ میرے عمرِ گزشتہ کی کتاب

اس میں میری بہت قیمتی تصویریں تھیں
اس میں بچپن تھا مرا اور عہدِ شباب

اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے
اپنے غم کا دمکتا ہوا یہ خوں رنگ گلاب

کیا کروں بھائی؟ یہ اعزاز میں کیونکر پہنوں؟
مجھ سے لے لو مری سب چاک قمیضوں کا حساب

آخری بار ہے، لو مان لو اک یہ بھی سوال
آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوس جواب

آ کے لے جاؤ تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول
مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گزشتہ کی کتاب

"عارف بارکزئی چلا گیا” ـ آزاد سوشلسٹ بلوچستان کا خواب دکھا کر ـ پُرعزم اور امیدوں بھرا عارف ـ سنا ہے، آج کل میوہ شاہ قبرستان میں منوں مٹی تلے ابدی نیند سو رہا ہے ـ کہتے ہیں، وہ اب کبھی نہیں آئے گا، امید جگانے، خواب دکھانے اور بتانے "غلامی ہی تمہاری مصیبتوں کی جڑ ہے” ـ

لو تم بھی گئے ہم نے تو سمجھا تھا کہ تم نے
باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور

یہ عہد کہ تا عمر رواں ساتھ رہو گے
رستے میں بچھڑ جائیں گے جب اہلِ صفا اور

ہم سمجھے تھے کہ صیاد کا ترکش ہوا خالی
باقی تھا اس میں ابھی تیرِ قضا اور

ہر خار رہِ دشتِ وطن کا ہے سوالی
کب دیکھئے آتا ہے کوئی آبلہ پا اور

آنے میں تامل تھا اگر روزِ جزا کو
اچھا تھا ٹھہر جاتے اگر تم بھی ذرا اور

خواب فروش اور امید پسند عارف اس جہاں سے کیسے گیا؟ ـ کسی نے کہا وہ ہاسٹل کی عمارت سے حادثاتی طور پر گرا اور جانبر نہ ہو سکا ، کسی نے اسے خودکشی سے تعبیر کیا اور کوئی قتل سمجھا ـ

اتفاقی حادثہ؟؟؟ ـ وہ کوئی بچہ تھا یا نشے میں دھت تھا جو گیارہویں منزل کی کھڑکی سے اتفاقاً گرا؟ ـ

شراب یا کسی اور نشے کی لت کا اس کے حوالے سے تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ـ اس نے ایک بار میرے پان کھانے پر اتنی تنقید کی کہ میں نے آئندہ بھول کر بھی اس کے سامنے پان کھانے کی جرات نہیں کی ـ نشہ؟؟؟ نہیں…… اس کا کوئی امکان نہیں، رتی بھر بھی امکان نہیں ـ

خودکشی؟؟؟؟ ـ جو دوسروں کو امید دلائے، جینا سکھائے، خواب دکھائے اور خود مضبوط اعصاب کا مالک ہو، اس سے ایسی حرکت؟ ـ این خیال است و محال است و جنوں….. ـ

ہاں، امید دشمن، خواب دشمن اور بلوچ دشمن ……. اسے ہم سے چھین سکتے ہیں، آزادی کے خواب دکھانے سے روک سکتے ہیں مگر….. کیا وہ روک سکتے ہیں؟ ـ نہیں …… کبھی نہیں ـ

مری ہوا میں رہے گی خیال کی خوشبو
یہ مشتِ خاک ہے فانی سو یہ رہے نہ رہے

(روزنامہ توار، 03 فروری 2008)

ڈاکٹر عارف بارکزئی : کچھ یادیں، کچھ باتیں… حصہ اول

ڈاکٹر عارف بارکزئی: کچھ یادیں، کچھ باتیں۔۔ حصہ دوئم

Facebook Comments
(Visited 38 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔