مرکزی صفحہ / خصوصی حال / ”تلوبند“ کا نیچرل پارک

”تلوبند“ کا نیچرل پارک

ظریف بلوچ

بلوچستان بیک وقت قدرتی، ساحلی، صحرائی اور پہاڑی معدنیات کے تحفظ کا دعویدار ہے۔ جہاں پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہنگول نیشنل پارک بھی موجود ہے جہاں نایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔

ہنگول نیشنل پارک کے علاوہ گوادر کی تحصیل اورماڑہ کا علاقہ ”تلوبند“ بھی ہے۔ شاید بہت کم لوگ اس نام سے واقف ہوں۔ یہ علاقہ بھی بعض نایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ بلکہ یہاں جنگلی جانوروں کی دیکھ بھال اور شکاریوں کو روکنے کے لیے ہمہ وقت ایک ٹیم موجود ہوتی ہے جو کہ نہ صرف بیمار جانوروں کا علاج کرتی ہے بلکہ یہاں موجود پہاڑی بکرے، اڑیال اور چنکارہ ہرن کے تحفظ کے لیے بھی کام کرتی ہے۔

اس علاقے میں جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے ایک مقامی سماجی ادارہ ”تلو بند گیم کنزرویشن سوسائٹی“ کے نام سے 2010 میں بنایا گیا۔ ادارہ کے صدر سید معیار جان نوری اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ ہمارا مقصد تحصیل اورماڑہ میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کوشش کرنا تھا۔ شروع میں اپنے ذاتی اخراجات سے علاقے میں جنگلی جانوروں کی تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے 8 لوگوں کو تعنیات کیا۔

اس حوالے سے اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ چند سالوں کے اندر ”تلو“ کے علاقے میں جنگلی جانوروں کی تعداد 3500 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جن میں پہاڑی بکرا (Ibex)، اڑیال (Wild sheep) اور چنکارہ ہرن (Gazelle) شامل ہیں۔

سید معیار جان نوری مزید بتاتے ہیں کہ 2015 میں حکومت نے ہماری سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس علاقے کو ”تلوبند کمیونٹی گیم ریزرو“ کے نام سے ڈیکلئیرڈ کیا ہے۔

”تلوبند“ ، اورماڑہ کے گاؤں”جعفری“ سے لے کر ”گورھڈ“ تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں اورماڑہ سمیت علاقے کے درجنوں گاؤں آتے ہیں۔ تقریبا پانچ لاکھ ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ علاقہ بعض نایاب ہونے والے جنگلی جانوروں کا محفوظ مسکن ہے۔ یہاں موجود ایک پہاڑ کی وجہ سے اس علاقے کو ”تلو“ کہا جاتا ہے۔

کنزرویشن ایریا میں پہاڑی علاقے کے علاوہ میدانی علاقے بھی شامل ہیں، جہاں بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ 1974/2014 کے تحت ہر قسم کے شکار پر پابندی کے بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں۔ اس وقت تلو بند گیم کنزرویشن سوسائٹی اورماڑہ اور محکمہ فارسٹ اور وائلڈ لائف حکومت بلوچستان کے مشترکہ پروجیکٹ کے تحت اس علاقے کی کنزرویشن پر کام ہو رہا ہے جس کا مقصد جنگلی جانوروں کا تحفظ اور انہیں شکاریوں سے بچانا ہے۔

سید معیار جان نوری کے مطابق دبئی کے شیخ سرور بن النعیان نے تلو بند کنزرویشن کے لیے کچھ جانور عطیہ کیے تھے۔ جو کہ ہم نے تلو کنزرویشن ایریا میں چھوڑ دیے ہیں۔ حکومت بلوچستان اور ہماری سوسائٹی کی کوششوں سے علاقے میں جنگلی جانوروں کی افزائشِ نسل میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے پہاڑی اور میدانی علاقوں میں ماضی میں جنگلی جانوروں کی تعداد کافی زیادہ تھی جب کہ ماضی میں مؤثر قانون نہ ہونے اور شکاریوں کی جانب سے جنگلی جانوروں کے بے دریغ شکار سے بعض علاقوں میں جنگلی جانوروں کی نسل معدوم ہو چکی ہے۔ اب بھی وہ علاقے جہاں جانوروں کے تحفظ پر کام نہیں ہو رہا ہے، ان علاقوں میں جانوروں کا شکار جاری ہے، جس کی وجہ سے جو جانور رہ گئے ہیں ان کی نسل بھی ختم ہونے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔

ماہرین اس بات پر کافی تشویش میں ہیں کہ جنگلی جانوروں کے بے دریغ شکار سے نہ صرف اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے بلکہ یہ کنزرویشن کی تباہی کے مترادف ہے، کیوں کہ جنگلی جانور اور پرندے ماحول کے لیے اہم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تلو بند کے علاقے میں جنگلی جانوروں کے تحفظ اور نگہبانی سے کنزرویشن پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے علاقے میں جانوروں کی افزائشِ نسل کے ساتھ ساتھ علاقے کی خوب صورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔

Facebook Comments
(Visited 22 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔