مرکزی صفحہ / بلاگ / کوئٹے میں: کوئی ویرانی سی ویرانی ہے!

کوئٹے میں: کوئی ویرانی سی ویرانی ہے!

فیصل ریحان

ایک بار پھر کوئٹہ میں ہوں. آتے ہوئے میڈیائی خبریہ تھی کہ یہاں کافی سردی ہے مگر پہنچا تو نہایت اجلا اور چمکتا ہوا دن دیکھا اور دھوپ حرارت بخش اور ایسی کہ جس میں بیٹھ کر بھاپ اڑاتی چائے کے مزے لینا کسی عیاشی سے کم نہیں. صبح اور شام میں البتہ سردی میں قدرے اضافہ ہوتا ہے مگر لوگ کہتے ہیں کہ موسم گرم ہے اس لیے بعضے منچلے لکھنئو کے بانکوں کی طرح ایک قمیص میں گھومتے ہیں مگر سچ پوچھو تو موسم ایسا بھی نہیں.بھئی میں تو احتیاط ہی کرتا ہوں.اور چائے بہت پیتا ہوں. کیا کافر شے ہے اور کیوں نہ ہو انہی کی ایجاد جو ہے.

ایک دو شامیں مری لیب پر شاہ محمد مری اور جاوید اختر ایسے لوگوں کی صحبت میں گزریں اور خوب مزے کی گفتگو رہی. ڈاکٹر مری کی محفل جتنی طویل ہو مختصر لگتی ہے. سو آج یعنی کل شام بھی وہاں گیا تو محفل جم چکی تھی اور کچھ اجنبی شناسا چہرے دیکھے. چپ چاپ، ہونے والی گفتگو سنی. محفل برخاست ہوئی تو پتہ چلا کہ ان میں سے ایک تو ” ہم سب” والے فرنود عالم ( کتنا مشکل نام ہے، ہے نا!) بھی ہیں. جاتے جاتے انھوں نے رخصتی ہاتھ ملایا، ہم نے بھی اسی پر اکتفا کیا کہ جب کبھی کسی اور محفل میں تعارف ہو گا تو بات چلے گی. ناں بھی چلی تو ہمارا کیا جاتا ہے، ان کا ہی تاوان ہے.

کوئٹہ میں اب بہت امن ہے. وہ یہی کہتے ہیں ناں تو ہم مان لیتے ہیں. بس جی پی او چوک پر ایک خود کش حملہ ہوا. جس میں کئی جانیں ناحق چلی گئیں اور دو تو میرے شہر کے طالب علم تھے. یہاں شاید ٹیوشن پڑھنے آئے ہوں گے کہ اجل حملہ آور ہوئی. ان کا دلی قلق ہوا. مگرانسان کے اختیار میں کیا ہے. سیکرٹریٹ سے نکلتے ہوئے اسی چوک سے ہمارا اکثر گزر ہوتا ہے. اس دن بھی اس طرف جاتے جاتے میں دوسرے رستے سے نکل گیا.

ایک شام خوبصورت لہجے کے شاعر احمد وقاص نے اپنے ہاں مدعو کیا تو ان کے گھر جاتے ہوئے جہاں کچھ گلیوں سے ایک عرصے بعد گزر ہوا اور پرانی یادیں تازہ کیں. وہاں ایک چیک پوسٹ سے گزرنے کا جاں سوز مرحلہ بھگتا. وہاں کے ایف سی اہلکار تو شناختی کارڈ اور سروس کارڈ دیکھنے کے باوجود جانے ہی نہیں دے رہے تھے. دل چاہا کہ واپس ہو جاؤں مگر سوچا کہ وقاص بھائی کیا سوچے گا. سو کچھ بحث کے بعد اس نے اجازت دی مگر اس شرط سے کہ شناختی کارڈ رکھنا ہو گا، واپسی پر ملے گا. یہ بھی برداشت کیا.

احمد وقاص سے ملتے ہی کہہ دیا کہ آئندہ ہم آپ کے گھر آنے سے رہے، بھلا یہ کیا شرافت ہے. وہ بے چارے ناحق شرمندہ ہوتے رہے. پھر دونوں نے مل کر ریاستی پالیسیوں کی پین دی سری کی. آخر جذبات ٹھنڈے ہوئے تو پہلے مزے کا کھانا کھایا گیا اور پھر دوبدو شاعری کا دور چلا اور فریقین سے غزلیں اور نظمیں سنی گئیں. اب کی بار وقاص کے بھائی اویس سے جو نظمیں کہتے ہیں اسلام آباد جانے کی وجہ سے، ملاقات نہ ہوئی.

یہ دونوں بھائی کوئٹہ کے سینئرشاعرسرورجاوید کے صاحبزادے ہیں. کچھ ہی عرصہ قبل ان سے تعارف اور ملاقات ہوئی اور ایک دوستانہ سا بن گیا جس کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے. وہ خود رابطہ کرتے ہیں اور اپنے ہاں مدعو کرتے ہیں. ہماری دعا ہے خوش رہیں. کوئٹہ کے باقی دوست بھی چاہیں تو ہم حاضر ہیں، بھلے گھر بلانے کا تکلف نہ کریں کسی ہوٹل پر ہی مل لیں، چشم ما روشن دل ما شاد ہے. اپنے ژوبیوں کے لیے خاص رعایت ہے وہ ہمیں "بھی” میں بلا سکتے ہیں. اس بات کو وہی سمجھ سکتے ہیں اور ہماری اعلیٰ ظرفی کی داد بھی دے سکتے ہیں، چاہیں تو جان بھی ڈال سکتے ہیں.

باقی یہ ہے کہ کوئٹہ میں ہر شخص کہتا نظر آتا ہے کہ یہ حکومت انتہائی غلط وقت پر گئی کہ عام لوگوں کے کام پھنس گئے. ان میں ملازمین بھی ہیں اور ٹھیکے دار بھی. پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے نواز کو بتا دیا ہے کہ جو ہم چاہیں گے، کریں گے تمھاری کوئی اوقات نہیں. اب جسے چاہیں گے لا بٹھائیں گے اور شاید یہ بندوبست بھی عارضی ہو گا ایک آدھ مہینے کا اور پھر اسے کہا جائے گا کہ اسمبلی توڑ دو اور وہ اسمبلی کو معطل کر دے گا. کے پی کے میں بھی یہ ہو گا اور پھر سینیٹ کا الیکشن نہیں ہو سکے گا.

ہمیں تو ان سیاسی معاملات کی کچھ سوجھ بوجھ نہیں مگر لوگ ایسا کہتے ہیں. لوگ جانیں اور وہ. ہم نے تو یہ دیکھا کہ حکومت جانے کے بعد سیکرٹریٹ میں وزرا کے وہ دفاتر جو لوگوں سے بھرے ہوتے تھے اب وہاں اُلو بولتے ہیں اور چوکیدار اونگھتے نظر آتے ہیں. انہیں تو مدت بعد آرام کا موقع ملاہے. ہر طرف کوئی ویرانی سی ویرانی ہے.

آخر میں یہ کہ ہر آدمی کی طرح زینب کے المناک وقوعے نے ہمارا دل بھی رنج سے بھر دیا. لگتا ہے کہنے کو کچھ نہیں رہا. لفظ گونگے ہیں اور معنی کھوکھلے.

اللہ اللہ!!

Facebook Comments
(Visited 19 times, 1 visits today)

متعلق فیصل ریحان

فیصل ریحان
فیصل riHan کا بنیادی تعلق ژوب سے ہے۔ وہ اردو کے استاد ہیں۔ شاعری اور تنقید لکھتے ہیں۔ ان کے تنقیدی مضامین کا ایک مجموعہ اور ایم فل کا مقالہ کتابی صورت میں چھپ چکے ہیں۔ بلوچستان کے عصری سیاسی تناظر سے متعلق ایک شعری مجموعہ بھی شائع ہوا ہے۔