مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / بلوچی فیچر فلم "زراب” کی نمائش

بلوچی فیچر فلم "زراب” کی نمائش

عبدالحلیم

جان البلوشی اور بام پروڈکشن کی مشترکہ کاوش سے بننے والی پہلی بلوچی فیچر فلم "زراب” کو گوادر میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
فلم کی نمائش گزشتہ دو دنوں سے آرسی ڈی کونسل گوادر میں جاری تھی۔

نمائش کے پہلے روز آرسی ڈی کونسل گوادر کا سید ظہور شاہ آڈیٹوریم ہال فلم بینوں سے کچھا کچھ بھرا تھا۔ فلم بینوں کی زیادہ تعداد کے پیش نظر فلم کے منتظمین نے پہلے روز تین شو منعقد کرائے جبکہ دوسرے دن فلم کے دو شومنعقد کیے گئے۔

پہلے شو کو خواتین اور آخری شو کو خواص کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔

دوسرے دن کے پہلے شو کی دلچسپ بات یہ تھی کہ اس میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

فلم کی کہانی مختلف کہانی نویسوں کی مشترکہ کاوش سے تحریر کی گی جس میں جان البلوشی اور ذاکر داد شامل ہیں۔
فلم کی کہانی کو ایک آرٹ فلم کے تناظر میں فلمایا گیا ہے۔

تاہم فلم میں گوادر کے طرزِ زندگی اور غربت کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

فلم کے تمام سین گوادر شہر میں فلمائے گئے ہیں جس میں جدید گوادر کے شور میں قدیم گوادر کے عکس کو نمایاں کیا گیا ہے۔

فلم کی نمائش کی اختتامی تقریب سے مختلف مکاتب فکر کے افراد کو خیال آرائی کا موقع بھی دیا گیا۔

ماضی کے بلوچی فلموں اور تھیٹر کے سابقہ اداکار و ڈائریکٹر خیرجان خیرل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جان البلوشی اور اس کے پارٹنرز نے جس قسم کی یہ بلوچی فیچر فلم تخلیق کی ہے، وہ انتہائی قابلِ تعریف ہے۔ فلم میں جو تیکنیک اور ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ لاجواب ہے۔ فلم کی کہانی پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن اس کی تکنیک پر تنقید کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

ان کے مطابق جان البلوشی پروڈکشن نے بلوچی فلم نگاری میں جو قدم رکھا ہے وہ خوش آئند ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنا سفر جاری رکھیں گے اور بلوچی فلموں کی پذیرائی کو مزید ممکن بنائیں گے۔

بلدیہ گوادر کے چیئرمین عابد رحیم سہرابی کا کہنا تھا کہ بلوچی فیچر فلم بنانے پر جان البلوشی اور اس کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ فلم کے ڈائریکٹر، اداکاروں اور تمام عملہ نے اپنی غیر معمولی مہارتوں سے فلم بینوں کو ایک معیاری اور سبق آموز فلم دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

آرسی ڈی کونسل گوادر کے صدر ناصر رحیم سہرابی نے فلم کی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ فلم معاشرہ کا آئینہ ہوتی ہے، جس سے معاشرہ کو رہنمائی اور آگاہی کا درس ملتا ہے۔ فلم کی کہانی کو جس طرح فلمایا گیا ہے اس سے اگرچہ گوادر کا ہر شعری مجموعی طور پر متاثر نہیں لیکن ان حالات سے متاثرہ لوگ کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہوں گے۔

بلوچی زبان کے معروف ناول نگار اسلم تگرانی نے کہا کہ بلوچی فیچر فلم زراب کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ گوادر کے علاوہ اس سے پہلے بحرین میں فلم کی نمائش اس بات کی غماز ہے کہ اب بلوچی زبان میں بنائی جانے والی فلمیں بین الاقومی سطح پر بھی اپنا اہم مقام بنائیں گی۔

واضح رہے کہ زراب کی اس سے قبل بحرین کے سنیما گھر میں بھی نمائش کی گئی۔ فلم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ بحرین میں فلم کی نمائش میں فلم بینوں نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور فلم کی نمائش کے موقع پر ہر ہاؤس فُل رہا۔

واضح رہے کہ بلوچی فیچر فلم زراب وہ واحد بلوچی فلم بن گئی ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر کسی سنیما کی زینت بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

گوادر میں نمائش کے بعد اب اس فلم کو مرحلہ وار پسنی اور تربت میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

فلم کے اہم کرداروں میں انور صاحب خان، شاہنواز، احسان دانش، ذاکر داد، رفیق کمانڈو اور عزیز عزول شامل ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 134 times, 1 visits today)

متعلق عبدالحلیم

گوادر میں مقیم عبدالحلیم کل وقتی صحافی ہیں۔ مقامی مسائل کی کوریج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ صحافت اور ادب کے امتزاج سے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ Email: haleemhayatan@gmail.com