مرکزی صفحہ / بلاگ / سانحہِ قصور : ایک بحث

سانحہِ قصور : ایک بحث

ذوالفقار علی زلفی

سانحہِ قصور پر اس وقت سوشل میڈیا نوحہ گری کا پنڈال بنا ہوا ہے ـ دکھ، افسوس اور غصے کے ساتھ ساتھ اس سانحے کے ذمہ داروں کا تعین اور سزاؤں کا مطالبہ بھی زوروں پر ہے ـ اس حوالے سے تمام نوحوں اور تبصروں میں ایک چیز کا فقدان واضح ہے اور وہ ہے فکری سنجیدگی ـ

بعض افراد نے اس سانحے کی پوری ذمہ داری والدین پر ڈال دی ـ ان کے مطابق اگر والدین اپنے بچوں کو وقت دیں تو اس قسم کے واقعات سے بچنا ممکن ہے ـ اس ضمن میں زینب کے والدین کے عمرے پر جانے کو زیادہ ہائی لائٹ کیا جارہا ہے ـ یہاں عمرے کا ذکر سوائے بدنیتی کے اور کچھ نہیں البتہ والدین کی ذمہ داری پر مبنی نکتہِ نظر سے جزوی اتفاق کیا جاسکتا ہے مگر کلی طور پر شاید نہیں ـ

والدین کی ذمہ داریوں کی یاد دلانے والے قریبی مرد رشتہ داروں اور اسکول کے مرد اساتذہ کی دست درازی کے مسئلے کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں ـ یہاں مجھے ہندی فلم "ہائی وے” یاد آگیا جس میں عالیہ بھٹ اپنے ایک مرد رشتہ دار پر الزام لگاتی ہے کہ وہ اس کے بچپن میں اس کے جسم کا استحصال کرتا رہا ہے ـ عالیہ بھٹ کے والدین اس کے الزام پر اس کی سرزنش کرتے ہیں ـ

گھروں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کا جنسی استحصال عام ہے ـ والدین ذمہ داری کا بھرپور مظاہرہ کرنے کے باوجود اس سے بچے کو بچانے میں ناکام ہوجاتے ہیں ـ حتی کہ بعض اوقات بھائی اور باپ تک بچوں سے جنسی حظ اٹھانے کی کوشش کرتے پائے گئے ہیں ـ

اسی طرح لبرل تفکر سے جڑے افراد "انفرادیت” کے قائل ہیں وہ یہاں بھی اس معاملے کو مفرد بنا کر دیکھ رہے ہیں ـ فرد اور سماج کے تعلق اور سماج کے معاشی نظام کا تجزیہ کئے بنا بچوں کے جنسی استحصال کو ایک فرد کا نفسیاتی رویہ مان کر بات کرنا مسئلے کا حل فراہم نہیں کرتا ـ پاکستان جیسی جدید نوآبادیاتی و نیم جاگیردارانہ سماج میں سرمائے کا بہاؤ محنت کش عوامی اکثریت کے مخالف ہے ـ اس سماج میں معاشرتی بیگانگی، فراریت، خوفناک نفسیاتی الجھنیں اور اجنبیت کے احساسات جنم لیتے ہیں ـ سنگین نفسیاتی پیچیدگیوں سے معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اجتماع انفرادیت کی بھینٹ چڑھ کر اسٹاک ہوم سنڈروم میں مبتلا ہوجاتی ہے ـ لبرل تفکر چونکہ انفرادیت کا داعی ہے اس لئے وہ سماجی سائنس کی بجائے انفرادی مسائل میں الجھا ہوا ہے ـ پاکستانی لبرل کی حالت مغربی لبرل سے اس لئے بھی بدتر ہے کہ وہ لبرل ازم کے ارتقائی مراحل کا مطالعہ ، مشاہدہ و تجربہ کئے بغیر فیشنی لبرل ہے ـ یہی وجہ ہے بعض لبرل پردے کی بے سود مخالفت اور خدا پر طنز کرکے فرمارہے ہیں جب زینب کا استحصال ہورہا تھا تو خدا کیا کررہا تھا ؟ ـ

ہر چیز کو مذہبی عینک سے دیکھنے والے افراد ہمیشہ کی طرح اس سانحے کو بھی مذہب سے دوری کے ساتھ منسلک کررہے ہیں ـ انسان ایک سماجی حیوان ہے ـ سماجی نظام اور اس کی حرکیات سے انفرادی سوچ کو جلا ملتی ہے اور اسی سوچ کے تحت افعال جنم لیتے ہیں ـ ایک پسے ہوئے استحصال زدہ سماج میں مذہب کسی فرد کے اخلاقی نظام کو بہتر بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ مذہب سماجی نظام کا ایک حصہ ہے خود نظام نہیں ـ

بعض افراد نے سانحے کو ریاست کی ناکامی سے تعبیر کیا ـ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے مگر ریاست کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ اس کے مفادات کہاں پیوست ہیں ـ ریاست کم سن آفتاب بلوچ کو مہینوں سے اغوا کیے بیٹھی ہے ـ اسی ریاست نے مخصوص مفادات کے لئے بچوں و عورتوں کا قتلِ عام کیا ـ پاکستانی ریاست عالمی سرمائے کا مقامی چوکیدار اور باج گزار ہے ـ وہ عالمی منڈی میں محنت کو کنٹرول کرنے والے نظام کا ایک معمولی چوکیدار ہے ـ سرمائے کی ایک باج گزار ریاست سے محنت کش کے مسائل کے حل کی امید رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں ـ اس قسم کی ریاستیں بجائے مسئلہ حل کرنے کے خود مسئلہ بن جاتی ہیں ـ

سیکس ایجوکیشن کی تجویز بھی پیش کی جارہی ہے ـ اچھی بات ہے لیکن پہلے سیکس کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ سمجھا جانا ضروری ہے ـ پاکستانی سماج میں سیکس کے ساتھ کراہیت اور گندگی کا تصور منسلک ہے ـ ایسا صرف عام افراد یا مذہبی طبقے کے ساتھ مخصوص نہیں فیشنی لبرل بھی سیکس کو محدود انداز میں لے کر اسے چڑھنے اترنے کی محنت تصور کرتے ہیں ـ عمران خان کی تیسری شادی کی خبر پر جس طرح لبرل خواتین و حضرات نے بشری مانیکا کے حوالے سے جنسی چٹخارے لئے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے پاکستان کا "روشن فکر” طبقہ سیکس اور عورت کو گڈمڈ کرکے اسے زندگی کا حصہ سمجھنے کی بجائے اسے صرف اور صرف لذت کوشی کا آلہ گردانتا ہے ـ لبرل طبقے نے عمران خان کی آڑ لے کر عورت کے جنسی جذبات کو موضوع بنایا اور اسے چوراہے پر کھڑی کرکے لفظوں کے تیروں سے بے لباس کیا ـ یہاں یہ امر بھی تکلیف دہ ہے کہ اس شادی کا اس قدر تزکرہ کیا گیا گویا پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان کی شادی ہے ـ

بشری مانیکا کا "پیرنی” ہونا اور آزاد حیثیت میں ایک مرد چھوڑ کر دوسرے کو اپنانا بھی سماج کی اکثریت کو ہضم نہ ہوا ـ ان عوامل کی وجہ سے بھی بشری مانیکا کو سولی پر چڑھانے کی گھٹیا کوشش کی گئی ـ

اب جہاں روشن فکر افراد سیکس ایجوکیشن کے حوالے سے "جاہل” ہوں وہاں بچوں کو سیکس کی تعلیم کیسے دی جائے؟ ـ "روشن فکر” افراد کے نزدیک ایک شادی شدہ عورت جو کسی اور کی قانونی "ملکیت” ہے اس سے محبت کے پینگیں بڑھانا جس تالی میں کھانا اس تالی میں چھید کرنا ہے ـ جہاں عام لوگ ایک طرف لبرل پاکستانی گھروں میں بھی بچوں کو اپنے جنسی اعضا کے ساتھ کھیلنے سے سخت منع کرکے انہیں جنسی اسرار سمجھنے والا جاسوس بنادیا جاتا ہو ـ وہاں سیکس ایجوکیشن کی حمایت کچھ عجیب سا محسوس ہوتا ہے ـ

یہ امر بھی پیشِ نظر رہے، پاکستان کا جدید نوآبادیاتی و نیم جاگیردارانہ سماج عالمی سرمائے کی حفاظت کے لئے محنت کو اپنے سخت کنٹرول میں رکھتا ہے ـ محنت کے خرید و فروش کے سخت معاشی و سماجی قوانین کے باعث مرد محنت کش فرسٹریشن، جنسی ناآسودگی، سماجی بیگانگی اور کمزوری کے احساس سے دوچار ہے ـ دوسری جانب محنت کش عورت مردانہ بالادستی کے باعث سماجی اکائی کے طور پر وجود ہی نہیں رکھتی ـ اس کی محنت پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ایک قابلِ خرید و فروخت جنس بن چکی ہے ـ محنت پر اختیار سے محروم مرد عورت کی محنت پر نہیں بلکہ عورت پر کنٹرول رکھنے کا خواہش مند ہے تانکہ سرمائے کی منڈی میں اسے فروخت کرکے آسودگی کے چند لمحے خرید سکے ـ ملکیتی کنٹرول بالادست طبقات میں چوری کی ثقافت پیدا کرتے ہیں جس کے اثرات نچلے طبقات پر مرتب ہوتے ہیں ـ کنٹرول اور ملکیتی نظام میں عورت چونکہ ایک قابلِ خرید و فروخت جنس ہے جس سے جنسی بھوک مٹائی جاسکتی ہے اس لئے اس کی چوری کی ثقافت کا پیدا ہونا یقینی امر ہے ـ غیرت، عفت اور عزت جیسے تصورات چوری روکنے کے ہی مختلف تصوراتی مظاہر ہیں جبکہ نیم جاگیردارانہ سماج میں خرید و فروخت کے بازار کو قانونی شکل دینے کے لئے شادی کا استحصالی ادارہ قائم کیا گیا ہے ـ سرمایہ دارانہ سماج میں اب اس ادارے کی وقعت روز بروز کم ہورہی ہے وہاں عورت اپنی قیمت خود لگاتی ہے البتہ کنٹرول اور ملکیتی سسٹم وہاں بھی پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے ـ ریپ یا بلا اجازت عورت کو چھونے کی کوشش چوری کی ثقافت کے مختلف اشکال ہیں ـ بچوں پر جنسی تشدد کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اسی وسیع کینوس کو مدِ نظر رکھ کر ہی اس کا حل نکالا جاسکتا ہے ـ نوحہ کرنا، غصہ دکھانا اور افسوس ظاہر کرنے سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا ـ

پاکستانی سماج میں یقیناً جنسی گھٹن موجود ہے مگر جنسی گھٹن ملکیتی نظام کا نتیجہ ہے خود کسی چیز کا سبب نہیں ـ اس معاملے پر جذباتیت کی بجائے اگر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرکے ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہِ خیال کیا جائے تو شاید راستہ نکل ہی آئے ـ

Facebook Comments
(Visited 49 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔