مرکزی صفحہ / خصوصی حال / میں مایوس نہیں!

میں مایوس نہیں!

عابدمیر

وہ بول رہا تھا اور بے دھڑک بول رہا تھا، سچ اس کے منہ سے امڈتا چلا آرہا تھا ۔۔۔اور وہ بلا جھجھک اپنے سچ کا اعتراف کر رہا تھا۔۔۔
’’میرا نام غلام مرتضیٰ عرف گوگا ہے، جیکب آباد کا رہائشی ہوں، لیکن گزشتہ پندرہ سالوں سے کوئٹہ میں ٹی اینڈ ٹی کالونی میں رہائش پذیر ہوں، جہاں میں جائنٹ فیملی سسٹم کے تحت رہتا ہوں، میرا چچا بھی ساتھ رہتا ہے، والد اور چچا نے ایک رکشہ خریدا ہوا ہے، میں وہ رکشہ بھی چلاتا ہوں، اس کے علاوہ ریاض پراچہ کے بھائی عامر پراچہ کے کیبل پر کام کرتا تھا ۔۔۔‘‘

اب وہ اپنے جرم کا پس منظر بتاتا ہے؛
’’ریاض پراچہ اور عامر پراچہ میرا بہت خیال رکھتے تھے، دن رات کھانا بھی دیتے تھے (ظاہر ہے اس میں نمک بھی ہوگا!) اُن کے گھر میرا آنا جانا تھا، بچوں کو سکول سے لاتا اور لے جاتا تھا، ریاض پراچہ کی نو سالہ بیٹی شگفتہ مجھ سے بے حد مانوس تھی، کیونکہ عامر پراچہ کی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے وہ شگفتہ سے بہت پیار کرتے تھے، اکثر مجھے پیسے دیتے تھے کہ بچوں کو جوس پلا دینا یا آئسکریم کھلا دینا!‘‘

پھر وہ اپنا طریقہ واردات بتاتا ہے؛

’’کیبل نیٹ ورک کے لیے میں گھر گھر کیبل کنکشن دیتا تھا، ریلوے انسپکٹرز کالونی میرا علاقہ تھا، میں اس علاقے سے واقف تھا کہ زرغون روڈ جیسی معروف شاہراہ پر ایک خاموش علاقہ ہے جو سنسان ہے، یہاں پر بڑے بڑے درخت اور جھاڑیاں ہیں، اس علاقے میں دن کو بھی آمدورفت نہیں ہوتی، خاموشی چھائی رہتی ہے، میں نے کئی بار یہاں لڑکیاں لا کر اُن سے زیادتی کی تھی، کسی نے مجھے نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی کوپتہ چل سکا۔‘‘

اب وہ اپنے جرم کی وجہ تسمیہ بتاتا ہے؛
’’میں نے عامر پراچہ سے کہا کہ دوسرے لڑکوں کو تم چار ہزار تنخواہ دیتے ہو، دو ہزار میری بھی بڑھا دو، اُس نے انکار کیا،جس کا مجھے ملال ہوا، دوسرے روز عامر نے مجھے موٹرسائیکل دی، اس کا چالان ہو گیا، جس پر عامر نے مجھے تھپڑ مارا، اس پر مجھے شدید غصہ آیا۔۔۔‘‘

اور یہاں سے اصل جرم کی کہانی شروع ہوتی ہے؛
’’وقوعہ کے روز شگفتہ مجھے فاطمہ جناح روڈ پر نظر آئی، میں نے کہا تمہارے چاچو نے پیسے دیے ہیں کہ بچوں کو آئسکریم دلا دو، آؤ میں تمہیں آئسکریم لے دوں، وہ میرے ساتھ رکشے میں سوار ہوگئی، میں پرنس روڈ سے جناح روڈ، کالون روڈ اور زرغون روڈ سے ہوتا ہوا ریلوے انسپکٹرز کالونی پہنچا، مجھ پر جنون سوار تھا، شگفتہ نے کہا مجھے واپس لے چلو، پھر اس نے شور کرنا شروع کیا ۔۔۔ (اب ’’اشرف المخلوق‘‘ اپنی مسند سے نیچے آتا ہے)، میں نے رکشہ صاف کرنے والے کپڑے سے اس کا منہ باندھ دیا اور دوپٹے سے ہاتھ باندھ دیے، وہ بے ہوش ہوگئی، مجرمانہ حملہ کرنے میں ناکامی پر میں نے اس کا گلہ دبا دیا کیوں کہ مجھے خطرہ تھا کہ اگر یہ زندہ رہ گئی تو گھر والوں کو بتا دے گی، پھر میں نے چاقو نکال کر اس کے گلے کو کاٹا اور جسم پر کئی وار کیے اور اس کی لاش کو پہلے سے دیکھی ہوئی سنسان جگہ پر پھینک دیا۔‘‘

یہ تو سرسری تھا، غور طلب عمل اب شروع ہوتا ہے؛
’’دوسرے روز میں ریاض پراچہ کے گھر گیا، وہاں شگفتہ کی گمشدگی پر لوگ جمع تھے، میں نے بھی اظہارِ افسوس کیا، اس کے بعد مظاہرے اور احتجاج میں شریک ہوا، خوب نعرے لگائے؛ ’’ظالمو جواب دو، خون کا حساب دو‘‘جس روز لاش کی شناخت ہوئی میں مظاہرین میں پیش پیش تھا بلکہ میں نے ٹائر جلا کر جناح روڈ کو بلاک کر دیا، سول لائینز پولیس مجھے ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کر کے تھانے لے آئی، بعد میں معززین کی مداخلت پر رہا کر دیا۔‘‘

اور اب جو وہ کہہ رہا ہے، اُسے دل سے نہیں دماغ سے سنیے؛
’’اس سے پہلے ایک لاش ملنے کی خبر پر میں بڑا پریشان ہوا، کچھ دن غائب بھی رہا، پھر واپس آ گیا اور خود کو تسلی دی کہ مجھے بھلا کس نے دیکھا ہے! وہ لاش ملنے کے کچھ دن بعد ایک لڑکے ذاکر نے کیبل خراب ہونے کی شکایت کی، اس کا گھر اسی علاقے میں تھا جہاں میں نے شگفتہ کی لاش پھینکی تھی، میں نے دوسرے اسسٹنٹ لڑ کے کو کیبل ٹھیک کرنے کو کہا اور خود سرونٹ کوارٹر کی چھت پر چڑھ گیا اور دیکھا کہ جہاں لاش پھینکی تھی، وہیں پڑی ہے، میں مطمئن ہو گیا کہ یہاں کوئی نہیں آ سکتا!‘‘

اس ’’ڈائیلاگ‘‘ کو ذرا غور سے سنیے!
’’ اس وقت میں نے محسوس کیا جیسے کوئی کہہ رہا ہو ’زوئے کب تک خیر مناؤ گئے؟‘ اور گرفتاری کے بعد میرے کانوں میں لوگوں کی یہ آواز گونج رہی تھی کہ خونِ ناحق کبھی نہیں چھپتا!‘‘

ایک لمحے کے لیے آپ کو بھی میری طرح یوں لگا ناں کہ جیسے یہ کسی فلم کی کہانی ہے اور ایک خطرناک ملزم (جو فلم کا ’اینٹی ہیرو‘ بھی ہے) بڑے سنسنی خیز انداز میں اپنے جرم کی داستان بیان کر رہا ہو۔! یہ سب کچھ اگر ٹی وی کی سکرین پر ہو رہا ہوتا تو میں بھی یقیناً آپ کی طرح چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے اسے بڑے غور سے دیکھتا اور آخر میں کوئی ہمدردانہ تبصرہ کر کے چینل بدل دیتا ۔۔۔ مگر کیا کہیے کہ یہ کہانی ہم اور آپ اپنی آنکھوں سے نہ صرف دیکھ چکے بلکہ اس سماج کا حصہ ہیں جہاں اس کہانی پر مشتمل مذکورہ واقعہ رونما ہو چکا ہے۔۔۔!

’’یہ شخص انسانیت کا قاتل ہے، اسے کڑی سے کڑی سزا دی جائے، سنگسار کیا جائے، سرِعام پھانسی دی جائے، کوڑے برسائے جائیں، عبرت کا نشان بنا دیا جائے، خدا اسے جہنم رسید کرے۔۔۔!‘‘

کم و بیش آپ کا بھی یہی ردِ عمل ہوگا اس مجرم کے متعلق ۔۔۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں ۔۔۔ مگر میں آپ سے اس معاملے کو ایک اور رخ سے دیکھنے کی گزارش بھی کرتا ہوں۔ ہم کسی بھی عمل پر فوری ردِ عمل کا اظہار کر دیتے ہیں لیکن فکری بنیادوں پر نہ تو اس کا تجزیہ کرتے ہیں نہ ایسے کسی اقدام کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو مستقبل کے لیے بار آور ہو۔

’’گوگا‘‘اس نوعیت کا جرم کرنے والا پہلا مجرم نہیں ہے، سو بچوں کے قاتل لاہور کے جاوید اقبال کی کہانی آپ کو یقیناً یاد ہوگی جسے ساری پنجاب پولیس تلاش کرنے میں ناکام رہی جب تک کہ اس نے خود اپنے آپ کو پولیس کے حوالے نہیں کیا۔ اس کا انجام بھی آپ کو یاد ہوگا۔۔۔ مگر اس کے ’’عبرت ناک انجام‘‘ کے باوجود ایک اور جاوید اقبال ’’گوگا‘‘ کے روپ میں پیدا ہوگیا۔ ہم اسے بھی اس عبرتناک انجام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، پھر کیا ہوگا۔۔۔؟

’’گوگا‘‘ کایہ کہنا کہ اسے محسوس ہوا کوئی اسے کہہ رہا ہے، ’’زوئے کب تک بچوگے‘‘ اور گرفتاری کے بعد لوگوں کی اس بات کا یاد آنا کہ ’’خونِ ناحق کبھی نہیں چھپتا‘‘ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس کی فطرت مجرمانہ نہیں بلکہ ذہنیت مجرمانہ ہے، جسے بدلا بھی جا سکتا ہے۔ ’’گوگا‘‘بھی کسی ماں کو اتنا ہی عزیز ہوگا جتنی کہ’’ شگفتہ‘‘اپنی ماں کو تھی۔ آخر کوے کے لیے بھی دنیا کا خوب صورت ترین بچہ اسی کا ہوتا ہے۔ شگفتہ ہم سے جا چکی ہے۔۔۔ کیا ’’گوگا‘‘ کو مار کر ہم اس جرم کو ختم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے؟

میں کسی ’’گوگا‘‘یا کسی مجرم کا ہمدرد نہیں، میں انسان کا ہمدرد ہوں اور اس بات کا قائل ہوں کہ قابلِ نفرت مجرم نہیں، جرم ہونا چاہیے اور تفتیش ہمیشہ مجرم کے خلاف نہیں بلکہ جرم کی وجہ کی تلاش میں ہونی چاہیے۔ ’’مجرمانہ ذہنیت ‘‘ کو تشکیل اور فروغ دینے والے نظام کو ختم کرنے کی بجائے لوگوں کو ختم کرنے سے نقصان ہمارا ہی ہوگا۔

میں سوچتا ہوں کیا ایسا ممکن نہیں کہ ’’گوگا‘‘جیسے مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کے لیے پولیس کا ایک نفسیاتی سیل ہو۔ آپ گوگا کے اعترافات کو پھر سے پڑھیے۔ آپ کو لگے گا کہ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ تو اس کا حل بھی نفسیاتی ہونا چاہیے۔ ’’گوگا‘‘ لاکھ برا اور مجرم سہی مگر اس نے ’’سچ ‘‘ تو بولا ہے!

حالاں کہ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک یوٹوپیا ہے۔ آپ مجھ پر ہنسئے یا مجھے برا بھلا کہیے ۔۔۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری آواز کسی بڑے ایوان تک نہیں پہنچ پائے گی لیکن اگر یہ آواز آپ کے ’ایوانِ دل‘ تک پہنچ پاتی ہے اور آپ اس بات پر قائل ہو جاتے ہیں کہ انسان قیمتی ہے، اس کی اصلاح ممکن ہے۔۔۔ تو میں سمجھوں گا میں ناکام نہیں۔۔۔

اور اسی لیے میں مایوس نہیں!

(مشمولہ، روزنامہ آساپ، کوئٹہ: 6 جون 2006ء)

Facebook Comments
(Visited 69 times, 1 visits today)

متعلق عابد میر

عابد میر
عابد میر کہانیاں اور کالم لکھتے ہیں۔ ادب اورصحافت ان کا میدانِ عمل ہیں۔گورنمنٹ کالج کوئٹہ میں اردو ادب پڑھاتے ہیں، اور "حال حوال" سے بہ طور اعزازی ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ ای میل: khanabadosh81@gmail.com