مرکزی صفحہ / بلاگ / ہم سا وحشی کوئی نہیں

ہم سا وحشی کوئی نہیں

بلال شہزاد برہانزئی

کیسے دور جہالت میں جی رہے ہم اقبال
آدم کا بیٹا خوش ہوتاہے حوا کی بیٹی کو بے نقاب دیکھ کر

بدقسمت زینب کی پیدائش قصور کے قصوروار لوگوں کے درمیان ہوتی ہے۔ وہ ایک ننھی پری تھی ایک ایسے معاشرے میں آنکھیں کھولتی جہاں انسان نہیں انسان نما درندے رہتے ہیں۔ اور نہ ایسےننھی پریوں کی قدر و قمیت ہوتی ہے مگر اس بدقسمت کا تعلق پاکستان کے علاقے قصور سے تھا جہاں قصورواروں کی راج ہے۔ اس علاقے میں بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی و قتل کا پہلا نہیں بلکہ گیارہواں واقعہ ہے۔

قصور ہی میں چار سو بچوں کو ریپ کرتے رہے اور ان کے والدین کو بلیک میل کرکے پیسے بھی لیتے رہے۔ محمد امین انصاری کی پھول زینب گھر سے نکلتی ہے معاشرے کے وحشی نما انسان پہلے ہی سے ان کے انتظار میں بیٹھے ان کو اغوا کرکے لے جاتے ہیں چار دن تک سفاکانہ طریقے سے اپنے ہوس کا نشانہ بناتے رہے اور پھر گلہ گھونٹ کچرے کی ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں۔

ہم اکثر ظلم وذیاتی کی ایسی داستانوں پر کچھ لکھ کر اسے انسانیت سوز واقعہ قرار دے کر خاموش ہوجاتے ہیں یا پھر مختلف طریقوں سے اظہارِ ہمدردی اور احتجاج ریکارڈ کرتے رہتے ہیں مگر اصل واقعے کی تہہ تک نہیں جاتے ہیں۔ کہ کن وجوہات اور معاشرے میں ہماری کونسی کمزوریوں کے سبب آئے روز ایسی وحشیانہ حرکات پیش آتے رہتے ہیں ۔ عدلیہ کی از خود نوٹس, پولیس کی اپریشن, سیاست دانوں کی بیانات اور ہماری ہیش ٹیگ سے کچھ ہونے والا نہیں۔چاروں صوبوں میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کی قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا؟ کہ زہنب کی قاتل کو سزا ملے۔ ہم جان چکے ہیں کہ اگر کوئی لختِ جگر کو ہم سے چھینا گیا تو خاموشی ہی میں عافیت سمجھے۔ وگرنہ خود موت کے منہ میں جائیں گے.

زینب کی قتل کا زمہ دار! میں معاشرے کو ٹہراتا ہوں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں سے انسانوں کو ایسے پالتے ہیں جو بعد میں جانور بن کر وحشیانہ حرکت کرکے کسی کے والدین کو ایسی زخم دیتے ہیں جو انھیں ہمیشہ ازیت دیتی ہے۔ہم اپنے بچوں کو لاڈلے کرکے مکمل چھوٹ دیتےہیں۔ وہ گالی دے تو ہم آنکھیں نیچے کرتے ہیں۔ رات کو جس وقت آئے جدھر جائے جو بھی کرے ہم پوچھنے کی جسارت نہیں کرتے۔ ہم اپنے بچوں کو بے لگام گھوڑا بناکر چھوڑتے ہیں جو مزید گمراہی میں جاکر انسانیت سے عاری ہوجاتے ہیں ۔ بری سوسائٹیز میں جاکر گینگ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ان میں انسانیت نہیں رہتی۔ اللہ اور رسولؐ کے فرمودات کو روند کرایک ایسی راہ اختیار کرلیتے ہیں خود کو ختم کرکے اپنے والدین کو ہمیشہ کے لے ابال کرتے ہیں یا کسی اور کے والدین کے سسکیاں اور بدعائیں اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ۔مسلمان معاشرے میں ایسی واقعات پیش آتے ہیں جو آنکھ نہ دیکھیں اور کان نہ سنیں۔ ہم ہمیشہ مغربی تہذیب کو بہت غلط نگاہ سے دیکھتے اور بیان کرتےہیں۔ مگر ہم سفاکیت میں مغرب کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔

ایسے واقعات کی روک تھام بہت ضروری ہے۔ میرے خیال میں صرف ایک ہی طریقے سے ہم زہنب جیسے پھولوں کی عزت و زندگی بچا سکتے ہیں اگر ہم آج سے ایک منصفانہ اور تہذیب یافتہ معاشرے کے قیام کے لیے انفرادی طور پر جہدوجہد شروع کردے دور سے نہیں اپنے بچوں اور گھر والوں کو اچھی تربیت دے۔وقت پر انکی شادی کرادے۔

زہنب کے والدین پر کیا گزرتی ہے اللہ امان دے۔حکمرانوں سے عوام مایوس ہوچکی ھے۔ وہ اقتدار کے بھوکے ہیں ایک دوسرے کو کم پیش کرنے اور سیاسی سبقت کی چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزمات ,کسی کی شادی کو اچھالا جاتا ہے۔ اگر زینب ایک امیر یا مقتدر گھرانے سے ہوتی تو آج آسمان کو سر پر اٹھایا جاتا۔ سرچ آپریشن اور مجرموں کی گرفتاری کے لیے کتنے بے گناہ لوگ جیل جاچکے ہوتے مگر افسوس صد افسوس یہ ایک غریب کی بچی تھی۔ ان کے قتل میں ملوث مجرموں کی سزا کو ان کی والدین خالق حقیقی پر چھوڑ تے ہیں بےشک اللہ پاک بڑا غفور رحیم ہے اور ہم سمجھیں کہ قہار جبار بھی ہے۔ ایسی واقعات سے زمین آسمان لرز اٹھتے ہیں۔ ہم اللہ کی عذابوں کا ضرور انتظار کریں۔

ہم جو انسان کی تہذیب لیے پھرتے ہیں۔
ہم ساوحشی کوئی نہیں جنگل کے درندوں میں نہیں۔

Facebook Comments
(Visited 46 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔