مرکزی صفحہ / مباحث / پاکستان کی موجودہ صورت حال کے تقاضے

پاکستان کی موجودہ صورت حال کے تقاضے

انور عباس انور

ضلع شیخوپرہ کے دو نامور سیاسی حریف رانا تنویر حسین اور حاجی چودہری علی اصغر منڈا کے درمیان صلح کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی لوگوں میں خاصی مقبول ہو رہی ہے۔ اس تصویر میں رانا تنویر حسین وفاقی وزیر دفاعی پیداوار اور صوبائی پارلیمانی سکریٹری برائے ایس اینڈ جی اے ڈی مصافحہ کرتے دکھائے گئے ہیں۔ اس تصویر اور خبر کا محاذ آرائی سے تنگ عوام کی جانب سے خیر مقدم کیا جا رہا ہے جب کہ ایسے عناصر جو دونوں گروپوں میں تناؤ جاری رکھنے کے خواہش مند ہیں کافی پریشانی کے عالم میں ہیں۔اس صلح کو ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور امریکا کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کسی قسم کے اختلاف رائے کی گنجائش باقی نہیں بچتی۔

مجھے تو ان دونوں سیاسی راہنماؤں کا پرانی رنجشیں بھلا نے کا فیصلہ دانش مندانہ لگا ہے، دونوں راہنماؤں نے سیاسی پختگی اور بالغ نظری کا ثبوت دیا ہے۔ دونوں راہنماؤں کو ملکی صورت حال خصوصا مسلم لیگ نواز کو درپیش چیلنجز اورحالات کی سنگنی کا ادراک ہوگیا ہے۔ وہ سمجھ گئے ہیں کہ غیر جمہوری قوتیں جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے درپے ہیں۔ خصوصا مسلم لیگ نواز کے لیے ان کی منصوبندی ان راہنماؤ ں نے بھانپ لی ہے اور ان پر جمہوریت کو لاحق خطرات واضح ہوگئے ہیں۔

یہی بات مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو باور کرانے کی سعی کر رہے ہیں اور پیغام پر پیغام بھیج رہے ہیں۔ شائد میاں نواز شریف کی طرح انہیں بھی کچھ یقین دہانیاں کروائی گئی ہیں جن کی روشنی میں آصف زرداری اور بلاول بھٹوزرداری میاں نواز شریف کو لفٹ نہیں کروا رہے ہیں۔ اور وہ میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے سے انکاری ہیں۔

جیسا کہ آج سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری ، شیخ رشید اور عمران خاں وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو 1970-1971 میں ذوالفقا ر علی بھٹو نے ادا کیا تھا۔ یعنی فوج کی حمایت کر کے انہوں نے ملک بچانے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کی لیکن اس سب کے باوجود نہ پاکستان دو لخت ہونے سے بچ پایا اور نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کو بخشا گیا۔ کیونکہ بقول اکرم شیخ پاکستان کے اصل مالک اپنی غلطیوں کو اپنے سر نہیں لیتے اور اس کا ملبہ عین اسی طرح جیسے امریکا افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے بالکل ایسے ہی پاکستان کے اصل مالکوں نے مشرقی پاکستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ ذوالفقار علی بھٹو پر ڈال دیا اور اسے غیر محب وطن قرار دیتے ہوئے ایک مقدمہ قتل کی آڑ میں پھانسی لٹکا دیا۔

آصف علی زرداری کا یہ کہنا کہ ان کے اندر بھٹو صاحب کی روح داخل ہوگی ہے، اگر یہ درست ہے تو پھر انہیں بھٹو صاحب کی لاڈلی پیاری
اور محبوب بیوی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے بہترین مفاد میں اور جمہوریت پر منڈلانے والے خطرات کے پیش نظر جمہوری قوتوں سے ہاتھ ملائیں۔ بیگم نصرت بھٹو مرحومہ نے اپنے سر کے سائیں کو پھانسی چڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے والے اصغر خاں، ولی خاں سمیت دیگر سیاست دانوں کے ساتھ بیٹھ گئی تھیں۔ میرا اشارہ ایم آرڈی کی جانب ہے۔

بھٹو کو پھانسی اس کے باوجود دی گئی کہ اس نے منہ کے بل گری پاک فوج کو سراٹھا کے چلنے کے قابل کیا۔ پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے جوہری طاقت بنانے کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور مولانا کوثر نیازی کی کتابیں ’’اسلامی بم‘‘ اور ’’ اور لائن کٹ گئی‘‘ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح امریکا ہمارے ایف سولہ طیاروں کے پیسے ہڑپ کیے بیٹھا ہے نہ طیارے اور نہ ہی ہیسے دیتا ہے، ڈھٹائی دیکھو دنیا کے مہذب ترین اور واحد چودہری کی کہ ہمارے ایف سولہ کے پیسے دبا رکھے ہیں اور الٹا کہتا ہے کہ پاکستان کوگزشتہ 15 سالوں میں 33 ارب ڈالرز امداد دے کر غلطی کی ہے، ایسے ہی پاکستان کے اصل مالک سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کو ہر برائی کا’’ کے ٹو پہاڑ‘‘ سمجھتے ہیں اور سیاست دانوں کو ہی جلاوطن اور پھانسی کی سزا کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ مالکوں سے جتنی مرضی بڑی سنگین غلطی ہو جائے، چاہے پاکستان دو لخت ہوجائے، چاہے ازلی دشمن کے جنرل اجیت سنگھ اروڑہ کے روبرو ہتھیار ڈالے جائیں لیکن قصوروار صرف اور صرف سیاست دان ہی گردانے جاتے ہیں۔

گزشتہ روز میاں نواز شریف نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے بنگالی عوام پنجاب سے ایسی آواز سننے کے انتظار میں ہم سے الگ ہوگئے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ شیخ مجیب الرحمان غدار نہیں تھا، وہ محب وطن تھا، اسے ہم نے باغی بنایا، بنگالی عوام کو ہم نے دھتکار دیا۔ جس کا نتیجہ ملک کے دو لخت ہونے کی صورت میں نکلا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پر آج تک کسی نے توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس کی سفارشات پر عمل کیا گیا ہے۔

یہی باتیں جو میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں پاکستان ٹوٹنے کے بعد سے ملک کے خیر خواہ کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان کے اصل مالک اس طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ان کا استدلال ہوتا ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کو لے کر جسٹس حمودالرحمان کمیشن رپورٹ پر عمل درآمد سے ’’ مورال ‘‘ گرتا ہے۔ سقوطِ ڈھاکا کے ذمہ داران کو مرنے پر مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ لحد میں اتارا گیا ہے۔ لیکن پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے سیاست دانوں کو غداری کے سرٹیفیکیٹس دیے گئے۔ یہی سلوک آج میاں نواز شریف سے ہو رہا ہے۔

رانا تنویر حسین اور حاجی علی اصغر منڈا نے حالات کو بھیانک سمت جاتے دیکھ کر اپنے اختلافات کو فراموش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اسے سراہا جانا چاہیے اور اس صلح کو پائیدار دوستی میں تبدیل کرنے کی کوشش کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ہمارے آقا و مولا نبی کریم ﷺ نے بھی تو عظیم مقصد کے لیے مشرکوں سے صلح حدیبیہ کی تھی۔ دعا ہے کہ اللہ پاک اس صلح کو ملک و قوم اور ضلع شیخوپورہ خصوصا تحصیل شرقپور شریف کی بہتری ،تعمیر و ترقی کے لیے کارآمد بنائے اور ہمارے دیگر جمہوریت پسند سیاست دانوں کو بھی قائد اعظم کے پاکستان کو ان کے خواب، فرمودات کے مطابق بنائیں۔پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمن کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھے۔

Facebook Comments
(Visited 26 times, 1 visits today)

متعلق انور عباس انور

khas.loag@gmail.com