مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / زینب تُم ہی قصوری تھی!!

زینب تُم ہی قصوری تھی!!

محمد خان داؤد

شاہ لطیف نے سندھ کے غریب گھروں میں تیزی سے جوان ہوتی بچیوں کو جب دیکھا تو اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ وہ بچیاں جو ہاری، ناری، مزدور کی پھٹی جھونپڑیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور اُن کے کپڑوں پر بھی اتنے ہی پیوند لگے ہوتے ہیں جتنے پیوند اُن کے گھروں کی دیواروں پر لگے ہوتے ہیں۔ جن گھروں میں اتنے در ہوتے ہیں جو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان گھروں کی دیواریں کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور ان گھروں کے در کہاں پر ہیں!

جتنے اُن غریبوں کے دلوں میں درد ہوتے ہیں، اتنے ہی ان کے گھروں میں در ہوتے ہیں۔ وہ بچیاں اپنا تیزی سے نکلتا جسم کیسے چھُپائیں، وہ نہیں چھُا سکتیں۔ جسم وہ درد تو نہیں کہ اسے دل میں دفن کیا جائے؟! جسم تو ایک بولی ہوتی ہے۔ بہت ہی نازک، بہت ہی نفیس۔ جو اگر کوئی نہیں بھی اظہار کرنا چاہے پھر بھی EXPRESS ہو ہی جاتا ہے۔ پر غریب گھروں میں وہ جسم درد کی بولی بن جاتا ہے۔ جب جب وہ جسم تیزی سے جوان ہوتے ہیں اور ان ماؤں کے بال سفید جن ماؤں نے ان جسموں کو جنا ہوتا ہے۔ پھر وہ مائیں ایسے فکر میں آ جاتی ہیں جیسے فکر میں زینب کی ماں آ گئی تھی جب زینب کو گھر سے نکلے بہت دیر ہوگئی تھی۔ اور رات گئے وہ گھر نہیں پہنچی!

لطیف نے ان جوان ہوتی بچیوں کے لیے اپنے درد میں اظہار کیا تھا کہ:

سرجیس تان سور،سامایس تھ سُکھ ویا
اھے بئی پور،مون نمانی نصیب تھیا!


جب تخلیق ہو رہی تھی جب درد، جب جوان ہوئی تو سُکھ گئے
یہ دو درد، مجھ بدنصیب کا نصیب ٹھہرا!

پر زینب سندھ کی نہیں تھی اور نہ ہی تیزی سے جوان ہو رہی تھی۔ وہ تو پنجاب کی تھی اور پنجاب میں اس قصور کی جس کے لیے بابا بھلے شاہ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ قصوری اگر کوئی قصور نہ بھی کریں جب بھی وہ قصوری ہیں۔ بلھے نے اپنے شہر قصور کا درد بیان کرتے لکھا کہ،

تُساں اُچے، تُہاڈی زات وی اُچی
تُسیں وِچ اُچ دے رہندے
اسیں قصُوری، ساڈی ذات قُصوری
اسیں وِچ قُصور دے رہندے


تم اوچے ہو، تمہاری ذات بھی اوچی ہے، اور تم بلندیوں پر رہنے والے ہو، ہم قصوری ہیں، ہماری ذات قصوری ہے، اور ہم رہتے بھی قصور میں ہیں!

تو وہ سات سالہ معصوم زینب بھی قصور کی رہنے والی تھی، سب قصور ذات سے لے کر رہنے تک سب میں وہی مجرم ہے! کیوں کہ وہ قصور کی رہنی والی تھی، وہ اپنے سارے قصور اور درد لے کر وہاں چلی گئی جہاں نہ تو اسے در لگے گا، نہ گھر جاتے دیر ہوگی۔ نہ باپ پریشان ہوگا، اور نہ ہی ماں کے دل میں ہول اُٹھیں گے۔ کیوں کہ زینب کا باپ کچھ لوگوں کی مدد سے اسے اپنے ہاتھوں سے قصور کی قصور زدہ مٹی میں دفن کر آیا ہے اور وہ ماں بھی کچھ دن رو کر اسے اسے بھول جائے گی جیسے دفن کیے بچوں کو ان کے والدین بھول جاتے ہیں۔

پر وہ مائیں تو ان بچوں کو بھولتی ہیں یا بھولنے کی اداکاری کرتی ہیں جن کے اور بھی بچے ہوتے ہیں یا وہ بچے طبعی موت سے مرتے ہیں۔ پر زینب کی ماں زینب کو کیسے بھول پائے گی جس زینب کے ساتھ وہ کیا گیا ہے جو کم از کم جانور اپنے معاشرے میں بھی نہیں کرتے اور ہم اپنے گریبان کھولے اس بات میں مست ہیں کہ ہم انسان ہیں اور انسانوں کے معاشرے میں زندہ ہیں۔ پر کیا یہ معاشرہ انسانوں کا معاشرہ ہے۔اگر انسانوں کا معاشرہ ہے تو پھر ایسی درندگی کیوں کی گئی ہے؟ اگر یہ جانوروں کا معاشرہ ہے تو جانور اپنے قبیلے میں ایسا کچھ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔تو پھر وہ ماں سکتے میں کیسے نہ آئے جس نے چاند سی بیٹی کو جنم دیا تھا۔ اور اس معاشرے نے اس چاند کو آسماں سے اتار پھینکا اور اس گٹر پر وہ چاند کرچی کرچی ملا!

آج تو یونان کے شاعر کازانت زاکس کے لکھے یہ جملے بھی ماتم کر رہے ہیں کہ
"وہ اُس دھرتی پر ایسی پڑی تھی کہ جیسے وہ اپنی دھرتی ماں سے محبت میں پیار کر رہی ہو!”
پر زینب دھرتی پر نہیں تھی۔وہ چاند تھی اور سرِ راہ رُسوا کی گئی!

زینب تو بہت معصوم تھی۔ ابھی تو اس کی بولی بھی توتلی تھی۔ وہ تو ابھی صحیح بولنا بھی نہیں سیکھی تھی۔ وہ تو بس اس ماں کو جانتی تھی جو ماں اسے نہلا کر اس کی موٹی بڑی سفید آنکھوں میں کالا سرما لگایا کرتی تھی، اور اسے تاکید کیا کرتی تھی، "اے کڑئیے دور نا جایا کر سینے نال دوپٹہ ڈالا کر!”

پر وہ ماں نہیں جانتی تھی کہ اسے یہ آدھی رات کے گیدڑ دھرتی پر لے آئیں گے، اُسے نوچیں گے، اُسے کھائیں گے، اور جب جی بھر جائے گا تو اسے مار کر گٹر میں پھینک دیں گے!

مادھو لال حسین نے تو ان بچیوں کی شکایت اپنے دفتر میں درج کی تھی جو بچیاں اپنے گھروں کی ہو جاتی ہیں اور انہیں سسرال والے درد دیتے ہیں تو ان بچیوں کو اپنی مائیں بہت یاد آتی ہیں اور مادھو لال حسین نے اپنی دفتر میں ان کی شکایت درج کی تھی کہ، "مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی!”

آج اس لکھی لائین کو بھی جلا دو! یہ لائین بھی اُس ماں کا درد دور نہیں کر سکتی جس ماں کی بیٹی کی ابھی اتنی عمر ہی نہیں تھی کہ وہ بیاہی جائے، اسے سسرال والے تنگ کریں اور وہ مشرق سے مغرب اپنی ماں کے گھر کی طرف منہ کر کے یہ نوحہ جیسی لائین پڑھے اور بہت روئے کہ، "مائے نی میں کنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی!”

زینب کا درد سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے اور ایک درد اس ماں کے سینے پر ایسے آ کر گرا ہے جیسے وہ چاند جسے آسماں سے اُٹھا کر گٹر پر پھنک دیا گیا۔

کچھ اسٹیٹس، کچھ تصویریں، کچھ شئیر، کچھ لائیکس، بہت سے کمنٹس، کچھ خبریں، کچھ کالم، کچھ مضامین، کچھ ایڈیٹوریل اور پریس کلبوں کے اُداس دروں پر بہت سی مُوم بیتاں!
جو کبھی جلائی جاتی ہیں کبھی بُجھائی جاتی ہیں۔
جو کبھی آپ ہی جل پڑتی ہیں اور کبھی بُجھائے نہیں بُجھتیں!

کیا یہ اُس قصوری ماں کا درد دور کر سکتی ہیں
جو قصور کی ہے، جو قصور کی رہنے والی ہے
جس کی ذات قصوری ہے!!

زینب کا یوں ریپ ہو کر قتل ہو جانا، انسانوں کے اس معاشرے پر کلنک ہے، جس سے اس معاشرے کا منہ کالا ہوکر ہر گیا ہے۔

Facebook Comments
(Visited 25 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com