مرکزی صفحہ / خصوصی حال / ڈاکٹر عارف بارکزئی: کچھ یادیں، کچھ باتیں (2)

ڈاکٹر عارف بارکزئی: کچھ یادیں، کچھ باتیں (2)

ذوالفقار علی زلفی

لیاری لائبریری آنے والے دیگر نوجوانوں بالخصوص مکران سے تعلق رکھنے والے طالب علموں سے بھی ہمارے طویل سرد و گرم مباحثے ہوا کرتے تھے ـ یہ مباحثے بعض اوقات شدید تلخی پر منتج ہوتے ـ ایک ایسے ہی مباحثے کے دوران مکران سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے پروفیسر صبا دشتیاری کے حوالے سے انتہائی گھٹیا جملہ کسا ـ عارف اور امان تقریباً توپ لے کر اس پر چڑھ دوڑے ـ میں نے سرد مزاج عارف کو دوسری بار اس قدر جذباتی ہوتے ہوئے دیکھا تھا ـ قبل ازیں بھی اس کے غیظ و غضب کا نشانہ مکران کا ہی طالب علم بنا تھا ـ اس بد بخت نے یہ کہہ کر اپنی شامت کو دعوت دی کہ نواب نوروز خان ایک مفاد پرست قبائلی سردار تھے، ان کی لڑائی اور گرفتاری محض ایک ڈرامہ ہے ـ

عارف مکرانی طالب علموں کو "ہمارا قیمتی ورثہ” کہا کرتا تھاـ اس کے باوجود چند طالب علم مستقل اس کے طنز کا نشانہ بنے رہتے تھے ـ ان میں سے ایک بی ایس او کا رہنما سعید فیض بھی تھا ـ "یار مطالعہ پاکستان بھی کوئی پڑھنے کی چیز ہے؟” ـ عارف مطالعہ پاکستان میں غرق سعید فیض کی جانب اشارہ کر کے ہم سے طنزاً پوچھتا ـ نجانے اس سادہ جملے میں ایسی کیا بات ہوا کرتی تھی، میں اور امان اتنا زور سے قہقہے لگاتے کہ سب کتابوں سے نظر اٹھا کر ہماری طرف دیکھنے لگ جاتے ـ امر واقعہ یہ ہے سعید فیض کی یکسوئی میں سرِ مو بھی فرق نہیں آتا ـ سعید فیض کے بارے میں بارکزئی نے پیش گوئی کی کہ یہ صاحب مستقبل میں بہت ترقی کریں گے ـ آج کل سنا ہے موصوف بی این پی (عوامی) میں شامل ہو کر "عوام” کی خدمت کر رہے ہیں ـ

امان اور عارف کی دوستی نے مجھے معروف بلوچ دانش ور یوسف نسکندی سے شناسائی اور ان کے گھر کی راہ دکھائی ـ ہم ہر چھٹی والے دن یوسف نسکندی کے گھر منعقد ہونے والی فکری نشستوں میں شرکت کرتے ـ ان نشستوں میں زاہد بارکزئی (عارف کا بڑا بھائی)، عالم بلوچ، کامریڈ اکرم بلوچ، عبدالمجید بلوچ اور سندھی روزنامہ "عوامی آواز” سے تعلق رکھنے والے چند سندھی صحافی (افسوس ان کے نام میرے حافظے سے مٹ چکے ہیں) شریک ہوا کرتے تھے ـ وہاں عموماً کراچی کے بلوچوں کو درپیش مسائل پر گفتگو ہوتی تھی ـ یوسف نسکندی کراچی کے بلوچوں کی تاریخ اور ان پر ہونے والے جبر پر لیکچر دیتے تھے ـ ہم تینوں چونکہ نسبتاً کم عمر تھے، اس لیے ہم وہاں جنم لینے والے بحث مباحثوں کو محض سننے پر اکتفا کرتے ـ

"تقسیمِ ہند سے قبل کراچی کے مالک بلوچ ہوا کرتے تھے لیکن پچاس کی دہائی میں مہاجر اور ساٹھ کی دہائی میں پختون یلغار سے بلوچ کراچی کے ریڈ انڈین بن گئے” ـ یوسف نسکندی حاضرین کو بتایا کرتے ـ انہوں نے اس حوالے سے بعد میں ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھا جس کی کاپی ہم سب میں تقسیم کی گئی ـ اس حوالے سے ہماری طویل بحث ہوئی ـ مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں ان نشستوں نے میرے شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے ـ عارف اس حد تک یوسف نسکندی سے اتفاق رکھتا تھا کہ تقسیمِ ہند کے بعد مہاجر اور پختون یلغار نے کراچی کے بلوچوں کی معاشی اور سیاسی زندگی کو درہم برہم کر ڈالا تاہم اس نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا کہ برطانوی دور میں بلوچ کراچی کے بلا شرکت غیرے مالک تھے ـ امان آخر الذکر خیال کا بھی پرجوش حامی تھا ـ میں چونکہ سرے سے اس استدلال کے ہی خلاف تھا اس لیے میں عموماً امان کے نشانے پر رہتا تھا ـ

عارف بلوچوں کی پسماندگی اور زبوں حالی کا ذمہ دار ان کی قومی غلامی کو گردانتا تھا ـ وہ ہمیشہ کہا کرتا "آزاد سوشلسٹ بلوچ ریاست ہی تمام مسائل کا حل ہے” ـ وہ بلوچ رہنماؤں کی بے حسی اور موقع پرستی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کرتا ـ نواب خیر بخش مری کے بارے میں البتہ اس کا رویہ حیرت انگیز حد تک نسبتاً نرم ہوا کرتا تھا ـ اس کی نکتہ چینی کا نشانہ زیادہ تر میر غوث بخش بزنجو کی زندگی کے آخری اقدامات بنا کرتے تھے ـ وہ غوث بخش بزنجو کی پی این پی کو ان کی سنگین سیاسی غلطی تصور کرتا تھا ـ

"تم نواب اکبر بگٹی کو کیوں کچھ نہیں کہتے جو ہمیشہ اسلام آباد کے ساتھ مل کر بلوچ مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں؟” ـ "بابائے بلوچستان” کے خلاف تنقیدی ریمارکس پر میں احتجاج کرتا ـ "نواب بگٹی کو سمجھنے کی کوشش کرو، اکبر بگٹی برے وقتوں کا بہترین ساتھی ثابت ہوگا” ـ عارف نے مجھے یقین دلایا ـ "اور ڈاکٹر عبدالحئی؟” ـ یہ امان تھا ـ "مجھے ان لوگوں سے سخت نفرت ہے” ـ امان نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا ـ "مجھے بھی” ـ عارف نے تائید کی ـ میں خاموشی اور دکھ سے دونوں کو دیکھتا رہا کیونکہ میں اس زمانے میں اینٹی سردار فلسفے سے سخت متاثر تھا ـ

وقت کا دریا یونہی بہتا رہا ـ 1998 کے ممکنہ ایٹمی دھماکوں کے خلاف عارف نے لائبریری میں بلوچ طلبا کو ایک سائنسی قسم کا لیکچر دے کر اس کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے کی دعوت دی ـ میں مصروفیات کی بنا پر احتجاج میں شرکت نہ کر سکا ـ عارف کا احتجاج لیکن بے اثر ثابت ہوا، پاکستان نے چاغی کو راکھ بنا کر اس راکھ کا نام "تکبیر” رکھ دیا ـ

اس دوران امان نے گوئٹے انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے لیا ـ وہ جرمن زبان سیکھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے جرمنی جانے کا منصوبہ بنا چکا تھا ـ امان جرمن فلسفہ پڑھنے کا خواہش مند تھا لیکن اس کے بقول اہلِ خانہ کا دباؤ ہے مجھے فلسفے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اٹامک انرجی میں دلچسپی لینی چاہیے ـ عارف کے ذہن میں بھی یورپ جانے کا سودا سما چکا تھا ـ اسی دوران میں چھبار چلا گیا ـ

تقریباً چار مہینے بعد جب میں چھبار سے لوٹا تو عارف بارکزئی کی زبانی معلوم ہوا امان جرمنی جاچکا ہے ـ امان عبداللہ ہمارا محور تھا، اس لیے اس کے جانے کے بعد ہماری میل ملاقاتیں نسبتاً کم ہوگئیں ـ ہم کبھی کبھار اتفاقیہ مل گئے تو گھنٹوں بیٹھ گئے ورنہ ہفتوں تک ایک دوسرے کی صورت بھی نہیں دیکھ پاتے ـ واقعی "….. دلفریب ہیں غم روزگار کے” ـ

ایک دن اچانک مجھ پر انکشاف ہوا عارف سویڈن جاچکا ہے ـ میں بہت تلملایا کہ بے وفا بتا کر بھی نہ گیا ـ میں نے جھٹ امان کو شکایت بھرا ای میل بھیجا ـ جواب عارف کے ای میل سے ملا ـ معذرت کے ساتھ عذر بھی تھا ـ "جس ہفتے جا رہا تھا تم اس پورے ہفتے نہیں ملے، تمہارے گھر بھی آیا تھا مگر وہاں بھی نہ ملے” ـ میں خاموش رہا ـ گاہے بہ گاہے ای میل کا تبادلہ ہوتا رہا ـ زندگی چلتی رہی ـ دوست یورپ جا چکے تھے ـ میں لیاری کی گلیاں ناپ رہا تھا اور یہ گلیاں گینگ وار کی دلدل میں دھنستی جا رہی تھیں ـ

عارف بارکزئی سے میری آخری ملاقات سال بھر پہلے اسی جگہ ہوئی جہاں ہم پہلی بار ملے تھے، لیاری لائبریری ـ سفید شلوار قمیض میں ملبوس عارف آنکھوں پر نظر کا چشمہ لگائے بہت وجیہہ لگ رہا تھا ـ ہم گرم جوشی سے ملے ـ اس نے مجھے بتایا وہ چند دن پہلے کراچی پہنچا ہے ـ اس نے مجھے یورپ کے قصے سنائے، پی ایچ ڈی کے حوالے سے مصروفیات کا ذکر کیا ـ مجھ سے لیاری کا احوال سنا، بلوچستان کے حالات پر تبادلہِ خیال کیا ـ وہ پُرعزم تھا، مضبوط اور امیدوں سے لبریز تھا ـ

(جاری)

Facebook Comments
(Visited 36 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔