مرکزی صفحہ / خصوصی حال / ڈاکٹر عارف بارکزئی: کچھ یادیں، کچھ باتیں (1)

ڈاکٹر عارف بارکزئی: کچھ یادیں، کچھ باتیں (1)

ذوالفقار علی زلفی

وہ غالباً 1995 کی گرمیاں تھیں ـ میٹرک کے امتحانات کے بعد میرے پاس فراغت ہی فراغت تھی ـ میرا بہترین مشغلہ روزانہ لیاری لائبریری جانا، مطالعہ کرنا اور اپنے نئے نظریاتی دوست امان عبداللہ سے دنیا جہان کے موضوعات خصوصاً بلوچ سیاست پر بحث و مباحثے کرنا تھا ـ انہی فارغ البالی کے دنوں میں ایک روز امان عبداللہ نے ایک خوش شکل نوجوان سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا "زلفی! یہ ہے عارف بارکزئی جس کا میں تذکرہ کرتا تھا” ـ میں نے کتاب سے سر اٹھا کر نوجوان کی طرف دیکھا ـ وہاں ایک معصوم دوستانہ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی ـ

روایتی جملوں کے تبادلوں کے بعد ہمارے درمیان باقاعدہ باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو شروع ہوئی ـ کسی ذہین انسان سے گفتگو کرنا وقت کا بہترین مصرف ہے، نوجوان عارف بارکزئی گفتگو کے دوران مجھے اس کا احساس دلاتا رہا ـ یہ میری پہلی ملاقات تھی، ایک ایسے نوجوان سے جس نے مستقبل میں میری نظریاتی زندگی میں انقلاب برپا کرنا تھا ـ

اس ملاقات کے بعد ہم تقریباً روز ملنے لگے ـ کبھی لیاری لائبریری، کبھی چائے خانوں، کبھی امان عبداللہ کے گھر، تو کبھی ……. ـ "بلوچستان پر عالمی طاقتوں کی نظر ہے جلد یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا” ـ عارف بارکزئی ہمیں بتایا کرتا ـ "لیکن یار بلوچ کو تو کچھ پتہ ہی نہیں” میں تشویش کا اظہار کرتا ـ ایسے میں امان مسکرا کر کہتا "تمہیں تو پتہ چل گیا ناں” ـ اس پُرمزاح جملے پر میں سٹپٹا جاتا ـ میری حالت پر امان اور عارف خوب محظوظ ہوتے ـ

راتوں کو چاکیواڑہ میں واقع الفتح ہوٹل اور امان عبداللہ کا گھر ہماری نشستوں کے اہم مراکز ہوتے ـ جہاں ہم بزعم خود دنیا جہاں کے مسائل کی توجیہ، پسِ منظر اور یہاں تک ان کا حل بھی پیش کرتے ـ پھر اس حل پر تنقید کر کے اسے ناقابلِ عمل ثابت کرنے کی بھی شعوری کوشش کرتے ـ بعض اوقات بحث کے دوران ہم اس قدر جذباتی ہو جاتے کہ چائے کا بل ادا کیے بنا گھر کا رخ کر لیتے ـ دوسرے دن لائبریری میں اس بھول کی یاد پر ہمیں اتنی ہنسی آتی کہ پیٹ میں بل پڑ جاتے ـ ایسے مواقع پر امان کہا کرتا "شکر ہے میں چائے نہیں پیتا” ـ

اس زمانے میں میرا پختہ یقین ہوا کرتا تھا کہ بلوچ قومی مسئلے کا بہترین اور پائیدار حل ایک جمہوری پاکستان میں مضمر ہے ـ مباحثے کے دوران میں جب اپنے اس نظریے کی حقانیت ثابت کرنے کے لیے دلائل دیتا تو عارف کہا کرتا "زلفی! پاکستان میں اگر دنیا کی بہترین جمہوریت بھی قائم ہو جائے تب بھی بلوچ قوم کی حالت میں سدھار نہیں آ سکتا اور یہ بھی لکھ کر رکھ لو پاکستان میں جمہوریت کا آنا ممکن بھی نہیں کیونکہ یہ فوج کے مفاد میں نہیں ہے ـ بلوچ قومی مسئلے کا حل صرف اور صرف ایک آزاد سوشلسٹ بلوچ ریاست میں پوشیدہ ہے” ـ میں جب بھی اس کے اس کلیے کو رد کر کے امان کی طرف دیکھتا تو وہ بارکزئی کے نظریے کو درست ثابت کرنے کے لیے دلائل کے انبار لگا دیتا ـ تاہم یہ امر قابلِ ذکر ہے امان کی نسبت عارف اپنی بات واضح کرنے میں زیادہ طاق تھا ـ

عارف کو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو سادہ پیرائے میں بیان کرنے میں کمال کا ملکہ حاصل تھا ـ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہیگل کے فلسفے کو سمجھنے میں مجھے دقت کا سامنا ہو رہا تھا اور میں نے اسے سمجھنے میں ناکامی کا اعلان کیا تو یہ عارف تھا جس نے گلی محلوں کی آسان و سہل مثالوں اور تشبیہوں کے ذریعے مجھے ہیگل کا فلسفہ سمجھایا ـ یوں تو عارف کا پسندیدہ موضوع بین الاقوامی تعلقات تھا لیکن وہ فلسفہ، سماجیات، معاشیات اور سائنس پر بھی گھنٹوں بولنے پر قادر تھا ـ

اسٹیفن ہاکنگ کی مشہورِ زمانہ کتاب "وقت کا سفر” جب ہمارے زیرِ مطالعہ آئی تو بارکزئی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا "مصنف نے رجعت پسند سائنس دانوں کی بڑی اچھی اور مؤثر نمائندگی کی ہے” ـ وہ سردیوں کی رات تھی ـ ہم سیفی بلڈنگ کے برابر میں بہتے نالے پر بنے چبوترے پر بیٹھے قہوہ پی رہے تھے ـ "تم ہر وقت ہر کسی پر شک کرنا ضروری کیوں سمجھتے ہو؟” ـ حسبِ معمول عارف نے سادہ مثالوں کے ذریعے تخلیقِ کائنات اور ارتقا پر اپنے نقطہِ نظر کی وضاحت کر کے "وقت کا سفر” میں موجود تضادات کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ متعدد نئے سوالات بھی اٹھا دیے ـ میں نے جب اس کے نظریہِ تخلیقِ کائنات پر سوالات اٹھائے تو اس نے کندھے اچکا کر کہا "میں فی الحال مفروضوں پر بات کر رہا ہوں” ایسے میں امان کی چہکتی آواز آئی "جب کہ اسٹیفن ہاکنگ تو فتویٰ دے رہا ہے” ـ

اسٹیفن ہاکنگ پر کیا موقوف عارف، ڈارون کے نظریہِ ارتقا، آئن اسٹائن کے نظریہِ اضافیت اور گریگوری مینڈل جیسے قد آور سائنس دانوں کے نظریات کا بھی بڑی خوبی سے پوسٹ مارٹم کیا کرتا تھا ـ گوکہ وہ ڈارون کو نظریہ ارتقا کا اور آئن اسٹائن کو طبیعات کا محسن تصور کرتا تھا لیکن اس کے باوجود ان کے نظریات میں موجود خامیوں اور کمزوریوں کو بیان کرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا کرتا تھا ـ

امان کے گھر منعقد ہونے والی نشستوں میں امان کا بھائی اسد عبداللہ بھی ہماری گفتگو میں پرجوش حصہ لیتا اور اپنے برجستہ فقروں سے محفل کو زعفران زار کر دیتا ـ ایک ایسی ہی محفل میں، میں عارف سے الجھ پڑا ـ ہوا یوں میں نے امان سے م.ک پیکولین کی کتاب "بلوچ” مانگی ـ امان نے کہا یار عارف پہلے تقاضا کر چکا ہے، وہ پڑھ لے تو تم لے لینا لیکن میں بضد رہا ـ میں نے اپنا مطالبہ پھر دہرایا، اب مخاطب عارف تھا ـ پہلے تو عارف مسکرایا پھر اس نے انتہائی نرمی سے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ مجھے اس میں سے چند ضروری نوٹس لینے ہیں لیکن میں بھلا کہاں ماننے والا تھا، بدستور اپنی بات بلکہ ضد پر اڑا رہا ـ بالآخر مجھے یقین ہوگیا میری بات نہیں مانی جائے گی، میں ناراض ہو کر وہاں سے چلا آیا ـ قریباً ایک ہفتے بعد عارف میرے گھر مجھے منانے اور وہ کتاب گفٹ کرنے خود آ گیا ـ کتاب بطورِ تحفہ لیتے میرے ذہن کے کسی گوشے میں دور دور تک یہ خیال نہ تھا کہ ایک رات اس کتاب کو سامنے رکھ کر میں پھوٹ پھوٹ روؤں گا ـ

(جاری ہے)

Facebook Comments
(Visited 40 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔