مرکزی صفحہ / بلاگ / سیاسی منظرنامہ اور بلوچستان کی تقدیر؟

سیاسی منظرنامہ اور بلوچستان کی تقدیر؟

شبیر رخشانی

بزرگوں کی زبانی اکثر سنا کرتا تھا کہ بیٹا جب آدمی بوڑھا ہو جائے تو وہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ تو پتہ ہے لو گ کیا کرتے ہیں اسے گھر کے ایک کونے میں پھینک دیتے ہیں۔ کبھی کبھار اس کا حال پوچھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کبھی کبھار وہ ٹشو پیپر کی مثال بھی دیا کرتے تھے کہ انسان کی وقعت ختم ہو جائے تو وہ مانند ٹشوپیپر ہو جاتا ہے۔ جب چاہا استعمال کیا جب چاہا پھینک دیا۔

بلوچستان اسمبلی کی صورتحال مجھے اس سے کم نظر نہیں آتی۔ لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان اب بھی توانا تھے گرج رہے تھے برس رہے تھے۔ نہ جانے کونسی نوبت آن پڑی کہ ان کے ہمدرد و ہمنوا ان کے مخالف ہو گئے اور ان سے نالاں دکھائی دیے کہ بات عدم اعتماد تک جا پہنچی۔ اس سے پہلے کہ اسمبلی ارکان ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا کر انہیں کسی کونے میں پھینک دیتے نواب صاحب نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ کا اعلان کر دیا۔ اور وقت سے پہلے اس کرسی کو چھوڑنے پہ آمادہ ہوئے جس کے لیے نواب صاحب نے قربانیاں دی تھیں۔

ویسے تو سیکرٹریٹ جاتے ہوئے مجھے کئی بار وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب سے گزرنا پڑا ہے۔ اندرونی خاکہ دیکھنا ایک بار نصیب ہوا ہے۔ سیکرٹریٹ کی اوپری منزلہ عمارت جہاں مختلف ادوار میں اس سیٹ پر براجمان ہونے والے وزرا اعلیٰ کے خاکوں پہ نظر پڑی. نہ جانے کتنے خاکے تھے وہ خاکے کس کی نذر ہو گئے۔ جس آخری تصویر پہ نظر پری وہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی تھی۔ خیال یہی ظاہر کیا جا رہا تھا کہ 2018 تک ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہی کی تصویر براجمان نظر آئے گی۔ لیکن بھلا ہو مری معاہدے کا کہ اس نے نواب ثنا اللہ زہری کی تصویر کا اضافہ کر دیا۔ چلیں سب نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ 2018 تک ایک اور تصویر کا اضافہ نہیں ہو گا۔ لیکن 2018 کا آغاز موجودہ حکومت کے لیے نیک ثابت نہ ہوا۔ نواب ثنااللہ زہری کو اپنی ملازمت سے دست بردار ہونا پڑا۔

خدا جانے نئے ملازم کا انتخاب راولپنڈی کرے گا یا اسلام آباد۔ البتہ ایک اور تصویر کا اضافہ ضرور ہو گا۔ نئی تصویر آویزان ہوتے ہی ایک نئی چہرے کا اضافہ ہو گا۔ موجودہ منحرف اسمبلی ارکان اسے اپنے لیے کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ نہ جانے یہ کون سی کامیابی ہے جو موجودہ حکومت کو ساڑھے چار سال میں نصیب نہیں ہوئی۔ وہ پانچ ماہ میں حاصل کرنے جا رہے ہیں۔

تمام چیزیں ایک طرف البتہ بلوچستان کا سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے میں مقتدر قوتوں کا ہاتھ ضرور شامل ہے۔ وہ کون سی مجبوریاں تھیں جو نواب ثنا اللہ زہری کو ہٹانے کا موجب بنیں۔ یا ثنا اللہ زہری کے ساتھ ان مقتدر حلقوں کی کس موضوع پر ان بن ہوئی کہ ارکان اسمبلی حرکت میں آ گئے اور انہیں عدم اعتماد کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ بلوچستان میں قائم مسلم لیگ ن کے وزیراعلیٰ کے خلاف خود انہی کے پارٹی اراکین اٹھ کھڑے ہوئے۔ جن پر مسلم لیگ ن اعتماد کرتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ اور کیا وجوہات تھیں کہ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی خود چل کر بلوچستان چلے آئے, دو روز تک کوئٹہ میں قیام کرتے رہے لیکن وہ منحرف اراکین کو منانے میں کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ منحرف اراکین نے وزیراعظم سے ملنے سے انکار کر دیا. نتیجہ یہ سامنے آیا کہ وزیراعظم کو ناکام واپس اسلام آباد لوٹنا پڑا۔ اسی شام نواب ثنااللہ زہری کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

نواب ثنا اللہ زہری کے استعفیٰ کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے لیے چند نام سامنے آ گئے ہیں یہ نام مسلم لیگ ن ہی کے اراکین کے آر رہے ہیں۔ جن میں صالح محمد بھوتانی کو مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی جس کی جڑیں پنڈی تک جاتی ہیں, کو نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر میر حاصل خان بزنجو کی حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں سرفراز بگٹی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ میر حاصل خان بزنجو کے اس بیان کے بعد قیاس آرائیوں نے جنم لیا ہے کہ نیشنل پارٹی اندرونی طور پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک دھڑے کی خواہش ہے کہ وہ اسی اسمبلی میں بطور وزیر شامل ہوں۔ یہ وہی دھڑا ہے جو نیشنل پارٹی کی مؤقف کے برعکس ثنااللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد میں پیش پیش تھے۔ نیشنل پارٹی الیکشن سے قبل ایک اور خطرہ مول لینا نہیں چاہتی اور پارٹی کو تقسیم کا شکار دیکھنا نہیں چاہتی یہی وجہ ہے کہ میر حاصل خان بزنجو نہ چاہتے ہوئے سرفراز بگٹی کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس اعلان کے بعد سرفراز بگٹی بظاہر ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آ گئے ہیں۔

موجودہ سیٹ اپ سے زیادہ فائدہ پختونخوا میپ نے اٹھایا ہے۔ نواب ثنا اللہ زہری کے استعفی سے دونوں پارٹیاں پختونخوا میپ اور نیشنل پارٹی بظاہر حزب اقتدار سے حزب اختلاف میں چلے جائیں گے۔ کسی کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ سیاسی منظرنامہ اتنی جلدی بدلے گا۔ نیشنل پارٹی اور پختونخوا میپ نے نہ جانے کون کون سے خواب آنکھوں میں سجا رکھے تھے وہ سب چکنا چور ہو گئے۔ کیا نئے سیٹ اپ سے ایک مضبوط حزب اختلاف سامنے آئے گی۔ جس کی بہت کم امید کی جا رہی ہے۔ کیا ان پانچ مہینوں میں بلوچستان میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ بلوچستان کے عوام موجودہ بدلتے سیاسی منظرنامے میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔ اور نہ ہی انہیں کوئی تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

بلوچستان کے گزشتہ الیکشن سے یہ نتیجہ کھل کر سامنے آ گیا کہ حکومت اور اراکین عوام کے منتخب کردہ نہیں تھے اور نہ ہی عوام نے رائے دہی میں حصہ لیا۔ یہی وجہ تھی کہ آواران سے میر عبدالقدوس بزنجو 450 ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔ جو آواران کے ٹوٹل ووٹرز کا ایک فیصد بھی نہیں ہو گا۔ لیکن وہ کامیاب ہوئے۔ نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور حکومت میں انہیں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بٹھایا گیا۔ اور حالیہ عدم اعتماد کی تحریک میں وہ پیش پیش نظر آئے۔ بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بدلتے منظرنامے سے قطعا یہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی منظرنامے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کا زمینی منظر نامہ بھی تبدیل ہو گا۔

Facebook Comments
(Visited 32 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔