مرکزی صفحہ / بلاگ / بے یار و مدد گار وزدانی قبیلہ

بے یار و مدد گار وزدانی قبیلہ

سکندر مگسی

بلوچستان کا ضلع جھل مگسی کو درپیش مسائل و مشکلات کا سامنا ہے ان میں سے ایک پانی نہ ہونا. جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ اراضی زمینیں غیرآباد ہیں.

یونین کونسل ہتھیاری جھل مگسی سٹی سے 20 کلومیٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گنداواہ سے لگ بھگ 30 سے 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 70 سال ہوگئے ہیں لیکن یونین کونسل ہتھیاری بنیادی ضروریات سے محروم ہے اس پورے یونین کونسل میں زمینیں آباد تو دور کی بات یہاں روز مرہ زندگی بمشکل گزر رہی ہے.

یونین کونسل میں لوگ 2 سے 3 ماہ تک نہیں نہاتے. یونین کونسل سے نقل مکانی کی شرح‌ بھی زیادہ ہے. %88 افراد پانی نہ ہونے کی وجہ سے نقل مکانی کر جاتے ہیں. اس یونین کونسل کے لوگ نقل مکانی کر کے روزی روٹی کمانے کے پیچھے دوسرے اضلاع کا رخ کر تے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں وہ یا تو مجبوری میں رہ رہے ہیں یا تو ان کا کوئی سہارا نہیں ہے۔۔

یونین کونسل کے فنڈز کہاں خرچ ہورہے ہیں یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے اور نہ صوبائی حکومت ان لوگوں پر توجہ دے رہی ہے اور نہ وفاق کی جانب کوئی مدد کی فراہم کی جاری ہے۔۔

موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے خوشحال لوکل سپورٹ آرگنائزیشن اور وزدانی برادری کے تعاون سے گوٹھ علی جان / گزکھڑ وزدانی میں پانی دریافت کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا. اس سروے میں پتہ لگا کہ گوٹھ علی جام / گزکھڑ وزدانی میں پینے کا پانی موجود ہے جو کہ قابل استعمال بھی ہے۔۔

اب مسئلہ اخراجات کا تھا گاؤں والوں نے سوچا کہ ڈسٹرکٹ و صوبائی حکومت ان کی مدد کرنے آئے گی لیکن یہ خواب بھی ادھورا رہ گیا گورنمنٹ اس یونین کونسل کے لوگوں کی مدد کرنے سے قاصر رہا.

گاوں والوں نے ایل ایس او خوشحال کے پلیٹ فارم سے سید ساجد علی نقوی سے رابطہ کیا اور تمام تر صورتحال سے انہیں آگاہ کیا۔

اس طرح وہاں پر واقع علی جان / گزکھڑ وزدانی گاوں نزدیک ہتھیاری میں ڈرل مشین سے بور کا کام شروع کیا گیا۔

اللہ پاک کے فضل و کرم سے بور کی ڈرلنگ 210 فٹ پر پہنچا تو پانی نکلنا شروع ہوا اس کا پانی واٹر کوالٹی ٹیسٹ کے لیے کوئٹہ بھجوایا گیا جب رپورٹ آئی تو اس پانی کو پینے کے قابل بتایا گیا رپورٹ کے مطابق اس پانی کو بہتر و تسلی بخش قرار دیا گیا اور اس کے بعد سید ساجد علی نقوی نے ایک سولر پینل کے ساتھ ساتھ ایک 10 بائے 10 پانی کی ٹینکی اخراجات بھی برداشت کرنے کی حامی بھری بلکہ کام بھی شروع کروا دیا جوکہ اب ٹیوب ویل سولر پینل پر چلاتا ہے اس سے 2 انچ پانی نکلتا ہے.

اب اس ٹیوب ویل سے ہتھیاری سٹی سمیت پورا یونین کونسل پانی استعمال میں‌ لاتا ہے. یونین کونسل ہتھیاری لوگوں کے لیے امید کی نئی کرن بن کر سامنے آنا شروع ہوگئی ہے اب دیکھنا یہ کہ حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت یونین کونسل کی سطح پر پہنچ لوگوں کی معیاری بلند کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم و صحت جیسی بنیادی ضروریات پر کتنا توجہ دیتی ہے۔۔۔

تھوڑی سی وضاحت کرتا چلوں کہ گاوں گزکھڑ وزدانی کے لگ بھگ 500 سو سے اوپر گھرانے ہیں لیکن اس گاوں میں مردوں میں تعلیم کی %2 فیصد ہے جب کہ خواتین میں تعلیم کی %0 فیصد ہے۔۔۔

تعیلم و روزگار کے مواقع نہ ہونے وجہ سے مگسی قبیلے کے اہم شاخ وزدانی قبیلہ کے 5 سال کے اوپر کے بچے بھیرو و بکریاں چراتے نظر آئیں گے یا تو پھر نشے کی طرف مائل ہورہے ہوں گے۔

تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے عرصہ دراز سے اس قبیلے میں ہلکی سی رنجش پر جنگ چڑ گئی تھی اس جنگ میں تقربیا 50 سے زائد افراد مارے گئے. اب ان کی آپس کی لڑائی تو ختم ہوچکی ہے لیکن غربت نے اپنے چنگل میں گھیر رکھا ہے نسل کشی ہونے کے باوجود ایک نئے عزم کے ساتھ کسی فرشتے کی شدید سے تلاش جاری ہے۔۔۔

Facebook Comments
(Visited 30 times, 1 visits today)

متعلق سکندر مگسی

سکندر مگسی
سکندر علی مگسی ایک سماجی کارکن ہیں۔ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ سے ایم اے کر چکے ہیں۔ سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صحافتی سرگرمیاں بھی انجام دیتے ہیں۔ Sikandar_magsi786@yahoo.com