مرکزی صفحہ / بلاگ / بلوچستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ

بلوچستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ

عبدالحلیم

بلوچستان کی 70 سالہ سیاسی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس میں حکومت کے مضبوط ہونے کی مثال قابل رشک نہیں رہا۔ بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں حکومت سازی کے لیے سیاسی مداخلت کے تڑکے کا ذائقہ بھی موجود رہا ہے۔
70 کی دہائی میں نیپ کی حکومت اور 1998 میں سردار اختر مینگل کی حکومتوں کو چلتا کیا گیا۔ رئیسانی حکومت کو مدت پوراکرنے کا موقع نہیں دیاگیا ستم یہ تھا کہ پی پی پی نے ہی اپنی ہی صوبائی حکومت کو معطل کیا۔
پھر اس کے آنے والی حکومتیں ڈاکٹر عبدالمالک کے ڈھائی سالہ دور کو چھوڑکر صوبے کے غیرسیاسی اور روایتی لوگوں کو حکمرانی کے تاج پہنائے گئے۔

بلوچستان میں قائم یہ حکومتیں بادی النظر میں صوبے کی من الحیث مشکلات کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ بلوچستان کو نواب رئیسانی کے دور میں این ایف سی ایوارڈ میں خطیر رقم بھی دی گئی اور اس وقت کے ممبران اسمبلی کو سالانہ 25 کروڑ روپے کے فنڈز بھی دیئے گئے لیکن ان کے حلقہ انتخابات میں شازو ناذر ہی اجتماعی منصوبوں کی کوئی مثال مل سکتی ہے ان میں سے بہت سے ممبران آج بھی موجودہ اسمبلی کا حصہ ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں قانون سازی کی نظیریں بھی کم ملتی ہیں اور نہ ہی دورافتادہ علاقوں میں بنیادی اسٹرکچر کی مثالیں۔

نیپ کی حکومت کے بعد صرف ڈاکٹر عبدالمالک کے دور میں تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لائے گئے. اب بی ایم سی کے بعد بلوچستان میں تین میڈیکل کالجز کے کام کرنے کی توقع ہے۔

یعنی بلوچستان میں زیادہ عرصہ جن زعماء نے حکمرانی کا شرف حاصل کیا وہ بلوچستان کے مجموعی مسائل کے حل میں اپنا کردار بخوبی ادا نہ کرسکے۔ تعلیم، صحت اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات عام آدمی کا ابھی تک مقدر نہیں ٹہرے ہیں۔ سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے سائیے منڈلارہے ہیں۔

کرپشن اور کمیشن خوری کے رجحان نے مفاد عامہ کے مفادات کو مفلوج کردیا ہے۔
بلوچستان کا کرپشن کے حوالے سے اعداد و شمارے بھی اچھا نہیں۔

بلوچستان میں گڈ گورننس کی بھی اچھی مثالیں نہیں دی جاتی ہیں۔ بس یہاں گڈ گورننس کے لیئے دعاؤں پر اکتفاء کیا جاتاہے۔

گزشتہ دنوں نواب ثناءاللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا بظاہر بنیادی وجہ طرز حکمرانی کو قرار دے کر شروع کی گئی جو بالاخر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے استعفیٰ پر ختم ہوگئی لیکن یہ اپنے پیچھے کئی سوالات بھی چھوڑگیا ہے۔

جن لیگی اور ان کے ہم خیال ممبران اسمبلی نے اپنے ہی قاعد ایوان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا وہ زیادہ تر الیکٹیبل لوگ ہیں جو نسل در نسل اور عرصہ دراز سے اپنے حلقہ انتخاب کی نمائندگی کرتے چلے آرہے ہیں اور ان کی اکثریت حکومتوں میں بھی رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب کے ساتھ انصاف کررہے ہیں یا ان کا حلقہ انتخاب بنیادی سہولتوں سے کماحقہ فیضیاب ہے؟

وزیر اعلی بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد میں کامیابی حاصل کرنے والے اس کو اپنی اہم کامیابی گردان بھی رہے ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کے پرجوش حامی و اپوزیشن لیڈر بلوچستان مولانا عبدالواسع نے اس کو اہم کامیابی بھی قرار دے دیا ہے۔ لیکن مولانا صاحب بھی کافی عرصہ سے سابقہ حکومتوں کا حصہ رہے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ بلوچستان میں اجتماعی مفادات کو دوام نہیں ملا۔؟ بلوچستان میں حسب معمول سیاسی تبدیلی لائی جاچکی ہے اس کے محرکات کیا ہوں گے وہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن نواب ثناءاللہ زہری کی حکومت کے خاتمہ کے بعد صوبے کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے محرکینِ عدم اعتماد تحریک نے اپنے جس جذبہ کا اظہار کیا ہے. کیا وہ موجودہ حکومت کی باقی ماندہ 5 ماہ کے قلیل مدت میں اپنے نیک جذبات کو پوراکرکے 70 سالوں کے شکایات کا ازالہ کر پائیں گے جس کا سب کو بے صبری انتظار رہے گا؟؟

Facebook Comments
(Visited 32 times, 1 visits today)

متعلق عبدالحلیم

گوادر میں مقیم عبدالحلیم کل وقتی صحافی ہیں۔ مقامی مسائل کی کوریج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ صحافت اور ادب کے امتزاج سے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ Email: haleemhayatan@gmail.com