مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / زاہدہ بھی چلی گئی، اب؟!

زاہدہ بھی چلی گئی، اب؟!

محمد خان داؤد

جب اَسی کے عشرے میں سندھ کی دیہی لڑکیاں جیجی زرینہ بلوچ، روبینہ قریشی کے محسور کُن اور مُدھر سُر سُن رہی تھیں تو اُن کے دلوں میں بھی یہ خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ وہ بھی گائیں، ان کے گلے بھی ایسے ہی سُر نکالیں، اُن کے لیے بھی ایسی ہی سنگیت کی محفلیں سجیں، وہ لوگوں کے سجے پنڈالوں میں جائیں، لوگ اُن سے محبت کریں۔ اور یہ اُس محبت کے ساحل پر وہ سیپیاں بن جائیں جنہیں کبھی پانی ساحل پر چھوڑ دیتا ہے، کبھی سمندر میں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ وہ سیپیاں اپنے اندر موتیاں رکھتی ہیں۔

واقعی اُس زمانے میں زرینہ بلوچ اور روبینہ قریشی وہ سیپیاں تھیں جن کے اندر سُروں کے موتی ہوا کرتے تھے۔ دیہی سندھ کی کئی لڑکیاں اس ڈگر پر چل پڑیں، کئی اپنے کاموں اپنے خیالوں میں آزاد تھیں جو چاہے وہ کر سکتی تھیں، اور کتنی ایسی تھیں جو پابندیوں کی زد میں آ گئیں اور وہ سب کچھ نہ کر سکیں جو وہ کرنا چاہتی تھیں۔

اُسی زمانے میں لاڑکانہ کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں نما شہر قمبر میں ایک لڑکی اسکول جاتی ہے۔ وہاں وہ اپنا سبق ہی یاد کر رہی ہوتی ہے کہ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اسی علاقے میں رسول بخش پلیجو آئے ہوئے ہیں۔ وہ پسماندہ طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ لڑکی اس پنڈال نما جلسے میں شریک ہوتی ہے۔ رسول بخش پلیجو کی علمی اور مُدلل گفتگو سُنتی ہے۔

پھر وہ بچی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتی۔ بہت ہی مشکل سے اپنے شہر کے اسکول سے میٹرک پاس کرتی ہے۔ اس کے کلاس فیلو پڑھ کر آگے نکل جاتے ہیں۔ اور وہ اپنے دل کو تھامے وہیں رہ جاتی ہے….. جس کے لیے شاعر نے لکھا تھا کہ،

عمرِ یار کئی در پھلانگ آئی
اے دل تو جہاں ٹھہرا تھا
وہیں ٹھہرا ہوا ہے!

عمر تو اُس زاہدہ کے ہاں بھی کئی در پھلانگتی رہی۔ پر اُس کا دل رسول بخش پلیجو کے دامن میں ایسا ٹھہرا کہ وہ زاہدہ جس نے اپنی نصابی کتابیں وہیں قمبر کے اُسی اسکول میں چھوڑ دیں، اور وہ رسول بخش پلیجو کے پاندھ سے پیچ لڑا بیٹھی…

وہ رسول بخش پلیجو کو اپنا سب کچھ مان کر اس دنیا کی رسومات اور اس دنیا کی باتوں اور نیتوں کو بہت پیچھے چھوڑ گئی۔ زاہدہ کے ہاتھوں سے وہ ساری کتابیں چھوٹ گئیں جو اُسے اس دنیا میں کوئی مرتبہ دلاتیں۔ وہ کوئی پروفیسر، کوئی انجینئر، کوئی فلاسفر بن جاتی اور اس کے نام کے ساتھ کوئی اور لقب بھی لگ جاتا۔

پر ایسا کچھ نہیں ہو پایا۔ وہ جیسے پہلے دن سے زاہدہ تھی، وہ زندگی کے آخری دنوں تک بس زاہدہ ہی رہی۔ سیدھی سادی، معصوم سی، سفید بالوں والی بوڑھی بچی!

وہ زاہدہ جس کا جب دامن پلیجو سے اٹکا تو اُس نے وہ سب کتابیں پڑھیں جن کتابوں کو پڑھ کر ٹھٹھہ کا ایک سانولا سا جوان رسول بخش سے رسول بخش پلیجو بنا تھا۔ زاہدہ نے بھی وہ سب کتابیں پڑھ ڈالیں۔

زاہدہ نے بھٹائی سے لے کر شولوخوف تک، اقبال سے لے کر ماؤ تک کی سب لکھی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ اور جب وہ علمی بحث میں پلیجو سے آگے بڑھتی تو پلیجو اپنے گھر میں موجود لڑکیوں سے کہتا اب اس کو سبنھالو!

اور وہ لڑکیاں اپنی مخصوص آواز میں وہ گیت گانا شروع کر دیتیں جو گیت اپنی جوانی میں زرینہ بلوچ گایا کرتی تھی۔ اور رسول بخش پلیجو اُن گیتوں پر اپنا سر دُھنتے رہتے تھے۔

وہ زاہدہ جس نے اپنے مرشد جیسے استاد رسول بخش پلیجو سے سیاسی کلاسیں لیں، علمی بحثیں سکھیں اور اتنا آگے بڑھ گئی جس کا اپنی زندگی میں کوئی لڑکی بس تصور ہی کر سکتی ہے۔ رسول بخش پلیجو تو محض ایک علمی اور سیاسی انسان ہیں۔ وہ اپنے علم سے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، جس میں اس کو کوئی خاطر خواں کامیابی نہیں ملی۔ پلیجو کے ساتھ وہی لوگ شامل رہے ہیں جو علمی لوگ تھے یا ہیں پر کئی صدیاں پہلے پلیجو کو بابا بلھے شاہ ریجیکٹ کر چکے۔

یہ بات بابا بھلے شاہ نے پلیجو کے لیے ہی کہی تھی کہ،

سانوں اک الف درکار
علموں بس کریں
او یار!!

پلیجو سندھ میں ریجیکٹ ہوگیا۔ پر ان لوگوں کے دلوں میں پلیجو کامیابی کے ساتھ رہتے ہیں جو بہت بھاری کتابیں پڑھتے ہیں اور علمی مباحث کرتے ہیں۔ پر زاہدہ کے پاس بس علم ہی تو نہیں تھا! اُس کے پاس ایک دل تھا۔ وہ دل ماں جیسا تھا اور ماں کے دل میں سوائے محبت کے اور کیا ہوتا ہے؟!!

جو لوگ پلیجو کی بھاری بھرکم باتوں سے تنگ آ جاتے تھے، وہ زاہدہ کے دامن میں پناہ لیتے تھے۔ زاہدہ انہیں و ہ لوریاں سُناتی تھی جو مائیں اپنے معصوم بچوں کو سنایا کرتی ہیں، جس سے وہ بچے میٹھی نیند میں چلے جاتے ہیں۔۔۔

ایسی تھی وہ زاہدہ!

وہ زاہدہ جس نے پلیجو کی مردہ پارٹی میں اک نئی جان ڈال دی۔ اُس نے سندھ میں رہ کر اُن عورتوں کی تنظیم سازی کی جنہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ حتیٰ کہ وہ عورتیں جب بیمار ہوتی تھیں تو وہ ڈاکٹر بھی انہیں اپنی کلینک میں ہاتھ نہیں لگاتے تھے۔ اور وہ درد سے بھی آگے بڑھ جایا کرتی تھیں!

زاہدہ نے ایسی پسی ہوئی لڑکیوں اور عورتوں کو اپنے ساتھ ملایا، اور سندھ میں پلیجو کی ایک ذیلی تنظیم سندھیانڑیں تحریک کی بنیاد رکھی جو پوری سندھ میں عورتوں کی ایک مقبول سیاسی تنظیم بن کر ابھری۔ اس تنظیم کی میمبر سازی میں دو کروڑ سے بھی زائد عورتیں شامل ہیں۔ اتنی عورتیں تو اس پی پی کے پاس بھی نہیں جو اپنے قیام کے دن سے آج تک خواتیں ورکروں سے محروم ہے۔

زاہدہ نے اپنے دوپٹے کو پرچم بنا کر پوری سندھ میں عورتوں، بچیوں اور بوڑھی خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کیا۔ زاہدہ ایسی نہ تھی کہ جب ضرورت ہو تو پھر وہ میدان میں آئے۔ پر زاہدہ ایسی تھی کہ وہ ہر وقت میدانِ عمل میں موجود رہتی۔ اپنے مرشد، اپنے استاد، اپنے سیاسی گُرو اور اپنے شوہر رسول بخش پلیجو کا بھی بچوں جیسا خیال رکھتی۔ اور ان لاکھوں عورتوں کا ماں بن کر خیال رکھتی جنہیں وہ ایک نئے اعتماد کے ساتھ سندھ کے سیاسی خارزار میں شامل کر آئی تھی۔

وہ زاہدہ جو بوڑھی ہو رہی تھی، جس کے سفید بال ہوا میں ایسے لہرایا کرتے تھے جیسے سفید گلاب پر اس کا دل وہیں پر ٹھہرا ہوا تھا، جب وہ اپنا بیگ اپنے کلاس روم میں چھوڑ کر پلیجو کی علمی باتیں سُننے قمبر کے کسی پنڈال میں گئی تھی اور تیزی سے بوڑھا ہونے کے باوجود اس کا دل ایک معصوم بچے کی طرح ہی تھا۔

بہت ہی معصوم!
بہت ہی پاگل!

پر کون جانتا تھا کہ اُس زاہدہ کا دھڑکتا دل ایسے ہی رُک جائے گا، جیسے کسی کو ویرانے میں چھوڑ دیا جائے اور وہ ایک گہری چیخ بن جائے!

اُس زاہدہ کا دل بھی چلتے چلتے ایسے ہی رُک گیا اور وہ دوپٹہ جسے زاہدہ نے سیاسی پرچم بنا کر لہرایا تھا، وہ اُوندھے منہ گر پڑا اور سندھ کے چلتے پاؤں اس پرچم کو اپنے قدموں تلے روندتے گزرتے رہے۔ اور سندھ کو معلوم ہی نہیں کہ کون سا دھڑکتا دل رُک گیا۔ جس کے رُکنے سے ہوا نے احتجاجاً اپنا رُخ ہی پھیر لیا ہے اور حیدر آباد میں موجود "ڈی ٹین” کے رہائیشوں کا سانس رُکنے لگا۔

میں اس بے حس سندھ کو بتانا چاہتا ہوں وہ زاہدہ تھی، جو شاعرہ تھی۔ وہ بھی محبت کی!

جب اس کا دھڑکتا دل چلتے چلتے رُک سا گیا اور پلیجو کو بتایا گیا کہ وہ اب نہیں رہی، تو پلیجو کو اُس مردہ خانہ لایا گیا جہاں وہ تتلی جیسی معصوم زاہدہ اپنے سارے سپنوں اور اپنے سارے خوابوں کو سمیٹے اِس سردی میں بس ایک چادر میں سو رہی تھی۔ جیسے ابھی جاگ جائے گی۔

پر ایاز نے لکھا تھا کہ،

اسان ننڈ جا نین آھیون پرینء!

ہم ہی تو نیند کے نین ہیں، محبوب!

اگر زاہدہ جاگ جاتی تو اس نیند کا کیا ہوتا جس نیند کی زاہدہ نین تھی؟!!

پلیجو، زاہدہ کے یوں چلے جانے پر بے خیالی میں بس اتنا ہی کہہ سکا ہو گا:
"زاہدہ بہ ھلی وئی، ھانڑے؟!”
(زاہدہ بھی چلی گئی، اب؟!!)

Facebook Comments
(Visited 15 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔