مرکزی صفحہ / منتخب حال / بلوچستان اسمبلی میں سیاسی بھونچال

بلوچستان اسمبلی میں سیاسی بھونچال

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

بلوچستان کے ساتھ بیک وقت کئی لاحقے لگتے رہے ہیں، مرکزی پنجاب کی اشرافیہ اسے چند نوابوں کی یرغمال سرزمین ٹہراتی ہے، میڈیا ان کی بولی بولتے یہ بتاتے نہیں تھکتا کہ سیاہ و سفید سے لدھے پندھے اس درخت کو معدودے چند وڈیروں نے نوچا ہے۔

شورشوں کی سرزمین کا کلنک تو پہلے ہی اس کے ماتھے پر مل دیا گیا تھا اور اب یہ بیرونی سازشوں کی سرزمین بھی ٹھہر گئی ہے۔ لیکن ترقیاتی اشاروں کی وساطت سے پتہ چلتا ہے کہ بلوچستان سطح زمین پر غریب ترین لوگوں کا مسکن اور زیر زمیں دنیا کا امیر ترین خطہ ہے۔ سیاسی لحاظ سے بھی اسی دلچسپ مگر متضاد صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایوان زیریں (قومی اسمبلی) میں بلوچستان سے منتخب نمائندوں کو مقداری لحاظ سے اگر اونٹ کے منہ میں زیرہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ سے منتخب نمائندے اس بکھری اور منتشر صوبے کے نمائندوں کے برابر ہیں۔ البتہ ایوان بالا (سینیٹ) کی انتخابات میں بلوچستان بھی چھاتی تان کر دیگر صوبوں کے برابر آکھڑا ہوجاتا ہے۔ پر یہ کم ہی ہوتا ہے، فروغ قد آوری کا موسم دو سال بعد ہی آتا ہے۔

لہٰذا اب کے سال سیٹ خریدنے ابھی کوئی خریدار نہیں آیا۔ البتہ مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادیوں کے پیروں سے زمین کھینچنے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ جو قوت و اختیار سے محروم تھے وہ سارے یکجا ہوگئے. ساڑھے چار سال کی حکومت کو گرانے پر زید او بکر سارے ایک ہوگئے، دلداری واعظ کے لیے بھی کوئی نہیں، اس شہر میں ہر رند خرابات ولی ہے۔

ساڑھے چار سال تک نسبتاً بہتر گورنینس اور افہام تفہیم سے چلائی جانے والی حکومت میں اب جاکر دراڑیں پڑنی شروع ہوئیں جب سینیٹ کے الیکشن میں ابھی ایک مہنہ باقی ہے۔ جب مستعفی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے اپنے ہی حکومت سے علحیدگی کا فیصلہ کرنے کا اعلان کیا اس وقت وہ اکیلے تھے. اس کے بعد لوگ آتے گئے اور کارروان بنتا گیا۔ اب جاکر لگ بھگ 30 ممبران کی بات ہورہی ہے۔

طاقت اور اختیار کے سرچشموں کی طرف بہنے والی اس گنگا میں نہانے کے لیے کئی سابق وزیر، مشیر اور وزیر اعلیٰ بے تابی سے اس دن کے منتظر تھے۔ جمیعت علما اسلام کی قیادت محمود خان اچکزئی کے ساتھ جمہوری روایات، اصولوں کی سیاست اور فاٹا کے بے ہنگم انضمام پر یک زبان رہی ہے لیکن راتوں رات سیاہ چادر میں سے برآمد ہونے والی اس غیر فطری اور غیر جمہوری صف میں سب سے پہلے جاکر کھڑے ہوگئے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور سردار اختر جان مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت مخالف تحریک میں پیش پیش رہی ہے۔ ان کا مدعا یہ ہے کہ ساڑھے چار سال تک چلائی جانے والی حکومت کا وطیرہ کونسا جمہوری رہا ہے۔مقتدر پارٹیوں نے ان کا استحصال کیا ہے اور اب وقت آن پہنچا ہے کہ ان کے پر کاٹے جائیں۔ تبدیلی کا خمیازہ سیاسی تنظیم بھگتے یا نہیں البتہ اس کے منفی اثرات ساڑھے چار سالوں سے چلنے والی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور پروگرام پر ضرور پڑیں گے۔

ملکی سطح پر مخصوص طرز کی قطع و برید سے یہی پتہ چلتا ہے کہ جمہوری عمل کی بے ساختہ اور فطری حرکت کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔شاید کچھ لوگوں کو یہی لگا کہ جمہوریت کا ٹوٹا ہوا تارہ ماہ کامل بننے جارہا تھا، یا پھر اس درخت کو بار و برگ لگنے کا خطرہ لاحق ہو گیا تھا، لہٰذا اب اس کی تراش خراش کا وقت آن پہنچا ہے۔ریاست کی ریت ہے کہ وہ روایت سے بغاوت میں اپنی بقا اور جواز کی متلاشی رہتی ہے۔روایت میں تو سبز درخت کاٹنا ناقابل معافی جرم ہوتا ہے اور انتہائی بدشگوں تصور ہوتا ہے لیکن پاکستان میں جمہوری عمل کو کس سمت ڈالنا ہے اس کا فیصلہ جمہور کے ووٹوں سے منتخب نمائندے نہیں کرتے۔

نواز شریف کے ہٹائے جانے کے بعد اب دوسرا سیاسی بھونچال بلوچستان کی منتخب اسمبلی میں آیا ہے۔ تخت گرائے جانے کے اس منظر کو ہر تنظیم اپنے نظریاتی فریم ورک کی عینک سے دیکھتی ہے۔ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح یہاں بھی دائیں اور بائیں بازو کے درمیان حد فاصل ختم ہوتی جارہی ہے۔ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے، اب لگتا ہے اس مساوات میں سیاست کا ہندسہ بھی ڈالنا پڑے گا۔

Facebook Comments
(Visited 18 times, 1 visits today)

متعلق ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ

ڈاکٹر برکت شاہ کاکڑ