مرکزی صفحہ / سماجی حال / سیندک معاہدہ صرف کاپر کے لیے چینی کمپنی نے 16 ہزار کلو سونا نکالا. ثنا بلوچ

سیندک معاہدہ صرف کاپر کے لیے چینی کمپنی نے 16 ہزار کلو سونا نکالا. ثنا بلوچ

نیوز ڈیسک 

کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے سیندک پررجیکٹ لیز توسیع معائدے کی معطلی سے متعلق آئینی درخواست پر سماعت کے موقع پر عدالت کا محکمہ معدنیات کے حکام کی عدم حاضری پر اظہاربرہمی آیندہ سماعت پرسیکرٹری اورڈی جی مائنزاینڈمنرلزک​و طلب کرلیا۔

چینی کمپنی ایم سی سی سے علاقے میں سماجی ذمے داری کے تحت فلاحی کاموں کی تفصیل بھی طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت29جنوری تک ملتوی کر دی ۔

سیندک پراجیکٹ توسیع معاہدے کی معطلی سے متعلق آئینی درخواست بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر ثنا بلوچ کی جانب سے دائر کی گئی تھی. جس پر سماعت بلوچستان لائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد نو ر مسکانزئی اور جسٹس ہاشم کاکڑپر مشتمل ڈیوژنل بینچ نے کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار ثنا بلوچ اور ان کے وکیل نوید بلوچ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ وفاقی حکومت کی جانب سے کیس کی ۔

پیروی ڈپٹی اٹارنی جنرل عبداللہ جان کاکڑ اور صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شہک بلوچ نے کی. سماعت کے موقع پر چینی کمپنی ایم سی سی کامقامی نمائندہ عدالت میں پیش ہوا جبکہ محکمہ معدنیات کے حکام عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔

عدالت کامحکمہ معدنیات کے حکام کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتنا اہم کیس ہے مگر حکام کو فرصت ہی نہیں کہ وہ اپناجواب داخل کریں جس پر اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل شہک بلوچ نے وضاحت دی کہ حکام سے رابطہ کر کے جلد جواب جمع کرا دیا جائے گا ۔

دوران سماعت عدالت نے دلائل سننے کے بعد آیندہ سماعت پرسیکرٹری اورڈی جی مائنزاینڈمنرلزک​و طلب کرلیا کرتے ہوئے چینی کمپنی ایم سی سی سے علاقے میں سماجی ذمے داری کے تحت فلاح و بہبود کاموں کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار سابق سینیٹر ثنا بلوچ کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت بلوچستان اہم نوعیت کے کیس جو بلوچستان کا مستقبل ہے اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہم نے عدالت میں یہ بات ثابت کر دی. کہ 1974میں جو لیز ہوئی تھی وہ صرف کاپر کے لیے تھی مگر بد قسمتی سے 16ہزار کلوگرام سونا غیر قانونی طور پر سیندک سے نکالا گیا ۔

پچھلے معاہدے میں وعدہ کیا گیا تھا کہ بلوچستان میں ریفائنری نگائی جائے گی جو بلوچستان کے نوجوانوں کے لئے روزگار کا زریعہ ہوگا لیکن آج تک ریفائنری نہیں لگائی جا سکی اس کے علاوہ عوامی فلاح و بہبود کے لئے جو پیسے خرچ ہونا تھے ۔ ان میں سے بھی کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا.

انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ وفاق میں ایگزیکٹیو باڈی کے اجلاس میں طے ہوا ہے کہ سیندک سے متعلق کیس کو دوبارہ سے کھولا جائے گا ، ثنا بلوچ کاکہنا تھا کہ عدالت کی تشویش سامنے آئی ہے کہ بلوچستان میں سونے اور چاندی کے زخائر کو جس طرح غیر قانونی طریقے سے لوٹا جا رہا ہے اور اس کے بدلے میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا جا رہا عدالت نے اس کا نوٹس اور سخت برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے درخواست میں یہ گزارش کی ہے کہ سیندک سے متعلق تمام معاملات واضع نہیں ہوتے اور معائدے میں توسیع کو منسوخ نہیں کیا جائے کیونکہ یہ آئین کی خلاف اور بلوچستان کے وسائل کو لوٹنے کے مترادف ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیندک سمیت بلوچستان کے تمام زخائر کو انٹرنیشنل اوپن بڈنگ سے کیا جائے. ثنا بلوچ کا کہناتھا کہ بلوچستان میں کرپشن کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ تمام معاملات ٹیبل کے نیچے طے پاتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے حکومت بلوچستان کو نوٹسز جاری کئے ہیں اور چائنیز کمپنی ایم سی سی کو بھی سختی سے کہا کہ وہ عوامی فلاح و بہبود کے لئے خرچ ہونے والی 5 فیصد کی رقم کا حساب عدالت میں پیش کرے . اور ساتھ ہی حکومت بلوچستان کو بھی نوٹسز جاری کئے کہ یہ معائدہ صرف کاپر کا تھا اس میں سو نا اور دیگر قیمتی داتیں نکالی جا رہی ہے اور ایکسپوڈ پراسسنگ لائسنس کا فائدہ اتھا کر بیرون ممالک لے جایا جا رہا ہے اس کا بھی جواب عدالت میں پیش کیا جائے ، امید یہی ہے کہ آئندہ سماعت پر عدالت بلوچستان کے عوام کے حق میں ایک مثبت فیصلہ دے گی۔

Facebook Comments
(Visited 23 times, 1 visits today)

متعلق حال حوال

حال حوال
"حال حوال" بلوچستان سے متعلق خبروں، تبصروں اور تجزیوں پہ مبنی اولین آن لائن اردو جریدہ ہے۔