مرکزی صفحہ / خصوصی حال / ریل کا پُرانا انجن

ریل کا پُرانا انجن

جاویدحیات

اِسٹیشن ماسٹر چوہدری رنجیت سنگھ نے اپنی ٹوپی، جوتے، سوٹ، پتلون سب الماری کے اندر رکھ دیے، اور اُس مفلس، بیمار اور کمزور شخص کا اورکوٹ اور چھاتہ باہر ٹانگ دیا، جیسے وہ برسوں سے بارش کی کیچڑ میں گیلے ہوئے ہوں۔ پھر سوکھ جانے کے بعد بھی اِنہیں الماری کے اندر نہیں رکھا۔ جو شخص سالوں سے اِس پلیٹ فارم میں رہتا ہے، اُس کی ہر چیز کوارٹر کے باہر پڑی تھی۔ وہ گاڑی کے اندر بھی فٹ پاتھ پہ پڑا تھا۔ اُس کی حالت بلوچستان جیسی تھی۔ بلوچستان کوئی صوبہ نہیں سمجھو پتنگ کی دُم ہوگیا۔ عمر بھر ساتھ اُڑتا رہا اور کسی کو نظر بھی نہیں آیا۔ جن کے لیے ہمارے آباو اجداد نے دیوار اور دروازے توڑ دیے، وہ آج تک ہمیں روشن دان سے ہی جھانک رہے ہیں۔

بلوچستان پاکستان کا حصّہ ہونے کے بعد بھی لگتا ہے کسی پُرانے برطانوی ریلوے اسٹیشن پر خراب انجن کی طرح پڑا ہے۔ کوئی اُسے لمحے بھر کے لیے دیکھتا بھی نہیں ہے۔ بس تیز آندھی چلتی ہے تو اُس کے اُوپر گدھ اور کوے منڈلاتے رہتے ہیں۔

الیکشن ہوتے ہی تانگوں اور رکشوں سے ٹوئیٹا اور ویگو نکلنا شروع ہو جاتے ہیں مگر وہ انجن اگلے الیکشن تک اُسی جگہ پہ خراب حالت میں پڑا رہتا ہے۔ سب کی گاڑیاں چل پڑتی ہیں۔ بلوچستان ریگستان میں بچھی پٹری کی طرح اپنی مٹی میں دھنستا ہی چلا جاتا ہے۔

اِس انجن پر سب کی نظریں جمی ہیں لیکن اُس کے قریب آتے ہی سارے لوگ ریل کی طرح گزر جاتے ہیں۔ ریل کی آواز جب تھم جاتی ہے تو دُور سنّاٹے میں کتے بھونکنے لگتے ہیں جو انجن کے نیچے مدّتوں مرے پڑے سانڈ کے لیے لڑ رہے ہوتے ہیں۔ اور اُس بیچارے کے اب صرف سینگ اور ایڑیاں رہ گئی ہیں۔گوشت تو سارے چیتے کھا گئے۔

بلوچستان میں سیاست کہاں ہوتی ہے! خزانے اور معدنیات دریافت ہوتی ہیں، یا کاروبار چلتا ہے۔ بلوچی ڈکشنری میں آنے والے وقتوں میں لیڈر کے معنی سوداگر لکھے جائیں گے۔ یہاں سیاست نہیں ہو رہی، لوگ اپنی پرچُون کی دکان کھول کے بیٹھے ہیں۔ یہاں پارٹی منشور اور نظریات پر کوئی بندش نہیں، جس کا جو جی چاہے ویسا ہی فیصلہ کرے۔

ہر نمائندہ دو ڈھائی سال بعد اپنی جماعت تبدیل کر دیتا ہے۔ موقع پرست کسی بھی اچھے موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہاں کے لیڈر بلوچستان کی محرومیوں کے ازالے کے لیے الیکشن نہیں لڑتے، صرف اپنی زمین جائیداد اور بینک بیلنس بڑھاتے ہیں۔

ہمارے صوبے کے پاس سیٹیں کتنی ہیں؟ ……. 65 ، پھر بلوچ ، براہوی اور پٹھان کی تقسیم ہمیں کتنا مختصر کرتی ہے۔ اور اُوپر سے قبائلی ذات پات کی تلوار الگ سے ہمارے سروں پر لٹکتی رہتی ہے۔

ایم کیو ایم چار دھڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد بھی قومی اسمبلی میں نظر آتی ہے۔ وہاں بنچوں کے نیچے سے چُوہے دکھ جاتے ہیں لیکن ہمارے نمائندے نہیں دکھتے۔ ہماری قومی اسمبلی میں سیٹیں کتنی ہیں ؟ ………14۔ اور اِس چودہ میں بھی بلوچ، براہوی اورپٹھان تقسیم ہیں۔ فاٹا ایک چھوٹا سا علاقہ ہے اُس کی 12 سیٹیں ہیں۔

بلوچستان کے سالوں سے ایک پُرانے انجن کی طرح پڑے رہنے کی وجہ یہی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس واضح برتری نہیں ہے۔

ستّر سال بعد بھی صوبے میں کوئی جماعت قومی دھارے میں شامل ہی نہیں جو کوئٹہ سے کشمیر تک اپنی پارٹی کے جھنڈے لہرا سکے۔

اِن بڑی پگڑی والوں کی سیاست اپنے ضلع اور چاردیواری میں ہی پنپتی ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگل سارا منگل ڈاکو کا ہے اور وہ ایسے ہی ہر چلتی ہوئی مال گاڑی کا کوئلہ لوٹتے رہیں گے۔

بلوچستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کی اکثریت نہیں ہے۔ اِس لیے تو حکومت کا ڈھائی ڈھائی سال کا بٹوارہ ہُوا ہے۔ جو نمائندہ ڈھائی سال کی حکومت تسلیم کر لیتا ہے، وہ چھ چار ماہ کی سرکار بھی قبول کر لے گا۔ اُسے تو اپنے فنڈز جاری کرانے ہیں، عوام کا اُدھار تھوڑی چکانا ہے۔ چوری چکاری کے لیے چار مہینے بہت ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ہر جماعت کے پاس 9، 4، 2، 11 اور 7 سیٹوں سے زیادہ نہیں ہیں۔ ریل کے اِس خراب انجن کو ٹھیک کرنے کے لیے کسی ایماندار میکینک نے آج تک الیکشن نہیں لڑا۔

اِس حکومت میں صرف ڈاکٹر مالک صاحب کو زیادہ فائدہ ہُوا ہے۔ وہ کسی بڑی آزمائش سے گزرے بغیر پورے ڈھائی سال وزیرِ اعلیٰ رہے۔ اگر شروع میں نواب ثنااللہ زہری کو وزیرِاعلیٰ کی گدّی پہ بٹھایا جاتا تو آج یہ بُرے دن ڈاکٹر مالک کے کھاتے میں آتے۔ یہاں بساط شطرنج کی بچھتی ہے لیکن لوگ آنکھ مچولی کھیلتے کھیلتے اپنی مدت پوری کر لیتے ہیں۔ ڈھائی سال میں کیا ہوگا؟ ڈھائی سال میں تو اسمبلی فلور کی کھڑکیوں اور دروازوں کے پردے بھی نہیں بدلے جاتے۔ یہ بندر باسی مٹھائی کے لیے جوکر بن گئے اور ہمارا بھی تماشا کر دیا۔

یہ لوگ بلوچستان کے لیے مخلص ہیں تو اپنی روایتی سیاسی دکان بند کیوں نہیں کرتے؟ متفقہ طور پر ایک قومی پارٹی تشکیل دے کر وفاق سے بلوچستان کا مقدمہ کیوں نہیں لڑتے؟ سب اپنا حلوہ بناتے ہیں اور اپنا ہی حلوا بیچتے ہیں۔

پنجاب کا ایک ضلع ہے فیصل آباد! جو پُرانے وقتوں میں لائل پور کے نام سے مشہور تھا۔ صنعتی شہر ہونے کے علاوہ اُس کی وجہ شہرت کچھ مشہور ہستیاں بھی ہیں۔ لیجنڈ قوال نصرت فتح علی خان، معروف براڈکاسٹر ضیامحی الدین، نامورکالم نگار حسن نثار، راحت فتح علی خان اور جنگِ آزادی کا شہید بھگت سنگھ۔

آپ جانتے ہیں اِس ضلع کے 11 MNA’s اور22 MPA’s ہیں۔ اِسی طرح لاہور کے 13 MNA’s اور 25 MPA’s ہیں۔ کراچی کے 20 MNA’s اور 42 MPA’s ہیں۔ پشاور کے 4 MNA’s اور 11 MPA’s ہیں۔ جب کہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ کے 2 MNA’s اور 6 MPA’s ہیں۔

اب یقیناً بات آپ کی سمجھ میں آ گئی ہوگی کہ اِس انجن میں خرابی کہاں پر تھی جو ناکارہ ہوگئی۔ اٹھارویں ترمیم میں اپنے گلے سے پھندے تو ہٹائے گئے مگر صوبہ بلوچستان کی سیٹوں کی تعداد نہیں بڑھائی گئی۔ جب تک سیٹیں نہیں بڑھیں گی، ریل کا انجن یونہی اسٹیشن پر پڑا خراب ہی رہے گا۔ اور اُس کے اُوپر گدھ اور کوے منڈلاتے رہیں گے۔

کل رات شاید آندھی بہت زوروں کی چلی تھی، آج اِنجن کی اُوپر والی قطار میں کوے کچھ زیادہ بیٹھے ہیں۔

Facebook Comments
(Visited 36 times, 2 visits today)

متعلق جاوید حیات

جاوید حیات گوادر میں مقیم قلم کار ہیں۔ مقامی اخبارات و جرائد میں لکھتے رہتے ہیں۔ javedhayat42@gmail.com