مرکزی صفحہ / بلاگ / خوابو ں کی تعبیر میں مشغول زندگی

خوابو ں کی تعبیر میں مشغول زندگی

عبدالحلیم

ہر سال کا آغاز سہانے خوابوں کی تعبیر کی نو ید سنا کر زندگی کو مشغو ل کرتا ہے۔

نیا سال شروع ہوچکا ہے پھر سے خوابوں کی تعبیر کا مژ دہ سنا یا جارہا ہے۔
گزرجا نے والے سال میں اپنی خوابوں کی تعبیر کے حصول کے لےئے مشغول زندگی نتیجہ کا بے صبری سے انتظار میں تھی۔

گو یا ہر گھڑی اور ہر لمحہ خوابوں کی تعبیر میں مشغول یہ زندگی بحر بلوچ کے سر سبز و شاداب جز یر ہ میں انگڑائی لینے کے جنون کا شکار ہوگئی۔

ایک ایسا جز یرہ جہاں مصائب اور آلائم نہ ہوں اور نہ ہی قید و قیود کا جنجھٹ۔
بس زندگی خوابوں کی تعبیر کا معراج حاصل کر کے رواں دواں ہو۔

آسمان پر گہر ے بادل چھا ئے ہوئے تھے اور بادلوں کو بوسہ دینے کے لیے پر ندوں کے مختلف جنڈ اپنی اڑان بھر چکے تھے۔

ہر طر ف ہر یالی ہی ہر یالی تھی۔ تتلیاں رنگ برنگی پھولوں کے ساتھ بو س و کنار میں مصروف تھیں۔

جز یرہ کے اطراف موجود سمندر کا پانی ہوا کی دوش پر ہل رہی تھی اور وہاں پر موجود کشتیاں رقصاں تھیں۔

پیپل کی شاخ پر بیٹھی ہوئی کوئل اپنی سر یلی آوا ز سے فضاؤں میں رس گھول رہی تھیں۔

پھر رم جم شروع ہوتی ہے ۔ سمندر کی مچھلیاں اپنی اپنی مستیا ں دکھانے لگے۔
پانی بر سانے کے بعد با دل چل پڑتی ہیں اور دھوپ نکل آتی ہے ۔

بارش کا پانی پھولوں کی پتیوں سے ٹپک رہی تھیں اور ندیوں میں جمع پانی جوش کھا تے ہوئے بنجر زمینوں کو سیر آب کر رہی تھیں ۔

نئے خوابوں کی تعبیر کے حصول میں مشغول زندگی یہ منظر دیکھ کر اپنے خو ابوں کی تعبیر کا یقین کرلیتی ہے۔

ایک ایسا خواب جو تخیل کے سر حدوں کے تابع نہیں اورنہ ہی افسانوی قصہ کی طر ح فنا ء ہونے والی۔
اچانک ایک نا خوشگوار آواز کانوں میں بجنے لگتی ہے ۔

خوابوں کی تعبیر کے حصول میں مشغول یہ زندگی یکدم بیدار ہو تی ہے اور بیدار ہونے کے ساتھ ہی اپنی نظر دوڑاتی ہے ۔

دور دور تک ہر یالی کا کوئی شائبہ نہیں اور نہ ہی سبزہ کا وجود۔
بس کیکر کے ایک نیم مر دہ جان درخت پر کوے چلا رہے تھے ۔
بحر بلوچ کا یہ جز یرہ جوں کا توں تھا۔

البتہ بُر دین اور شِدان کو دھند کی جبری آغوش میں دھکیلنے کے چلن میں شدت مزید بڑھ چکی تھی۔

اچانک بھوڑی والدہ نے کمر ے کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ابا !کمیٹی والوں سے معلوم کر نا پانی کا ٹینکر کافی دنوں سے نہیں آرہا ؟؟؟؟
نئے سال کا سورج طلوع ہوچکا ہے۔

خوابوں کی تعبیر کے حصول میں مشغول یہ زندگی پھر سے دو گھونٹ پانی کی متلاشی بن جاتا ہے ۔

Facebook Comments
(Visited 26 times, 1 visits today)

متعلق عبدالحلیم

گوادر میں مقیم عبدالحلیم کل وقتی صحافی ہیں۔ مقامی مسائل کی کوریج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ صحافت اور ادب کے امتزاج سے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ Email: haleemhayatan@gmail.com