مرکزی صفحہ / خصوصی حال / بلوچی زبان کو اردو سے خطرہ نہیں

بلوچی زبان کو اردو سے خطرہ نہیں

ذوالفقار علی زلفی

"سندھی اس خطے کی زبانوں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ، مکمل، اور خودکفیل زبان ہے، لیکن سندھی بولنے والوں کا مکالمہ ان کے اندر تک ہی محدود ہے کیونکہ وہ سندھی ہی میں اسے کررہے ہیں. بلوچوں نے اردو کو ذریعہ اظہار بنایا تو ان کا پیغام زیادہ بہتر انداز سے پہنچ پایا”

درج بالا خیالات جناب علی ارقم صاحب کے ہیں ـ علی ارقم ایک پشتون صحافی ہیں اس لئے ان کی اس رائے کو ایک غیر جانبدار تبصرہ سمجھا جاسکتا ہے ـ ان کے اس خیال پر سندھی دوستوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل آئے ـ اکثر سندھی قوم پرستوں نے علی ارقم کے اس خیال کو مسترد کرکے کہا "سندھی ہی سب کچھ ہے” ـ

بلوچ معاشرے میں بھی یہ بحث موجود ہے ـ بلوچ ادیب ڈاکٹر ناگمان بلوچ اور ان سے اتفاق رکھنے والے بلوچ قوم پرستوں کا ماننا ہے بلوچوں کو مکمل طور پر بلوچی یا براھوی زبانوں کو ذریعہِ خیال بنانا چاہیے ـ ان کے مطابق اردو پاکستان کا جبر اور بلوچ قومی زبانوں کے لئے سمِ قاتل ہے اس لئے اس کا کامل بائیکاٹ کیا جانا چاہیے ـ

اول کسی زبان کو جبر کی علامت قرار دینا ایک فکری بگاڑ ہے ـ زبان معصوم اور بے ضرر ہوتے ہیں، زبانوں کی طبقاتی درجہ بندی نہیں کی جاسکتی ـ ایک ہی زبان کو فوجی جنرل، مزدور، سیاست دان، عام دوکان دار اور گھریلو عورت وغیرہ سب استعمال کرتے ہیں ـ کسی بھی زبان سے نفرت اور اس کے بائیکاٹ کا نعرہ انسانیت کے خلاف صف آرا ہونا ہے ـ اگر کوئی بالادست طبقہ کسی مخصوص زبان کو ہتھیار بنا کر دیگر زبانوں کے وجود کے لئے خطرات پیدا کرنے کی کوشش کرے تو مخالفت اس مخصوص طبقے کی ہونی چاہیے نہ کہ سرے سے زبان کو ہی مسترد کردیا جائے ـ

بلوچی اور براھوی زبانیں فی الوقت سیاسی و سماجی زبان نہیں ہیں ـ اس کی متعدد سیاسی و سماجی وجوہات ہوسکتی ہیں ـ نوآبادیاتی حاکموں کی زبان دشمن پالیسیوں کے اثرات بھی ہیں اور بلوچ سیاسی و قومی رہنماؤں کی زبان کے معاملے پر عدم حساسیت بھی ـ

براھوی زبان کی لسانی صلاحیت اور موجودہ پوزیشن سے عدم واقفیت کی بنا پر میں براھوی کے حوالے سے کوئی رائے دینے سے معذور ہوں ـ بلوچی سے وابستگی کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ بلوچی اس وقت صرف اور صرف ادب اور بالخصوص شاعری تک محدود ہے ـ بلوچی میں دیگر علمی شعبوں کے حوالے سے لٹریچر نہ ہونے کے برابر ہیں ـ اس کی بڑی وجہ بلوچی لکھنے اور پڑھنے والوں کی بڑی تعداد کی ادب بالخصوص شاعری سے وابستگی ہے اور ان ادیبوں کی جانب سے بلوچی دوستی کے تصوراتی نعروں کے باعث پیدا ہونے والے سنگین معاشرتی مسائل بھی ہیں ـ بلوچی کو بچانے کے جذباتی نعروں سے جنم لینے والے غیر مادی مباحث اور کورانہ عمل نے بلوچی زبان کی تحریری شکل کو عام بلوچ کے لئے اجنبی بنادیا ہے ـ

مکران سے تعلق رکھنے والے بعض ادیبوں کی تنگ نظری اور کوتاہ فہمی نے بھی معاملے کو از حد پیچیدہ بنا رکھا ہے ـ ان ادیبوں کی تنگ نظری کے باعث رخشان و سلیمان کے بلوچی لہجوں کو نام نہاد مین اسٹریم بلوچی میں مناسب جگہ نہیں مل رہی نتیجہ یہ بلوچی کوئی مشترک و متفق شکل اختیار کرنے سے محروم ہے ـ کراچی کی شہری بلوچی کو غیر فصیح منوانے کی رسمِ بد کے اثرات سوا ہیں ـ

اندرونی مسائل و مشکلات کا سائنسی تجزیہ کرنے اور سماجی سائنس کی بنیاد پر سیاسی مفادات کے مطابق لسانی پالیسی ترتیب دینے کی بجائے اردو کو نشانہ بنانے کی غیر منطقی کوشش کی جارہی ہے ـ

پاکستان کی زبان دشمن پالیسیوں اور اس کے ہمہ گیر منفی اثرات سے انکار نہیں لیکن یہ بھی ٹھوس حقیقت ہے بلوچ سیاست نے کبھی بھی بلوچی کو درپیش سنگین سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کی کوئی شعوری کوشش نہیں کی ـ بلوچی زبان کو ادیبوں کا مسئلہ سمجھ کر قوم پرست جماعتوں نے بھی زبان جیسا حساس معاملہ غیر سیاسی اور کوتاہ فہم ادبا کے حوالے کردیا ـ سیاسی مسائل سے غیر آشنا ادبا نے زبان کو صرف لسانیات کا پیچیدہ علم سمجھ کر بے سود سوالات اٹھائے، انہوں نے رسم الخط کے لاینحل مباحث کا پینڈورا بکس کھول کر زبان کو مزید مشکل اور اجنبی بنانے کی کوششیں شروع کردیں اور متروک الفاظ کو بدلتے سماج پر تھوپنے کا فیشن بھی مسلط کردیا ـ

اس تمام قضیے کا اردو لکھنے سے کوئی تعلق ہی نہ تھا لیکن اڑتے تیر کو اپنی جانب موڑنے کی صلاحیت میں ید طولی رکھنے والے ادبی قوم پرستوں نے اسے ہی سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کردیا ـ بلوچی اور براھوی زبانوں کی اہمیت اور بچاؤ کی اہمیت مسلم ہے مگر اس کا کسی بلوچ کے اردو لکھنے سے کوئی راست تعلق نہیں ہے ـ

علی ارقم کی رائے سے اتفاق رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ پاکستان میں بلوچ قومی مسئلے کو ہائی لائٹ کرنے میں اردو لکھنے والے بلوچ صحافیوں، سیاسی و سماجی کارکنوں کا سب سے بڑا ہاتھ ہے ـ لاپتہ افراد ایک بین الپاکستان مسئلہ ہے لیکن سندھی، پشتون اور پنجابی گمشدگان سے زیادہ بلوچ لاپتہ افراد کے معاملے کو توجہ ملتی رہی ہے ـ یقیناً اس میں گمشدگان کی بڑی تعداد اور سیاسی کارکنوں و لواحقین کی انتھک جدوجہد کا بھی اہم کردار ہے مگر اردو لکھنے والے بلوچوں کے اثر سے انکار ممکن نہیں ـ بلوچ کیس کو پاکستانی بندوبست میں بسنے والی دیگر اقوام تک پہنچانے، اس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں بھی اردو لکھنے والے بلوچ ہی پیش پیش رہے ہیں ـ یہانتک بلوچ شناسی کی بنیاد میں بھی انہی قلم کاروں کی مساعی شامل ہے ـ

انگریزی کو ذریعہِ اظہار بنانے والے بلوچوں نے عالمی سطح پر کامیابیاں سمیٹی ہوں گی مگر ان کا کردار محدود ہے جبکہ اردو لکھنے والوں نے پاکستانی حاکموں کے لئے سنجیدہ رکاوٹیں کھڑی کی ہیں ـ یہی وجہ ہے اس وقت سب سے زیادہ زیر عتاب بھی وہ بلوچ ہیں جن کا قلم سے اور بالخصوص اردو زبان سے رشتہ ہے ـ

بلوچی کو مکالمے کا حصہ بنانے والے قلم کاروں کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا جاسکتا مگر ان کے مکالموں کے اثرات صرف اندرونی حد تک ہیں باہر کی دنیا تک وہ اپنا پیغام پہنچانے سے قاصر ہیں ـ خالصتاً اندرونی مسائل پر بلوچی اور براھوی میں مکالمہ ضروری ہے مگر وہ مسائل جن کی جڑیں بیرونِ بلوچستان پیوست ہیں ان پر اردو کو ہی ذریعہِ اظہار بنانا چاہیے ـ

بلوچی اور براھوی زبانوں کو اردو کی ترقی و ترویج سے نہیں بلکہ پاکستان کی زبان دشمن پالیسیوں اور بلوچ سیاست کی بے حسی سے خطرہ ہے ـ اسی طرح بلوچی زبان کی ترقی میں قوم پرست ادبا کی تنگ نظری بھی رکاوٹ ہے جسے وہ چھپانے کے لئے اردو لکھنے والے بلوچوں پر دانت تیز کرتے رہتے ہیں

Facebook Comments
(Visited 100 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔