مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / نوکاپ لبزانکی مجلس: بلوچی زبان و ادب کا روشن ستارہ

نوکاپ لبزانکی مجلس: بلوچی زبان و ادب کا روشن ستارہ

شبیر رخشانی

قومیں اپنی زبان و ثقافت کو بچانے کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ اکیسویں صدی جہاں بہت سی تبدیلیاں لائی وہیں اس جہاں میں بسنے والی مختلف اقوام کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہیں سائنس و ٹیکنالوجی کی زد میں آ کر ان کی قومی شناخت کو نقصان نہ پہنچے، ان کی زبان معدوم ہو کر نہ رہ جائے۔ سو انہوں نے زبان و شناخت کو بچانے کے لیے جدوجہد تیز کی اور عملی میدان میں برسرپیکار ہوئیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں وہ نئے ٹولز کے ساتھ میدان میں آئے اور کام کرنا شروع کیا اور کامیابیاں سمیٹتے گئے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ کسی زمانے میں ڈکشنریاں کتابی شکل میں ہوا کرتی تھیں، اب وہ ڈکشنریاں سافٹ ویئر کی شکل میں ہوتی ہیں۔ پہلے پہل کتابیں کاغذی شکل میں ہوا کرتی تھیں، اب پی ڈی ایف کی شکل میں سامنے آ گئی ہیں۔ پہلے لینڈلائن کا دور ہوا کرتا تھا، اب موبائل سروس آ گئی۔ خط و کتابت کا ذریعہ ای میل ہونے لگا۔ غرض ہر شعبے میں جدت آ گئی۔ اسی جدت کو اپناتے ہوئے چیزیں سائنس و ٹیکنالوجی کے محتاج ہوگئیں۔ اب لامحالہ اور مجبورا سائنس و ٹیکنالوجی کو اپنانا ہی پڑے گا۔

اگر ہم بلوچ سماج پر نظر دوڑائیں تو وہ بھی قومی شناخت، زبان، ثقافت کی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ گو کہ وہ ان محاذوں پر کام کرتے ہوئے اپنے آپ کو توانا محسوس نہیں کرتا لیکن کر تو رہا ہے۔ اگر زبان و ادب پر بات کریں تو بلوچوں کے مختلف ادارے مختلف علاقوں میں اپنے تیئیں مصروفِ عمل ہیں۔ گو کہ بکھرے ہوئے ہیں لیکن کام کر رہے ہیں۔ انہی اداروں میں سے ایک ادارہ نوکاپ لبزانکی مجلس ہے۔ یہ ادارہ کراچی کی گنجان آباد علاقے فقیر کالونی میں بلوچ زبان و ادب کی دیمروی کے لیے کام کر رہی ہے۔

جب آپ اس چاگرد کا حصہ نہیں ہوتے ہیں، تو آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔ لیکن جب آپ اسی چاگرد کو مشاہداتی عمل سے گزارتے ہیں تو آپ محسوس کریں گے کہ وہاں کام ہو رہا ہے اور اچھے انداز میں ہو رہا ہے۔ کراچی میں رہتے ہوئے بھی راقم نوکاپ لبزانکی مجلس کی عملی کردار سے ناواقف تھا۔

بھلا ہو اس مجلس کے سربراہ اختر قاضی کا کہ ان کی طرف سے ایک ادبی مجلس کا بلاوا آ گیا اور ہم چلے آئے۔ اس پروگرام میں سید ہاشمی اکیڈمی گوادر کے صدر علی عیسیٰ اور نائب صدر آصف شفیق مدعو کیے گئے تھے۔ امین ضامن کا نام سنا تھا، ان کے مقالے پڑھے تھے۔ نوجوان ہے، اچھا کام کر رہا ہے۔ راجمان کے نام سے ایک سیریز نکال رہے ہیں، ان سے ملاقات ہوئی اچھا لگا۔

علی عیسیٰ نے ہاشمی اکیڈمی گوادر پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ جب کہ آصف شفیق نے ادبی جدیدیت پر اظہارِ خیال کیا۔ شرکا کی جانب سے ان موضوعات پر سوالات بھی کیے گئے۔

چلیں اصل موضوع کی جانب آتے ہیں۔ نوکاپ لبزانکی مجلس کا قیام بلوچ ویلفیئر سوسائٹی نے 15 جولائی2006 کو رکھا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد ان نوجوانوں کو زبان و ادب کی جانب راغب کرنا تھا جو اپنا قیمتی وقت فٹ پاتھ پر گزار کر ضائع کیا کرتے تھے۔ بنیادی اراکین میں رسول بخش بلوچ، فضل، ابرہیم، ایاز نذر، موجودہ کارمستر اختر قاضی شامل تھے۔ مرحوم کریم نقش، اضغر علی آزگ، قیوم فراز اور ظفر کریم نے ادارے کو آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔

نوکاپ لبزانکی مجلس کے 35 ارکان ہیں۔ نئی کابینہ کے چناؤ کے لیے اس مجلس کے ہر سال انتخابات ہوتے ہیں۔ ہر سال نئے چہرے سامنے لائے جاتے ہیں، یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہفتہ وار پروگراموں کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ جن میں نثری اور شعری دیوان ہوتے ہیں۔ نثری دیوان میں مضمون پڑھے جاتے ہیں۔ جن پر بحث مباحثہ ہوتا ہے اور تنقیدی نشستیں رکھی جاتی ہیں۔

نوکاپ لبزانکی مجلس کی جانب سے 2012 کو ’’نوکاپ داد پڑ‘‘ کے عنوان سے ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد ان بزرگ شاعر و ادیبوں کو داد دینا ہوتا ہے جو حقیقی معنوں میں بلوچ زبان و ادب کے لیے خدمات سرانجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ داد پانے والوں میں نور محمد نورل، ظفر علی ظفر، رحیم بخش آزاد، بیگ محمد بیگل، اضغر علی آزگ، قیوم سربازی شامل ہیں۔

لبزانکی مجلس اگر اتنا کچھ کر رہا ہے تو کیا ان پروگراموں کو تحریری یا میگزین کی شکل میں لایا جا رہا ہے؟ یہی سوال میں نے ادارے کے بانی رسول بخش بلوچ سے کیا۔ ’’ دیکھیں، مواد کو پرنٹنگ کی شکل میں لانے کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے پاس موجود نہیں۔ ہم جو پروگرام کرتے ہیں، وہ اپنی مدد آپ کے تحت، ہمارے اراکین پیسہ اکھٹا کر کے کیا کرتے ہیں، ہم نے کبھی بھی اداروں کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ البتہ ہمارے مواد اور تصویری ریکارڈ سوشل میڈیا پر نوکاپ لبزانکی مجلس کے پیج پر موجود ہیں‘‘۔ لبزانکی مجلس کا لیاری میں قائم ایک اور ادارہ عباس علی زیمی اکیڈمی کے ساتھ اشتراک تھا۔ لیاری میں مشترکہ پروگرام ہوا کرتے تھے۔ لیاری میں گینگ وار کے اثرات لیاری کے ادب پہ بھی آ گئے۔ جس سے یہ سلسلہ رک گیا۔

پروگرام میں ہمیں خواتین کی شمولیت نظر نہیں آئی۔ عورتوں کی شمولیت پر کس قدر یقین رکھتے ہیں؟۔ یہی سوال میں نے اختر قاضی سے کیا تو ان کا کہنا تھا کہ، ’’ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں اب بھی خواتین کی شمولیت کے حوالے سے وہ سوچ پیدا نہیں ہوئی ہے جس کی ضرورت ہے۔ البتہ خواتین کا الگ سے کابینہ الگ بنی ہے، وہ اپنے پروگرام الگ سے چلاتی ہیں، جس میں صرف خواتین ہی ہوتے ہیں‘‘۔

فقیر کالونی میں واقع بلوچ ویلفیئر سوسائٹی کی اسی بلڈنگ میں نہ صرف نوکاپ لبزانکی مجلس کام کر رہا ہے بلکہ یہاں لائبریری و کمپیوٹر سینٹر کا نظام بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باکسنگ کا حال بھی موجود ہے۔ باکسنگ کے شعبے میں یہیں سے ایک نوجوان نے انٹرنیشنل لیول پر پاکستان کی نمائندگی کی۔ ہمیں کمپیوٹر سینٹر کی سیر کرائی گئی۔ لائبریری تو ہم نے دیکھنی ہی دیکھنی تھی۔ لائبریری میں کتابیں تھیں۔ بلوچستان کی کتابیں، بلوچ مصنفین کی کتابیں تھیں۔ پڑھنے کا ماحول موجود تھا۔

فقیر کالونی میں واقع نوکاپ لبزانکی مجلس اپنی مدد آپ کے تحت تو بہت کچھ کر رہی ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر ادبی ادارے جو بلوچستان کی سطح پر کام کر رہے ہیں وہ نوکاپ لبزانکی مجلس کے ساتھ ایک اشتراک قائم کریں۔ ادب پر مشترکہ کام کریں۔ بلوچی زبان و ادب پر کام کرنے والے ادارے اور افرادی قوت کو یک جا کریں۔ ان کی جدوجہد کو بلوچ قوم کے اندر متعارف کروائیں۔ یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Facebook Comments
(Visited 26 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani