مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / خوابوں کی آزادی!!

خوابوں کی آزادی!!

محمد خان داؤد

کوئی بھی دانش ور یہ دعویٰ نہیں کر سکتا ہے "خواب آزاد ہیں!” اگر خواب آزاد ہوتے تو انسان بھی آزاد ہوتے، یہ خواب ہی تو ہیں جو پہلے خود مقید ہوتے ہیں پھر ان انسانوں کو وہاں لے جاتے ہیں جہاں نہ نیند آتی ہے اور نہ ہی ماں کی وہ آواز کہ، "بیٹا میں بیمار ہوں آج مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جانا!”

وہ خوابوں کے دیوانے بہت انتظار کرتے ہیں۔ جہاں وہ قید میں ہوتے ہیں۔ ان کی اکثریت تو واپس نہیں آ پاتی پر جو واپس آتے ہیں تو ماں کو کسی ڈاکٹر کی حاجت نہیں رہتی۔ وہ خوابوں کے قیدی پھر یادوں کے قیدی بن کر رہ جاتے ہیں!

اس لیے ایک تو وہ خواب ہیں جو وہ یہ آنکھیں دیکھتی ہیں پر ایک وہ خواب بھی ہیں جنہیں یہ آنکھیں جھیلتی ہیں، برداشت کرتی ہیں، بُھگتتی ہیں۔ جس سے وہ تر ہو جاتی ہیں۔ اپنے بھیگے گھر کی طرح، اپنے ٹپکتے گھر کی طرح، اپنے مچلتے دل کی طرح!

یہ وہ خواب نہیں جن میں سپنے ہوتے ہیں جو سپنے انسان کو خوشی کی جنت میں لے جاتے ہیں۔ پر یہ تو وہ خواب ہیں جو انسان کو پہلے گم شدہ، پھر خبر، احتجاج، پھر بھول، پھر یاد، پھر قبر اور پھر یاد بنا دیتے ہیں۔ اس لیے یہ کیسے خواب ہوتے ہیں؟ یہ کیوں ہوتے ہیں؟ یہ کہاں سے آتے ہیں؟ یہ کیوں آتے ہیں؟ انہیں ان جاگتی سوتی آنکھوں میں کون لاتا ہے؟ پھر وہ آنکھیں ہی اداس ہو جاتی ہیں۔

اس لیے خواب آزاد نہیں ہوتے، خواب تو مقید ہوتے ہیں۔ پہلے آسمانوں میں پھر آنکھوں میں پھر وہاں جہاں کی سب کو خبر ہوتی ہے۔ پر کوئی نہیں جانتا، پھر وہ خواب خبر بن کر قبر میں سلا دیے جاتے ہیں۔

تو خواب آزاد کیسے ہوئے؟!!!!

اگر خواب آزاد ہوتے تو سارے حریت پسند اپنے خوابوں کے ساتھ زندہ ہوتے، آزاد ہوتے….. پر ایسا نہیں…. کوئی خواب آزاد نہیں، نہ وہ انسان آزاد ہیں جو خواب دیکھتے ہیں، نہ وہ آنکھیں آزاد ہیں جن آنکھوں میں وہ خواب کسی ضدی بچے کی دل کی طرح موجود ہوتے ہیں، بہت ضد کرتے ہیں اور آنکھوں کو سرمد کی طرح دار پر لے جاتے ہیں۔ وہ سرمد جو "ابھی چند” کو دیکھ کر دیوانہ ہوگیا تھا جس نے اُسے اپنے الفاظوں میں زندگی کے آخری لمحوں میں بھی یاد کیا،اور جب دار پر چھڑایا جا رہا تھا تو کہہ رہا تھا:

ہائے بس اک سر ہے
کاش کئی سر ہوتے
سب یار کی نذرہوتے

جس سرمد نے اپنے خواب، "ابھی چند،، کو دہلی میں تخت پر یاد کرتے ہوئے جمع کے دن ایک جم غفیر اجتماع میں، جب سرمد کچھ ہی لمحوں میں بس یاد بننے جا رہا تھا۔ اک خواب بننے جا رہا تھا تو کہا تھا کہ،

میں تھا (بذاتِ خود)
سرمد تھا (عشق)
اور مثلِ تماشا تھا! (ابھی چند)

معنیٰ کہ (میں تھا، عشق تھا، اور ابھی چند تھا) یعنی کہ اک خواب تھا آنکھوں میں جو سرِ بازار لُٹا ہے۔

تو خواب آزاد نہیں۔ اگر خواب آزاد ہوتے تو ان سوشل بلاگزر سے لے کر ان صحافیوں تک جو بس ایک خبر دیتے ہیں پھر کیوں خبر بن جاتے ہیں؟ اگر خواب آزاد ہوتے تو وہ سیاسی کارکن جو اپنے لیڈر اور اپنے نظریے سے عشق کرتے ہیں کیوں ایک کالی رات بنا دیے جاتے ہیں؟ اگر خواب آزاد ہوتے تو ان لیڈروں کی قبریں نہ بنتیں جو اپنے ساتھ ان لوگوں کو رکھتے ہیں جو خواب دیکھتے ہیں اور ان خوابوں کوسچ بنانے کی جدو جہد میں جان سے گزر جاتے ہیں۔

اگر خواب آزاد ہوتے تو معض ایک سینما کا ٹکٹ چیکر سندھ کے مقدر کا فیصلہ کیسے کرتا۔ اگر خواب آزاد ہوتے تو ایک بوڑھا سوشلسٹ اپنے وجود کو بوڑھا محسوس کرتے ہی اپنی پارٹی کسی جاگیر کی طرح اپنے بیٹے کو گھر کی چابی کی طرح کیسے سونپ دیتا۔ اور وہ کارکن جن کارکنوں نے اپنے لیڈر کی خدمت ایک نوکر بن کر کی تھی، پنڈال بھی سجایا اور بچوں کی پوٹیاں بھی صاف کیں لیڈر کی گالیاں بھی سہیں اور جوتے بھی کھائے، وہ کارکن اپنے لیڈر کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں، پھر ان کا دل کرتا ہے کہ وہ گالیاں جو کئی برسوں سے ان کے دلوں میں مچل رہی ہیں وہ سب ایک ساتھ اس لیڈر پر نچھاور کی جائیں اور سیاست کو تین طلاقیں اور پانچ انگلیوں بھرا ہاتھ دکھایا جائے، پر وہ خاموش رہتے ہیں پہلے باپ کے نعرے اور اب بیٹے کا نعرہ ان کارکنوں کا مقدر ٹھرتا ہے…

وہ کارکن یہ بات جان جاتے ہیں کہ سب مایا ہے!
اور خواب آزاد نہیں!!
اگر خواب آزاد ہوتے تو بندوق سے فیصلے نہ کیے جاتے!
اگر خواب آزاد ہوتے تو بندوق کی نالی ٹھنڈی رہتی!

اگر خواب آزاد ہوتے تو قلم نظمیں لکھتا ،وہ درخواستیں نہ لکھتا جس میں ایک بیٹی یہ لکھتی ہے کہ اس کا بابا گم ہے، اور ایک ماں یہ لکھتی ہے کہ اس کا بیٹا گم ہے۔ ایک بیگم یہ لکھتی ہے کہ اس کا شوہر گم ہے اور ایک بہن یہ لکھتی ہے کہ اس کا بھائی پیپر دینے گیا تھا گھر نہیں لوٹا!
جب گولیاں چلیں اور خاموشی ہو جائے، تو خواب کیسے آزاد ہو سکتے ہیں؟!!
جب کوئی کرولا رُکے اور کوئی کینٹین سے چائے پیتے گم ہو جائے تو خواب آزاد کیسے ہو سکتے ہیں!

خواب مقید ہیں،گونگے ہیں، اندھے ہیں، بہرے ہیں، اب تو مارے جا رہے ہیں…
یہی بات ہمیں لطیف جمال بتا رہے ہیں اور بہت زور و شور سے بتا رہے ہیں کہ
"خواب آزاد نہیں ،پر انہیں آزاد کرانا ہے!”

وہ خواب جو کبھی پشاور میں قتل ہو تے ہیں۔ کبھی ان کا سندھ کی دھرتی پر منہ نوچا جا رہا ہے۔وہ خواب جو کبھی افغانستان کی بٹھی میں جل رہے ہیں۔وہ خواب جن سے طالبان روز جبری نکاح کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ خواب جو غریب عوام کو بھٹو نے دکھائے اور اب زرداری انہیں بیچ رہا ہے۔ وہ خواب سندھ دھرتی پر کوئی قدرتی آفت بن کر گرتے ہیں اور کامورا شاہی کو امیر کر جاتے ہیں اور ان غریبوں کو وہاں لے آتے ہیں جہاں ملنگوں کی کوک اور قلندر کی صدا می رقص بھی نہیں آتی۔

وہ خواب جو گلابوں کا قبر ستان بن جاتا ہے، اور کہیں سے کوئی پکار نہیں اُٹھتی۔
وہ خواب جو بہت بڑے مجرم ہوتے ہیں!
وہ خواب جن کا کوئی احتساب نہیں ہوتا!

وہ خواب جنہیں پہلے پہل اسٹبلشمنٹ آنکھوں میں سجانے دیتی ہے، پھر وہ خواب آزادی کے خواب بن جاتے ہیں۔ پھر انہیں غدار سمجھ کر انہیں قتل کر کے کسی لنک روڈ پر پھنیک دیا جاتا ہے جن خوابوں کی داڑھیاں بڑھ جاتی ہیں اور وہ اپنے چہروں سے اوشو نظر آتے ہیں۔

وہ خواب جو یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے گھر میں اپنی دھرتی پر اپنوں کو رہنے دو۔ پر اپنے بھی مارے جا رہے ہیں اور گھر بھی ڈھائے جا رہے ہیں۔
وہ خواب جو ہمیں یہ بتانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ طالبان نام ہے بربریت کا وحشیت کا!

ایسے سارے خواب لطیف جمال نے کاغذوں میں بند کر دیے ہیں جن کاغذوں پر نیند ایسے چکر لگا رہی ہے جیسے شہد کے چھتے پر وہ مکھیاں جو بہت پیاری ہوتی ہیں اور بہت ظالم بھی۔۔۔۔!
وہ خواب بھی تو ایسے ہوتے ہیں بہت پیارے بھی اور بہت ظالم بھی!!!!

ایشیا سے لے کر افریکہ تک خواب آزاد نہیں، چاہے وہ خواب نیلسن مینڈیلا کی شکل میں ہوں، چاہے لوتھر کنگ کی شکل میں، چاہے سندھ کے ایک دیوانے کردار آریسر کی شکل میں، چاہے پروفیسر صبا دشتیاری کی شکل میں….

خواب زہر آلود ہیں!
خواب جبر میں ہیں!
خواب اب تو قبر میں ہیں!
خواب قہر میں ہیں!
خواب گم ہیں!
خواب وہ سحر نہیں جو طلوع ہو
اب تو خواب بس اک سیاہ رات ہے!
جو ڈھلتی ہی نہیں!!!

خواب وہ سینہ ہے جس میں وحشت کی بھیانک گولیاں اتر جاتی ہیں اور بلوچستان یونیورسٹی کے گیٹ پر خواب لہو لہو ہو جاتا ہے۔ پھر اسے دنیا بھر کے قبرستانوں میں دفن کیا جاتا ہے۔۔۔۔ کسی کو مٹھی میں، کسی کو رتو ڈیرو میں، کسی کو گڑھی خدابخش میں اور کسی کو نیروبی اور کینا اور کیوبا میں اور کسی کو میوہ شاہ کی مٹی میں!

خواب وہ سپناہے، وہ اعتبار ہے، وہ یقین ہے جسے زہر دیا جاتا ہے۔

نہ مائیں آزاد ہیں!
نہ محبت آزاد ہے!
اور نہ خواب آزاد ہیں!

یہی بات ہمیں لطیف جمال "خوابوں کی آزادی” میں بتا رہے ہیں کہ، "خواب آزاد نہیں ہیں!”

Facebook Comments
(Visited 35 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com