مرکزی صفحہ / بلاگ / خوابوں‌ کی دنیا کا ترقی یافتہ گوادر

خوابوں‌ کی دنیا کا ترقی یافتہ گوادر

حمل داؤد

بین الاقوامی سطح پر نام کمانے والا گوادر، جو نام سے ہی اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ بیرونی ممالک میں عام آدمی اس کے نام سے اتنا واقف نہیں، جتنے بڑے بڑے کاروباری حضرات اس کی پہچان رکھتے ہیں۔

گوادر کو میگا سٹی، دبئی پیرس بنانے کی کوششیں پچھلے 10 سال سے جاری ہیں لیکن ابھی تک اس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ملی ہے، اور 10 سالوں سے جاری نامکمل منصوبوں پر ابھی بھی کام جاری ہے۔ جن پر اربوں اور کھربوں تک کے فنڈز بھی استعمال کیے جا چکے ہیں۔

میرین ڈرائیو ہو یا سید ہاشمی ایوینیو ان پر کئی برسوں سے کام ہو رہا ہے کہا تو یہی جا رہا ہے کہ ان کو اتنے جدید طرز کے بنائیں گے کہ دنیا دیکھتا رہ جائے گا لیکن جو کام پچھلے کئی سالوں سے سست روی سے جاری ہے لگتا نہیں یہ جدید طرز کے بن پائیں گے، کیونکہ روڈ کے ایک حصے کو مکمل کرکے کچھ وقت کے لیے کام روک دیا جاتا ہے پھر بنے روڈ پر دراڑیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں پھر اسی کے مرمت دوبارہ شروع کی جاتی ہے اور آگے کا منظر کھنڈر نما برقرار رہتا ہے۔

سیوریج لائن سسٹم کے مرمت کے وقت کئی لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی کہ جن طریقوں کو استعمال کر کے ان کو مرمت کی جارہی ہے بعد میں یہ ہم شہریوں کے لیے وبال جان بن جائے گا لیکن سنی ان سنی کر دی گئی اور اب جہاں جہاں روڈ گرتی ہے اس کے بیچ سیورج لائن گزر رہی ہے. ان کے منہ بند کرنے کے لیے جو ڈھکن لگائے گئے تھے ایک معمولی سا وزن برداشت کرنے سے قاصر ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور روزانہ کے حساب سے ان کی وجہ سے روڈ حادثات پیش آ رہے ہیں۔ جب کہ ان پر لاکھوں کے فنڈ بھی خرچ ہو چکے ہیں۔

گوادر شہر کے مختلف ایریاز میں پکے روڈ بنانے کے لیے 5 ماہ قبل جو منصوبہ شروع کیا گیا تھا اس کام کو ڈرامائی انداز میں انتہائی کم مدت میں ہی مکمل کیا گیا اور اب 5 ماہ گزر جانے کے بعد یہی روڈ جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ان کی مرمت پر بھی شہریوں اور جماعت اسلامی گوادر نے آواز اٹھائی تھی لیکن ان کے خدشات کو نظرانداز کیا گیا۔

جماعت اسلامی مکران ڈویژن کے سیاسی و انتخابی گروپ لیڈر سعید احمد بلوچ نے گزشتہ دنوں متعلقہ ادارے اور ان منصوبوں پر ایک بیان جاری کیا تھا کہ
"گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی۔ڈی۔اے) کی کرپشن پر آنکھیں چرانے والے زرا گوادر آ کر گوادر شہر اور گرد و نواح کی حالت زار دیکھیں بغیر کسی پلاننگ اور منصوبے کے تحت پورے شہر گوادر میں گڑھے کھود کر اب ان میں کیا گوادریوں کو دفنانے کا ارادہ ہے؟؟

10 سالوں‌ کے دوران اربوں کے فنڈز وصول کرنے کے باوجود سید ظہور شاہ ہاشمی روڈ سے لے کر فاضل چوک تک روڈ کی تعمیر نہ ہو سکی، سربندن جیٹی اور پشکان جیٹی مکمل ہونے کا نام نہیں لیتے، گوادر کے اندر سیوریج لائن کا کام ادھورے کا ادھورا ہے. میرین ڈرائیو پر کئی سالوں سے ایک ہی جگہ پر کام جاری ہے آگے بڑھنے پر جیسے فل اسٹاپ لگا ہوا ہے..

گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے پورے گوادر شہر کو کھنڈر کی طرح بنا دیا ہے لیکن پوچھنے والا کوئی نہیں..

جی ڈی اے کی کرپشن اور کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی لازمی ہے جو جانے کیسے محدود تنخواہوں میں کروڑوں کے مالک بن چکے ہیں..!!

بجائے پیرس اور دبئی بنانے کے گوادر کو ایک کھنڈر نما شہر بنانے کے خلاف سیاسی و سماجی شخصیات کے بیانات غلط نہیں ہیں۔ اس حوالے سے اوپر بھی لکھ چکا ہوں کہ جن ترقیاتی منصوبوں پر اربوں اور کھربوں روپوں کے فنڈز ابھی تک خرچ ہوئے ہیں 10 سال گزر جانے کے بعد بھی وہ منصوبے مکمل نہیں کیے جا سکے ہیں۔

گوادر کی ترقی اور سی پیک منصوبے کی سب حمایتی ہیں لیکن ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ جو ترقیاتی کام ہو رہے ہیں انہیں نیک نیتی سے اور صحیح معنوں میں کیا جائے تاکہ گوادر کی ترقی صرف خوابوں تک محدود نہ رہے۔

Facebook Comments
(Visited 15 times, 1 visits today)

متعلق حمل داؤد

حمل داؤد
مصنف کا تعلق گوادر سے ہے۔ وہ سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں