مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / میرے گھر کی دیواریں نہ پھلانگو!

میرے گھر کی دیواریں نہ پھلانگو!

محمد خان داؤد

تم جو آدھی رات کو آتے ہو
در پر دستک بھی نہیں دیتے
نہ میرا نام پوچھتے ہو
نہ میرا حال پو چھتے ہو
خدارا! میرے گھر کی دیواریں نہ پھلانگو!

تم جو آدھی رات کو آتے ہو
تمہارے آنے سے گھر ڈر سا جاتا ہے
ماں سہم جاتی ہے
اور میری بہنیں!
اپنی چادروں میں پوری نہیں آتیں
کیوں کہ میں اک مفلس ہوں
اور وہ تیزی سے جوان ہو رہی ہیں
مجھے کہاں آنا ہے؟
مجھے کب آنا ہے؟
مجھے بُلا کیوں نہیں لے
میں وہاں آجاؤں گا
اور آتی ہی یہ نہیں پوچھوں گا
مجھے کیوں آنا ہے؟!
میرے گھر کی دیواریں نہ پھلانگو!

پھر جو تم
میرے گھر کی کمزرو دیواریں
پھلانگ ہی لیتے ہو
اور آتے ہی
مجھے مغلظات بکتے ہو
جب کہ قومی شناختی کارڈ پر
میرا نام درج ہے
میں کس کا بیٹا ہوں
کہاں رہتا ہوں
سب درج ہے
پر تمہاری زباں مجھے۔۔۔۔!!!
پر یہ مغلظات تم مجھے گھر سے باہر بھی تو بک سکتے ہو!
اِن گالیوں سے میری ماں ڈر جاتی ہے
میری بہنیں رونے لگتی ہیں
میرے گھر کی دیواریں نہ پھلانگو!

پھر جب تم کچے مکاں کی بوسیدہ دیوار پھلانگ کر
آ ہی جاتے ہو
اور مکاں کے ساتھ مکیں کا وہ حشر کرتے ہو
کہ دل روتا بھی نہیں، کچھ کہتا بھی نہیں
تم میری کتابوں کو، اپنے جوتوں سے پرے ہٹاتے ہو
اور اُن کتابوں میں تمہیں
وہ کتابیں چاہئیں
جو پہلے آدمی کو بدلتی ہیں
پھر بولنا سکھاتی ہیں
سوال کرنے، اعتراض کرنے
کا پتہ دیتی ہیں
اور تم کہتے ہو کہ وہ کتابیں
ایمان بھی ساتھ لے جاتی ہیں
مگر سنو،
میرے گھر کی دیواریں نہ پھلانگو!

نیند سے بیدار کر کے، سر کے بالوں سے پکڑ کر
اُٹھا کر بٹھا دیتے ہو
میرے کان اک نئے لقب سے مانوس ہوتے ہیں
"اوئے حرامی!”
تم مجھے ایک نیا نام دیتے ہو
مجھے حرامی کہتے ہو
اُس ماں سے پوچھو
جو دور گاؤں سے بیاہ کر لائی گئی تھی
اُس نے تو اپنے میاں کا چہرہ بھی
شادی کے دوسرے دن دیکھا تھا
اب اس کے سارے بال سفید ہیں
اور سُوئی میں دھاگہ بھی نہیں ڈال سکتی
وہ تو اب تک اپنی ماں کی بولی میں بات کرتی ہے
وہ تو اب تک اردو بھی نہیں جانتی
میرے گھر کی دیواریں نہ پھلانگو!

اب جو تم مجھے ماں کے سامنے مار بھی رہے ہو
گالی بھی دے رہے ہو
کپڑوں سے عاری بھی کر دیا ہے
اور اپنے ساتھ لے جا رہے ہو
نہیں معلوم لوٹ پاؤں کہ نہیں
نہیں معلوم کہ پھر سے
ماں کو دیکھ پاؤں کہ نہیں
نہیں معلوم کہ بہنوں کو دلاسہ دے پاؤں کہ نہیں
کہ جن کے کپڑے پھٹ گئے ہیں
اور وہ مجھ سے کبھی نئے جوڑے کی فرمائیش نہیں کرتی تھیں
وہ جانتی تھیں
میں کون ہوں؟
اور کیا کماتا ہوں؟
وہ چھوٹی عمر میں ہی داناہوگئی تھیں
اور وہ دانائی انہیں دیوانہ کر گئی تھی
وہ دانا تھیں
اور لطیف کہہ گیا تھا؛

اللہ ڈاھی مہ تھیاں
ڈاھیوں ڈُکھ ڈسن!


اللہ مجھے دانا نہیں کرنا
دانا دُکھ دیکھتے ہیں!

اور جب میں اُن سے پانی کا گلاس مانگتا تھا
تو وہ اپنے پھٹے لباس سے اپنے جسم کو
اپنے سر کے دوپٹے سے ڈھانپ لیتی تھیں
اور اُن کا سر ننگا ہوجایا کرتا تھا
نہیں معلوم کہ زندہ بھی رہوں کہ نہیں
تو بس اک بار اس ماں سے کہنے دو
جو میرے بعد بہت روئے گی کہ
"ماں، اب دروازے پر کنڈی نہیں لگانا،
اس ملک کے جوان دیواریں پھلانگنا سیکھ گئے ہیں!”

Facebook Comments
(Visited 15 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com