مرکزی صفحہ / بلاگ / بلوچستان کے میڈیا کا نوجوان لکھاریوں کے ساتھ ناروا سلوک

بلوچستان کے میڈیا کا نوجوان لکھاریوں کے ساتھ ناروا سلوک

ظریف بلوچ

بلوچستان کے حوالے سے یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ملکی میڈیا بلوچستان کے مسائل کو اجاگر نہیں کرتا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ حق بجانب ہے مگر ایک اور چیز جس نے مجھے آج یہ لکھنے پر مجبور کر دیا کہ بلوچستان کا اپنا میڈیا کیا بلوچستان کے مسائل کو اجاگر کر رہا ہے؟ کیا بلوچ اخبارات اور میڈیا کارکن ان علاقائی مسائل پر رپورٹنگ کر رہے ہیں جو کہ عرصہ دراز سے حل طلب ہیں؟ کیا بلوچستان کا میڈیا صرف سیاسی بیانات اور پریس ریلیز تک محدود ہو کر نہیں رہ گیا ہے؟ کیا آن لائن میڈیا کے علاوہ مقامی اخبارات میں بلوچ رائٹرز کو جگہ ملتی ہے؟

ان سوالات کا جواب جاننے کے لیے کچھ تخلیق کرنے کی سوچ لے کر آج لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔گزشتہ سترہ سالوں سے میں نے بلوچستان کے مقامی میڈیا پر مشاہدہ کرنے کے بعد کچھ نتائج اخذ کیے جس پر شاید ہمارے خودساختہ سینئر صحافیوں اور دانش وروں کو اختلاف ہو سکتا ہے مگر حقائق کو نظر انداز کرنا ممکن ہے۔

میں بلوچستان کے جن اخبارات کو دیکھتا ہوں، وہاں ادارتی صفحہ کے آرٹیکل ملکی میڈیا میں شائع ہونے کے بعد مستعار لے کر شائع کیے جاتے ہیں۔ سب سے بڑی بد قسمتی یہ کہ جس ادارے سے آرٹیکل لیے جاتے ہیں، ان کا شکریہ ادا کرنا بھی گوارا نہیں کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان میں کوئی ایک بھی رائٹر نہیں ہے جن کے آرٹیکلز کو ادارتی صفحہ میں جگہ ملے؟۔ کیا بلوچستان میں لکھاریوں کا قحط ہے؟ کیا قومی میڈیا کے شائع شدہ آرٹیکل کو مقامی لوگ پڑھتے ہیں؟۔

ان سوالات کا جواب تو بلوچستان کے صحافتی حلقے بہتر دے سکتے ہیں۔ لیکن جب بات ہوتی ہے علاقائی مسائل کی تو مجھے تعزیت اور پریس ریلیز زیادہ نظر آتے ہیں۔ بلوچستان میں چند لوگوں کے علاوہ زیادہ تر صحافتی حلقے صحافت کو اپنی ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ صحافی سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے ترجمان نظر آتے ہیں۔ مقامی صحافت کو بزنس کے طور پر استعمال کر کے علاقائی ایشو پر چشم پوشی اختیار کی جاتی ہے۔

دکھ اس بات کا ہوتا ہے جب ہم اپنے مقامی مسائل کو خود مقامی میڈیا میں کور نہیں کرتے ہیں اور اپنی سارا غصہ قومی میڈیا پر اتارتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ قومی میڈیا بلوچستان کے حوالے سے بعض معاملات پر خاموش ہے کیوں کہ آج کل میڈیا گروپ بھی کمرشل اشتہارات کو لے کر کام کرتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقامی نامہ نگار علاقائی ایشو اجاگر نہیں کرتے ہیں یا مقامی میڈیا خود بھی اشتہارات کے پیچھے بھاگ دوڑ میں لگا ہوتا ہے۔ جب کہ مقامی میڈیا بھی سیاسی خبروں اور پریس ریلیز کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ وہ اہم ایشو جن سے معاشرے کے لوگوں کا جینا مرنا وابستہ ہے، اس پر شاید کسی کی نظر نہیں ہوتی۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ حل طلب ہے کہ ہم اپنا سارا غصہ ملکی میڈیا پر اتار کر اسے اپنی صحافتی اور سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مگر بلوچستان میں آن لائن میڈیا کی بدولت آج نہ صرف نئے لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم ملا ہے بلکہ بلوچستان میں رونما ہونے والے واقعات اور بلوچستان کے خوب صورت عکس کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں مدد ملی ہے۔

رہی بات بلوچستان کے مقامی اخبارات کی، اس سلسلے میں ان کے کردار کا اندازہ لگانے کے لیے ان کے ادارتی صفحے کا مطالعہ کافی ہے ۔ ان اخبارات میں کسی نوجوان کو لکھنے سے پہلے ان کے مقامی نامہ نگار سے بات کرنی پڑتی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ بلوچستان کا نام استعمال کرنے والے اخبارات بلوچ نوجوانوں لکھاریوں کو اپنے اخبارات میں جگہ دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔

Facebook Comments
(Visited 74 times, 1 visits today)

متعلق ظریف بلوچ

ظریف بلوچ
بلوچستان کا ساحلی علاقہ پسنی سے تعلق رکھنے والا ظریف بلوچ گوادر کے ان موضوعات پر لکھنا پسند کرتا ہے جن پر لکھا نہیں گیا ہے۔۔