مرکزی صفحہ / فلم ریویو / بلوچ سینما کا بانی: ایک سازشی فن کار

بلوچ سینما کا بانی: ایک سازشی فن کار

ذوالفقار علی زلفی

آئیے! نعیم نثار صاحب سے ملتے ہیں ـ جناب "بول” ٹی وی سے وابستہ ہیں ـ وہاں کیا کرتے ہیں؟ ـ سچ کہوں تو مجھے نہیں معلوم ـ اس سے پہلے بلوچی چینل "وش” سے تنخواہ لیا کرتے تھے ـ وہاں کیا کرتے تھے؟ـ اس سوال کا جواب شاید انہیں بھی نہیں معلوم ـ

ہو سکتا ہے کوئی سوچ رہا ہو آج مجھے اچانک نعیم نثار کی یاد کیوں آ رہی ہے ـ کیا میں "بول” کی شان میں گستاخی کا خواہش مند ہوں؟  یا "وش” سے کوئی دشمنی نکالنی ہے؟ ـ سنسنی خیزی ہمارا دھندہ نہیں، یہ تو چینل و ویب سائٹس کی ریٹنگ بڑھانے والوں کا میدان ہے ـ بس آج اچانک مجھے نعیم نثار کے حوالے سے گانا یاد آ گیا "آج پھر تم پہ پیار آیا ہے / بے حد اور بے حساب آیا ہے” ـ
ضروری نوٹ: اس گانے کو "دیاوان” فلم کے تناظر میں سمجھیے، "ہیٹ اسٹوری 2” کے نہیں ـ

دراصل قصہ یوں ہے ہمارے اسلاف نے انقلابات کے دوران سوچا جہاں دنیا بھر میں انقلاب آ رہے ہیں کیوں ناں بلوچستان میں بھی کوئی فلمی انقلاب لایا جائے ـ انور اقبال نامی انقلابی نے "ھمل ماہ گنج” بنائی ـ انقلاب کے چکر میں بلوچ غیرت خطرے میں پڑگئی ـ لینے کے دینے پڑگئے ـ

کاروکاری پر ہم کان نہیں دھرتے چاہے عورت نامی "چڑیل” کو زندہ ہی کیوں ناں دفن کرنا پڑے ـ ہاں، اگر یہ "چڑیل” فلم میں دِکھ جائے تو ہماری غیرت نوے ڈگری کا زاویہ بنا لیتی ہے ـ "ھمل ماہ گنج” کی "ماہ گنج” نے ہماری غیرت کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا ـ بلوچ مردوں کی شہری اکثریت نے ازار بند باندھ کر میدانِ کارزار میں اترنے کا فیصلہ کر لیاـ گھمسان کا رن پڑا ـ "چڑیل” کو دوبارہ کٹیا میں پناہ لینی پڑی ـ کٹیا میں چاہے کوئی سردار چاکر مونچھوں کو تاؤ دیتا اس کا شکار کرے یا بی برگ جیسا بانکا اس کی عزت کی دھجیاں بکھیرے، کوئی پرواہ نہیں ـ پرواہ صرف "قندیل” کی ہے جو روشن ہونے کی چاہ رکھتی ہے ـ

بات کہاں سے کہاں نکل گئی ـ ہاں تو دوبارہ آئیے نعیم نثار کی طرف ـ نعیم نثار کراچی کے شہری بلوچ ہیں اس لیے "غیرت مندی” انہیں بھی ورثے میں ملی ہے مگر شومئیِ قسمت فلموں کا شوق بھی رکھتے ہیں ـ آگ اور پانی جیسا تال میل ہے ـ

1986 کا سال تھا ـ نعیم نثار کے سر پر بلوچی فلم بنانے کا ناقابلِ  شکست بھوت سوار ہوگیا ـ "ھمل ماہ گنج” کی پسپائی کی کہانی ابھی پرانی نہیں ہوئی تھی، اس لیے بے چارے ڈرے اور سہمے ہوئے تھے،  کجا "غیرت” کو چیلنج نہ کر بیٹھیں ـ اچھا ہی ہوا کہ ڈر گئے ورنہ بلوچ غیرت مند عاملوں نے ان کے سر پر چڑھے بھوت کو ایسے بھگانا تھا کہ وہ رہتی دنیا تک بلوچ کا تصور کر کے ہی تھر تھر کانپنے لگتا ـ

ڈرے اور سہمے ہوئے نعیم نثار نے مزاحیہ آڈیو کیسٹوں کے ذریعے شہرت پانے والے ایک اور "سازشی” درمحمد افریقی کو تلاش کیا ـ اپنے اس خوفناک منصوبے میں انہوں نے ان کو بھی شامل کر لیا ـ

درمحمد افریقی اور نعیم نثار نے پہلے بلوچ غیرت کا اچھی طرح معائنہ کیا کہ وہ کون کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اسے خطرہ پہنچنے کا امکان ہے ـ وہ پھونک پھونک کر چلنا چاہتے تھے ـ وہ جانتے تھے ذرا سی چوک کا مطلب سیدھا موت ہے ـ بلوچ غیرت کا مسئلہ ہے بھئی، کوئی مذاق تھوڑی ہے ـ

نعیم نثار اور درمحمد افریقی بڑی جانفشانی کے بعد عورت نامی "چڑیل” کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ـ نعیم نثار نے اس مخلوق کے "شر” سے فلم کو بچانے کا مکمل ارادہ کرلیا ـ ان کا مقصد بلوچ سینما کی بنیاد رکھنا تھا ، انقلاب لانا نہیں ـ ویسے بھی وہ انقلاب کا نتیجہ دیکھ چکے تھے ـ

نعیم نثار نے ہدایت کاری کی سیٹ سنبھالی ـ درمحمد افریقی ساتھ تھے ـ دیگر فن کار بھی جمع کئے گئے ـ پوری پوری کوشش کی گئی فن کاروں میں کسی "کاری” کا نام شامل نہ ہو ـ

اسی سال یعنی 1986 کو پہلی بلوچی فلم "طنز گر” نعیم نثار کی ہدایت میں ریلیز کر دی گئی ـ یہ مکمل فلم نہ تھی بلکہ مختلف مزاحیہ واقعات کا مجموعہ تھا لیکن اس فلم نے جمود توڑ دیا ـ

یہ بلوچی فلموں کا نکتہِ آغاز تھا ـ "چڑیل” کے شر سے پاک سہی مگر اس کی اہمیت اٹل ہے ـ نعیم نثار خاموشی کے ساتھ بلوچ معاشرے میں فلم سازی کے جراثیم داخل کرگئے ـ

قصہ مختصر ـ نعیم نثار صاحب بلوچ سینما کے بانی بن گئے ـ وہ پہلے ہدایت کار بن گئے جنہوں نے فلم بنائی اور ریلیز بھی کر دی ـ در محمد افریقی صاحب بھی اس "سازش” میں شریک تھے ـ در محمد افریقی کی اداکاری اور مزاحیہ فقروں کے باعث "طنز گر” بلوچی ویڈیو فلموں کی دنیا میں سپر ہٹ قرار پائی، بالخصوص ان پر فلمایا گیا نغمہ "نود نو روپیہ ءِ ککڑ انت / پشی ءَ برتگ وارتگ” زبان زد عام ہوا ـ

بلوچ غیرت خیر آج بھی اس عورت نامی شر سے خطرے میں ہے ـ حال ہی میں عمران ثاقب نام کے شاعر نوجوان نے ماہ لقا بلوچ نامی "چڑیل” کے ساتھ مل کر "گُلی” فلم کے ذریعے غیرت پر بھرپور وار کیا ـ عمران ثاقب نامی سازشی کا ذکر پھر کبھی ـ آج نعیم نثار سے ملیے ـ

ہو سکتا ہے کل نعیم نثار بابائے بلوچ سینما کے نام سے پکارے جائیں ـ ہوسکتا ہے ان کے نام سے بھی کسی فلمی ایوارڈ کا اجرا کیا جائے ـ سب کچھ ہو سکتا ہے ـ ہو سکتا ہے کل کو کوئی کہے یار زلفی نے بھی بابا کے خلاف بکواس کی ہے ـ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن مجھے تاریخ کے ہاتھوں مرنا قبول ہے،  "غیرت مندوں” کے ہاتھوں نہیں ـ

ریکارڈ کی درستی کے لیے لکھ رہا ہوں،  نعیم نثار سازشی انسان ہیں اور در محمد افریقی اس سازش میں شریکِ کار ـ ان دونوں نے بلوچ سینما کی بنیاد رکھی جس پر آج جان البلوشی، عمران ثاقب، حنیف شریف، طارق مراد، انور غلام، شاکر شاد، احسان شاہ، ذاکر شیران، مولا بخش رئیسی، فضل حیات اور دیگر فن کار رنگ روغن کر رہے ہیں ـ

توبہ توبہ، اب تو نازین بلوچ نامی لڑکی بھی ہدایت کاری میں قدم رکھ چکی ہیں….. قربِ قیامت کے دن ہیں!!.

Facebook Comments
(Visited 151 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔