مرکزی صفحہ / خصوصی حال / خوابوں کی گمشدگی

خوابوں کی گمشدگی

شبیر رخشانی

انسان زندگی میں‌ خواب ہی دیکھتا ہے، پھر انہی خوابوں‌ کی تکمیل میں‌ جت جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے میں نے سب سے پہلے خواب دیکھنا اس وقت چھوڑ دیا تھا جب والد کا دستِ شفقت سر سے اٹھ چکا تھا۔ اور میں وقت کی بے رحم موجوں کے حوالے ہو چکا تھا۔ وقت نے مجھے بتلا دیا کہ نہیں آپ نے جینا ہے، ہر حال میں جینا ہے، جینے کے لیے خواب دیکھنا ہے۔ سو میں نے جینے کے لیے خواب دیکھنے شروع کیے۔ زندگی میں جتنی بھی تکلیفیں آئیں، خواب کے آگے سجدہ ریز ہوگئیں۔ یوں زندگی اپنی ڈگر پر چلتی رہی۔

مجھے یاد ہے، جب میں بچہ تھا تو میں خواب دیکھا کرتا تھا۔ بڑے لوگ کہا کرتے تھے کہ چھوٹے لوگوں کو چھوٹے خواب ہی دیکھنے چاہئیں۔ بڑے خواب یا تو ادھورے رہ جاتے ہیں یا چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ بڑے خواب دیکھنا چھوڑ دیے، چھوٹے چھوٹے خواب ہی زندگی سے پیوست ہوگئے؛ جیسے ٹیوشن سینٹر میں پڑھنے کا خواب۔ یہ خواب ہم نے دیکھنا اس وقت شروع کیا جب میرے ہم عمر انگریزی ٹیوشن لینے پرائیوٹ اسکول جایا کرتے تھے۔ اور میں سکول کا چہرہ تکتا تھا۔

میرے خوابوں کے آگے میری غربت آن کھڑی تھی۔ لیکن میں نے خواب دیکھنے نہیں چھوڑے۔ نہ جانے کب کس وقت اسکول ماسٹر کو میرا خیال آیا کہ میرے خوابوں کو تعبیر مل گئی۔ خواب کی تعبیر پاتے ہی میں ایک اور خواب دیکھنے میں جت جاتا۔ یوں زندگی کا خواب دیکھتے انگڑائیاں لیتے ہوئے سفر کرتا رہا۔ کہیں خوابوں کو ان کی تعبیر مل گئی تو کہیں خواب ادھورے ہی رہے۔

ایک دن اچانک کسی نے اطلاع دی کہ میرے ماموں کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور وہ آخری اسٹیج پر ہیں، ان کا بچ نکلنا ناممکن تو نہیں پر مشکل ضرور ہے۔ ہم نے نہ جانے کون کون سے ٹوٹکے نہیں آزمائے۔ ہمت جواب دے گئی، ماموں چلے گئے۔ ماموں کے انتقال نے جیسے اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ میں نے ایک بار پھر سے خواب دیکھنا چھوڑ دیا۔ افسردہ سا رہنے لگا۔

وقت گزرتا گیا۔ جب مشکل حالات ذرا چھٹنا شروع ہو گئے۔ میں نے ایک بار پھر سے خواب دیکھنا شروع کیا۔ خوابوں کے شجر میں‌ بسیرا ہونے لگا۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ جت گئے۔ ہم نے آواران سے اپنا رخ کوئٹہ کی طرف کر دیا۔ کوئٹہ میں تھے تو مشکل حالات، پر مستقبل میں جینے کی تمنا اور اس تمنا کو لے کر خوابوں کی تعبیر تک۔ خواب کیا تھے ایک اپنا چھوٹا سا گھر ہو، ایک عدد نوکری ہو اور والدہ کے ساتھ گزر بسر ہو۔

ابھی انہی خوابوں کی تعبیر میں جتا ہی تھا کہ اطلاع ملی کہ میرے ماموں ٹارگٹ کلنگ میں مارے جا چکے ہیں۔ زندگی ایک بار پھر سے سانحہ بن کر سر پر ٹوٹ پڑا۔ ہم نے تہیہ کر لیا کہ اب تو خواب دیکھنا ہی نہیں ہے جب بھی خواب دیکھتے ہیں تو کوئی نہ کوئی سانحہ جنم لے لیتا ہے۔ ہم زندگی سے جوج (بھِڑ) گئے، زندگی ہم سے۔ زخم جب مندمل ہوئے ہم ایک بار پھر سے خوابوں کے راستے پر چل نکلے پھر ایک اور سانحے نے جنم لیا۔ ہم ایک بار پھر سے بے سہارا ہوگئے۔ زندگی کی انہونی کو ہونا تھا، سو ہونی کو کون روک سکتا ہے ۔۔۔ ہم چپ ہوئے، چل دیے نئے خوابوں کی تشکیل میں۔

کاروانِ زندگی بڑھتا چلا گیا جانبِ منزل، کئی مسافر زندگی میں آئے۔ کئی بیچ سفر ساتھ چھوڑ گئے۔ کراچی آباد ہو گیا۔ کراچی میں رہ کر خواب ہی دیکھتا رہا۔ کراچی راس آیا۔ ایک حلقہ بن گیا۔ اس حلقے میں یونیورسٹی کے طالب علم بھی شامل ہوگئے، زندگی حسین لگنے لگی۔ ہم نے زندگی سے پیار کرنا شروع کیا۔ دو روز قبل اطلاع ملی کہ یونیورسٹی کے انہی طالب علموں سے ایک نوجوان ممتاز ساجدی ان کے بھائی دیگر ایک ساتھی کے ہم راہ لاپتہ ہو گئے ہیں۔

کیسے لاپتہ ہوگئے؟ رات کے چار بج چکے تھے۔ کسی نے مرکزی دروازے پہ دستک دی۔ بڑے بھائی گھر سے نکلے۔ ان کے سامنے سے دیگر دو عدد بھائی (انسان ایک شئے بن چکا ہے، اس لیے عدد سے تشبیہ دے رہا ہوں) کو نامعلوم افراد نامعلوم مقام منتقل کر گئے۔ وہ مقام جہاں فقط سرگوشیوں کی آوازیں آتی ہوں شاید۔ زندگی ساکت ہوگئی اور ہم ایک بار پھر سے منجمد ہو گئے۔

زندگی نے ایک بار پھر سے امتحان میں ڈال دیا۔ سوالات کا انبار لا کر کھڑا کر دیا۔ ممتاز ساجدی کون تھے۔ ایک غریب سرکاری ملازم کا بیٹا۔ والد کا کام لوگوں کی خدمت کرنا اور خدمت کے عوض بچی کھچی رقم کو اپنے اولاد کی تعلیم کے لیے بھیجنا تاکہ وہ تعلیم حاصل کر کے مستقبل کا خواب دیکھ سکیں۔

بلوچستان میں جنگ و جدل کی ایک فضا قائم ہے۔ جنگ و جدل کی اس فضا میں زیادہ نقصان وہ طبقہ اٹھا رہا ہے جو جنگی ایندھن نہیں بننا چاہتا، سہانے خواب دیکھتا ہے، خوابوں کو آنکھوں میں سجاتا ہے۔ اپنی کمائی کو بچوں کی تعلیم و تعلم پہ خرچ کرنا چاہتا ہے۔ وہ وہی خواب دیکھتا ہے جو اس ریاست کا ہر باسی دیکھتا ہے۔ وہ ایک اچھے مستقبل کا خواہاں ہوتا ہے۔ وہ روز جینے کی تمنا لے کر اٹھتا ہے لیکن شام ہوتے ہی امیدیں مایوسی سے دامن گیر ہوجاتی ہیں۔ ایک نیا المیہ جنم لیتا ہے۔

ممتاز ساجدی کو میں قریب سے جانتا ہوں۔ وہ گریشہ کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ ذوقِ تعلیم اسے گریشہ سے اٹھا کر کراچی لے آیا۔ وہ اور اس کا دوست فیروز ہفتے میں دوبار میرے پاس آتے تھے، حال حوال ہوتا تھا۔ چند روز قبل ان کے نام پہ ہیرالڈ میگزین کی جانب سے ایک خط آیا۔ فون پر انہیں اطلاع دی تو بڑے خوش تھے کہ ان کی محنت کی کمائی انہیں مل گئی ہے۔ کتابوں سے بے پناہ محبت کرنے والا انسان۔ ایک بار میرے پاس آئے، کتابیں طلب کرنے لگے۔ میں نے کہا، آپ طالب علموں کو کوئی کتاب ہاتھ لگ جائے تو واپس نہیں کرتے، میں کتاب نہیں دوں گا۔

بہرحال، وہ ایک علم دوست نوجوان ہے۔ اب یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ نہ جانے کس گناہ کی سزا میں اسے اٹھا کر لے جا چکے ہیں۔

ایسے ہی خواب ممتاز نے دیکھے ہوں گے، ممتاز کے گھر والوں نے دیکھے ہوں گے۔ سہانے خواب، مستقبل کا خواب، پر خوابوں کی تعبیر یہ ہوگی کہ علم کے دیوانے اس نوجوان کو رات کی تاریکی میں اٹھا کر گمشدہ کر دیا جاتا ہے، جس وقت انہیں اٹھایا گیا ہو گا، اس وقت نہ جانے ممتاز کے دل میں کیسا خیال آیا ہوگا۔۔۔

ممتاز سماج کے لیے ایک سوال بن کر ابھرا ہے کہ آیا علم حاصل کرنا ایک جرم ہے۔۔۔ علمی نشستیں اٹینڈ کرنا جرم ہے۔۔۔ کیا سیاسی گفتگو کرنا جرم ہے۔۔۔ اگر یہ جرم ہے تو یہ جرم مجھ سمیت سماج کا ہر باشعور فرد کر رہا ہے۔۔۔ اس جرم کی پاداش میں ہم سب کو آ کر لے جائیں۔۔۔ ہم رضاکارانہ طور پر گمشدہ ہونے کے لیے تیار ہیں۔۔۔

یا یہ کہ بلوچ نوجوان جو سہانے خواب دیکھتا ہے یا بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔۔۔ یہ سارے خواب دیکھنا جرم ہے۔۔۔ تو یہ جرم آج کا ہر بلوچ نوجوان کر رہا ہے۔۔۔ اگر خواب دیکھنا جرم ہے تو بتایا جائے بلوچ نوجوان نسل آج سے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔۔۔ نوجوانوں کو راستہ دیں، راستہ دکھائیں۔۔۔ نہ کہ انہیں ذہنی اذیت کا شکار بنایا جائے۔

ممتاز ساجدی کی گمشدگی کے بعد کئی نوجوانوں کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ وہی نوجوان ہیں جو پُرامن جدوجہد پہ یقین رکھنے والے ہیں ایک پُرامن، اور خوب صورت بلوچستان کا خواہاں ہیں۔ میرے خیال میں انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ نوجوانوں کو ان کے پُرامن جدوجہد سے ہٹا کر مزاحمت پر آمادہ نہ کریں۔ یہی جمہوریت ہے، یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

Facebook Comments
(Visited 66 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani