مرکزی صفحہ / بلاگ / بلوچستان کا سیاسی درجہ حرارت

بلوچستان کا سیاسی درجہ حرارت

عبدالحلیم

کوئٹہ کے سرد موسم میں صوبے کا سیاسی درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور اس سیاسی درجہ حرارت کے بڑھنے کی اہم وجہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سردار ثنااللہ زہری کے خلاف حکومتی ارکان کی جانب سے داخل کی گئی تحریکِ عدم اعتماد ہے۔

بظایر یہی کہا جا رہا ہے کہ قائد ایوان اپنی جماعت کے ارکان اور ہم خیالوں کے اعتماد پر پورا اترنے میں ناکام ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تحریک سامنے آئی ہے۔

تحریک عدم اعتماد کے ایک محرک اور ق لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ان کے خدشات کے ازالہ کی تشفی میں ناکام ہو چکے ہیں۔ فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کا تنازع حل نہیں کیا گیا اور سب سے بڑی وجہ صوبے میں بڑھتی ہوئی کرپشن کا بھی سرایت کر جانا ہے، جس سے صوبے کی بدنامی میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو کہتے ہیں کہ یہ تنازع ن لیگ اور ق لیگ کا ہے اور یہ جھگرا بہت بڑا نہیں۔

تاہم تحریک عدم اعتماد سامنے آنے پر اس کو کسی اور پیرائے میں بھی لیا جا رہا ہے۔ جس کا اہم پہلو سینیٹ کے مارچ میں ہونے والے ممکنہ انتخابات ہیں۔ یعنی صوبے کی قیادت کو تبدیل کر کے سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر اسمبلی تحلیل کرنا مقصود ہے۔ یعنی ن لیگ کی سینیٹ میں عددی برتری کو کم کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اس حوالے سے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی الیکٹرول کالج کی عدم موجودگی میں سینیٹ کے انتخابات ملتوی نہیں ہو سکتے تاہم سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا۔

بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل این پی اور پختونخواہ نے اس تحریک کا حصہ نہ بننے کا اعلان کیا ہے۔ عدم تحریک کے زیادہ تر حامی حکومتی ارکان ہی ہیں اور این پی کے میر خالد لانگو بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں جب کہ اس کو تڑکا لگانے والوں میں اپوزیشن کی دو جماعتیں جمعیت علمائے اسلام ف اور بی این پی مینگل نہایت بیتاب نظر آتی ہیں۔

واضح رہے کہ جمعیت وفاق میں ن لیگ کی پارٹنر ہے اور بہت عرصہ بعد جمعیت بلوچستان میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔
تاہم وفاقی حکومت نے اپنی اتحادی جماعت جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کے لیے مدد بھی مانگ لی ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا نے پہلے تو اسے صوبائی معاملہ قرار دے دیا ہے اور ساتھ ہی اپنی چند شرائط بھی وفاقی حکومت کے سامنے رکھ دی ہیں۔

تاہم اس تحریک عدم اعتماد کو لے کر بہت سی قیاس آرائیاں جنم لی چکی ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کو جمہوریت کے خلاف سازش کا ایک حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ جب تک تحریک عدم اعتماد اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ پاتی، مختلف قسم کے تجزیے اور قیاس آرائیاں سامنے آتی رہیں گی۔

جب کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار ثنااللہ زہری اس تحریک کے سامنے آنے پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ جو لوگ تحریک لا رہے ہیں ان کو اکثریت حاصل نہیں، اگر وہ یہ تحریک پیش کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا جمہوری حق ہے، وہ اپنا یہ شوق پورا کر لیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں جو بھی حکومت سازی ہوتی ہے، اس پہ ہمیشہ سے ہی یہی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ حکومت بنانے کا اختیار کسی اور کے پاس ہے لیکن اس وقت جو وزیراعلیٰ اپنے عہدہ پر براجمان ہیں وہ وفاق پرست جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور جو ارکان تحریکِ عدم اعتماد لا رہے ہیں وہ بھی وفاق کی سیاست کےداعی ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ وفاق پرست ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار نظر آتے ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب حکومت کی معیاد چند مہینے کے بعد ختم ہونے جا رہی ہے۔

گزشتہ ساڑھے چار سال سے تحریک عدم اعتماد لانے والے کیوں کر خاموش تھے اور حکومتی جماعتیں سردار ثنااللہ زہری کی ڈھائی سالہ مدت میں کیوں قائدِ ایوان کی تبدیلی پر بضد ہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جس سے کسی غیر جمہوری عمل کی توقع کے تاثر کو تقویت مل رہی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام ف سے تعلق رکھنے والے قائد حزب اختلاف سردار صاحب سے متعلق نرم گوشہ رکھنے کے باوجود حکومتی باغی ارکان کی حمایت میں کیسے آ گئے اور سردار اختر مینگل جو اسمبلی اجلاسوں میں شاذو نادر ہی نظر آتے تھے اور ان کی پارٹی کے دوسرے ایم پی اے سردار ثنااللہ سے قربت بھی رکھتے ہیں، ان کا باغی ارکان سے جا ملنا کیا کچھڑی پکائے گا؟، اس کا فیصلہ تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد ہی نکل سکتا ہے۔

لیکن اس صورت حال کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ سیاست کو مفادات کا کھیل بنا دیا گیا ہے، بالخصوص بلوچستان میں اختیار اور اقتدار کی پگڈنڈیوں سے گزرنا آسان کام نہیں۔ بلوچستان میں حکومت سازی یا اس میں بگاڑ پیدا کرنا سب کرامات سے نتھی کیا جا رہا ہے۔

سردار ثنااللہ زہری کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کیا صورت لے کر نکلے گی، یہ ایک ہفتہ بعد پتہ چل جائے گا، لیکن گمان یہی ہے کہ اس کے بنیفشری مولانا صاحب ہوں گے۔

Facebook Comments
(Visited 42 times, 1 visits today)

متعلق عبدالحلیم

گوادر میں مقیم عبدالحلیم کل وقتی صحافی ہیں۔ مقامی مسائل کی کوریج میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ صحافت اور ادب کے امتزاج سے کام کو ترجیح دیتے ہیں۔ Email: haleemhayatan@gmail.com