مرکزی صفحہ / خصوصی حال / لیاری کا شاعر، غلام حسین غلام

لیاری کا شاعر، غلام حسین غلام

شبیر رخشانی

شاعر، ادیب، فن کار بھی عجیب ہوتے ہیں۔ سماج کا دکھ درد دلوں کے اندر سمو لیتے ہیں، اسے بیان کرتے ہیں۔ لیکن اپنا دکھ درد کبھی بیان نہیں کرتے یہاں تک کہ کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہی کیوں‌ نہ ہوں۔ (اے شاعر چونیں‌ انسان آں‌ وتی لوگ ءَ وت مہمان آں) یہ حساس ہوتے ہیں، خود دار ہوتے ہیں، خودداری ان کے آڑے آ جاتی ہے۔ شگراللہ بلوچ بلوچستان کے عکس کار رہے۔ بلوچستان کا حقیقی عکس اپنی تخلیقات میں لاتے اور لوگوں کو دکھاتے رہے۔ مصوری کا فن جگاتے رہے۔ سماج کا نوحہ آرٹ کی شکل میں دکھاتے رہے۔ لیکن جب وہی آرٹسٹ بیمار رہنے لگے تو سماج اس سے بیگانہ ہونے لگا۔ شگراللہ بلوچ حالت بیماری میں سماج کو الوداع کہہ گئے۔

سماج ایسے ہیروز سے بھرا پڑا ہے۔ جنہوں نے اپنی تخلیقات سے سماج کو جلا بخشی۔ سماج کو ایک نیا روپ دے دیا۔ سماج کو ادب، آرٹ اور کلچر کے ذریعے نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ ہماری سوسائٹی میں ایسے ادیب ، شاعر، فن کار بے شمار ملیں گے۔ جن سے سماج نے انصاف نہیں کیا۔ ان کے آرٹ و فن کی قدر نہیں کی۔ اور ان کے کارناموں کو پسِ پشت ڈال دیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شاعر، ادیب، مصنف، فن کار کیوں کر پیدا ہوتے ہیں ان کے بطن سے یہ چیزیں جنم کیوں لیتی ہیں؟ کیونکہ ان کے دل میں سماج کا دکھ درد بھرا ہوتاہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، اس پر لکھتا ہے، شاعری کرتا ہے، ایکٹنگ کرتا ہے، پینٹنگ کرتا ہے۔ سماج کا نوحہ خوان ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خداداد صلاحیتیں ہیں۔ میں کہتا ہوں نہیں یہ سماج کا دکھ درد سہنے والے لوگ ہیں۔ جو سماج کے دکھ درد کو اپنے اندر سمو کر ایک نئی چیز تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی یہ تخلیق شاہکار بن جاتی ہے۔ اور عام آدمی واہ واہ کیے بنا نہیں رہ سکتا۔

غلام حسین غلام بلوچی زبان کا نامور شاعر ہے۔ انہوں نے لیاری میں جنم لیا۔ لیاری ہی سے شاعری کا آغاز کیا۔ اسی شاعری کے ذریعے اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی۔ بلوچ و بلوچستان کی حقیقی ترجمانی کی۔ گزشتہ روز جب ہمیں اطلاع ملی کہ شاعر بیمار ہیں تو ہم ان کی عیادت کے لیے سول ہسپتال کراچی چلے آئے۔

ہسپتال پہنچنے پر ہم نے ماسوائے ان کے بیٹے رحیم کے، قوم کو وہاں موجود نہیں پایا۔ رحیم کے والد نے شاعری کے ذریعے اپنے احساسات کی ترجمانی کی۔ جب کہ رحیم نے اپنے احساسات کے لیے پینٹنگ کا چناؤ کیا۔ کمال کے آرٹسٹ ہیں۔ اپنی پینٹنگ کے ذریعے نہ صرف وہ اپنی مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ لیاری کی نوجوان نسل کوآرٹ کا کام سکھا رہے ہیں۔

جیسے ہی میں اور پروین ناز وارڈ کے اندر داخل ہوئے تو ایسا لگا شاعر کی آنکھوں میں جیسے چمک آ گئی ہو۔ ہاتھ پاؤں کافی پھولے ہوئے تھے۔ پتہ چلا کہ انہیں دل کا دورہ پڑا ہے۔ لیکن ایک عجیب سی کیفیت اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔ درد کے اس عالم میں بھی وہ ہم سے کھل کر باتیں کر رہا تھا، ہنس رہا تھا، مسکرا رہا تھا۔ یہیں سے مجھے زندہ دل لیاری کا حقیقی عکس نظر آیا۔

کہا جاتا ہے کہ جب لیاری کے حالات نے پلٹا کھایا اور ہنستا بستا لیاری آہستہ آہستہ خاموش سا رہنے لگا اور اس پر گینگ وار کی چھاپ لگا دی گئی۔ ایسی حالت میں ایک حساس شاعر کے لیے زندہ رہنا دوبھر ہو جاتا ہے۔ وہ اس سماج کا بائیکاٹ کر دیتا ہے، جس کے سہانے سپنے دیکھا کرتا تھا۔ جس کی شاعری میں وہ سماج جھلکتا تھا۔ شاعر غلام حسین غلام لیاری کی اس صورت حال سے ناخوش اور نوجوانوں سے نالاں دکھائی دیے۔ اور حالت نے انہیں سماج سے کنارہ کش ہو کر گھر تک محدود ہونے پر مجبور کر دیا۔

حالات اپنی جگہ بدستور قائم رہے۔ لیاری کے چند نوجوان آگے آئے۔ لیاری میں بہاروں نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا۔ مہردر آرٹ اینڈ پروڈکشن کی جانب سے لیاری میں فلم اسکول کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ نوجوانوں کی دلچسپیاں بڑھنے لگیں تو بزرگوں کو نوجوانوں کی شکل میں امید کی ایک کرن نظر آئی۔ پروین ناز اور اس کی ٹیم نے شاعر غلام حسین کو گھر سے باہر نکالنے کا ذریعہ ڈھونڈ نکالا۔

استاد غلام حسین غلام گھر سے نکل کر اپنی شاعری کو گنگنانے اور سنانے پہ آمادہ ہوئے۔ سن 2016 کو ان کے اعزاز میں ایک پروگرام رکھا گیا۔ جس دن ان کے اعزاز میں پروگرام رکھا گیا، تو زمینی فرشتوں نے اس تقریب کو سبوتاژ کرنے کے لیے حربے استعمال کیے اور مکان کا تالے لگا دیے جہاں یہ پروگرام ہونا تھا۔ شاعر کو گھر سے باہر نکالنے کا جو ذریعہ ڈھونڈ نکالا گیا اس کی امیدیں معدوم ہوگئیں۔ یوں لیاری کا یہ شاعر گھر سے نکلتے نکلتے گھر واپسی کا راستہ اختیار کر چکا تھا۔

البتہ فروری 2017 کو لیاری ہی میں آرٹ کلچر سوسائٹی کی جانب سے ان کے اعزاز میں ایک پروگرام رکھا گیا۔ اس پروگرام میں بلوچستان بھر سے شاعر و ادیب تشریف لے آئے۔ جن میں اے آر داد اور پرفیسر رحیم مہر بھی شامل تھے۔ اس پروگرام میں کل 38 شعرا نے حصہ لیا۔ اور استاد غلام حسین غلام کی شاعری پر اظہار خیال کیا گیا۔ یوں یہ پروگرام بڑا شان دار رہا۔

استاد غلام حسین غلام نے شاعری کا آغاز سن 1970 میں کیا۔ ان کی ابتدائی شاعری میں عشقیہ شاعری جھلکتی ہے۔ ضیا آمریت کے خلاف انہوں نے عشقیہ شاعری کو پسِ پشت ڈال انقلابی شاعری کی جن میں ان کا یہ شعر کافی مشہور ہوا۔

یک عجب دود درائیں مرچاں
چم پچیں کور عصائیں مرچاں
کودک ئے گریت پہ چنڈئے نان ء
رزق ہیکانی دپائیں مرچاں

ایک اور شعر میں کہتے ہیں:

واہگاں کور کنگ لیب نئیں لیب نئیں
شادہاں سور کنگ لیب نئیں لیب نئیں
میری ئے بان ء ربد مہرے نیازمند ء بلئے
کیچ ء بمبور کنگ لیب نہ ایں لیب نہ ایں۔

پدا سیاہ گوات ء یک زلمے شلینتہ مہل ءَ مہل ءَ
منی ریشیں دل ئے اتکا کدیتہ مہل ءَ مہل ءَ
نہ زاناں کہی باگ ئے بن پاناں پہ کہی حسن ئے سینگارا
امیت ئے گل چہ ہنڈال ء روئینتہ مہل ءَ مہل ءَ

انہوں نے صوفیانہ شاعری بھی کی:

بدئے پکیرا ء نگاہ ئے مہر ئے
ثواب ئے ھاتر ھدائے نام ء
نواں کن بے نوان ء عشق ئے
ھجاب ئے ھاتر ھدائے نام ء

انہوں نے بے شمار کلام تخلیق کیا، تاہم وہ کلام کتابی شکل نہ پا سکا۔ پروین ناز کی خواہش ہے کہ جلد ان کے کلام کو کتابی شکل دے سکیں۔ تاہم ان کی تخلیقات بے شمار رسالوں کی زیب و زینت بنیں۔ ان کی شاعری نے پڑھنے والوں کو ان کا گرویدہ بنا لیا۔ ان کی شاعری کا ایک حصہ گلوکاروں کی البموں کے زینت بن گیا۔ جن میں ماسٹر شوکت، نور محمد نورل، امام بخش مستانہ، استاد امام بخش مجنون، عارف نور شامل رہے۔ جی آر ملا، مبارک قاضی اور دیگر شاعر ان کے قریبی دوستوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

غلام حسین غلام نے شاعری کا باقاعدہ کورس کیا۔ یہ کام انہوں نے سندھی ادبی اکیڈمی سے سیکھا۔ رموز کب کیسے اور کہاں استعمال کرتے ہیں؟ اس پر عبور حاصل کیا۔ شاعری کے اوزان کا خیال رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں استاد کا لقب دیا گیا۔ گو کہ ان کی تربیت سندھی ادبی اکیڈمی سے ہوئی لیکن انہوں نے شاعری کے لیے جس زبان کا انتخاب کیا، وہ ان کی اپنی مادری زبان بلوچی تھی۔

لیاری کے گلوکاروں کا نام لیا جائے تو ان میں نعیم شاد کا نام بھی آتا ہے۔ جنہوں نے اپنے فن کا جادو جگایا ہے۔ انہوں نے دیگر شعرا کے ساتھ ساتھ استاد غلام حسین کی شاعر ی پر اپنی آواز کا جادو جگایا۔ لیکن کچھ عرصے سے وہ خاموش سے ہوگئے اور موسیقی سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ ایک روز جب انہوں نے استاد غلام حسین سے شاعری کی فرمائش کی تو استاد نے کہا کہ میں اس وقت شعر لکھوں گا جب آپ گائیں گے۔ نعیم شاد کو مجبورا راضی ہونا پڑا۔ استاد غلام حسین نے اس کی گائیکی کے لیے کچھ کلام ترتیب دیا، اس امید کے ساتھ کہ استاد کی شاعری کا ایک بار پھر سے چرچا ہو گا اور نعیم سامعین کو ایک بار پھر سے اپنی جادوئی آواز سے شاد کریں گے اور لیاری ایک بار پھر سے جھوم اٹھے گا۔

میرے سامنے سے اب تک سول ہسپتال کا وہ منظر نہیں ہٹا جس میں عظیم شاعر غلام حسین غلام اپنے بیٹے کے سہارے بیڈ پر لیٹے مسکرا رہے تھے۔ قومیں اپنی محسنوں کو نہیں بھولتی ہیں لیکن ہمارے ہاں ایک المیہ ہے کہ ہم اپنے محسنوں کو جلدی بھول جاتے ہیں۔ ان محسنوں کو جنہوں نے خودداری کی اعلیٰ مثالیں قائم کر کے زبان و ادب کی خدمت کی، ان کی انہیں خدمات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جانا چاہیے۔ لیکن ہسپتال میں مجھے بلوچ قوم نظر نہیں آئی۔

ہاں ہم ایک کام ضرور کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد تعزیتی ریفرنسز ضرور رکھتے ہیں۔ ارے بھئی قدر کرنی ہے تو زندگی میں کریں۔ اس کے لیے حکومت وقت یعنی حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ قوم کے ان محسنوں کے علاج معالجے اور ضروریات زندگی کے لیے فنڈ کا اجرا کرے تاکہ ان کی خودداری پہ کوئی آنچ نہ آئے۔ خدا کرے ان کی زندگی میں ان کی شاعری کی کتاب آ جائے۔ ایک بار پھر سے ہم کلامِ غلام حسین سے ہم کلام ہو جائیں۔

Facebook Comments
(Visited 174 times, 1 visits today)

متعلق شبیر رخشانی

شبیر رخشانی
آواران کا یہ نوجوان کل وقتی صحافی ہو کر بھی حرف کی حرمت سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ اسے برتنا بھی جانتا ہے۔ شبیر رخشانی اِن دنوں "حال حوال" کا کرتا دھرتا بھی ہے۔ rakhshanibaloch@gmail.com https://web.facebook.com/shabir.rakhshani