مرکزی صفحہ / فنی و ادبی حال / طارق مراد : ایک پاگل فنکار

طارق مراد : ایک پاگل فنکار

ذوالفقار علی زلفی

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے

نوجوان بلوچ ہدایت کار طارق مراد بھی کمال کرتے ہیں ـ اگر یہ کہا جائے وہ اندھوں کے شہر میں آئینہ، بہروں کی بستی میں ساز اور اندھوں کی نگری میں تصاویر بیچتے ہیں تو غلط نہ ہوگا ـ کبھی کبھی شک سا ہونے لگتا ہے کہ جسمانی لحاظ سے یہ کمزور نظر آنے والا نوجوان دیوانہ ہے ـ ناصر نے کہا تھا "دیوانے کی نہ سنوں تو بہتر ہے” ـ

ناصر کے اس مشورے کو گرہ میں باندھ کر طارق مراد کی کوئی نہیں سنتا ـ دیوانوں کو مگر کون سمجھائے ـ وہ اپنی دھن میں رہتے ہیں ـ

طارق مراد نے ایک خاموش و مختصر دورانیے کی فلم بنائی "ھچ گوشگ ئی نہ انت” ـ دکھایا گیا مسخ لاشوں اور گمشدگیوں پر پاکستانی سماج و ادارے خاموش اور مخنث عدلیہ گھنگھرو باندھے بوٹوں کے آگے ناچ رہی ہے ـ ایک دیوانہ پروفیسر بے رحم اور مجرمانہ خاموشی کو توڑنے کی جرات کرنے کی پاداش میں اندھی گولیوں کا شکار ہوجاتا ہے ـ

طارق مراد کی بے چینی و دیوانگی برقرار رہی ـ وہ ایک اور مختصر فلم کے ساتھ سامنے آئے ـ "دیوال” یعنی دیوار ـ

یہ یش چوپڑا کی دیوار سے یکسر مختلف بے حسی کی دیوار ہے ـ دکھایا گیا پڑھے لکھے نوجوان، خشک زندگی گزارتے بلوچ نوجوان اچانک ایک دن تصویر بن کر پریس کلب کے سامنے لگی تصویر اسٹال کی زینت بن جاتے ہیں ـ فنکاری و پرکاری سے بنائی گئی اس فلم میں پیش کئے گئے مناظر، دیوار پر لکھے مردانہ کمزوری کے علاج کے اعلانات پاکستانی سماج کا گہرا تجزیہ پیش کرتے ہیں ـ

یہ پاگل نوجوان بڑھتا رہا ـ کہاں؟ روشنی کی جانب ـ زندگی اور علم کی طرف ـ روشنی کی چھوٹی سی کرن، چار جانب پھیلی تاریکی میں امید کی کرن ـ روشنی کے اس جزیرے پر تاریکی کا سیاہ ہیولہ حملہ کرتا ہے ـ فوجی بوٹوں کی آوازیں روشنی کی طرف بڑھتے ہیں ـ روشنی کی علامت نوجوان چلاتا ہے "من نہ آں” میں نہیں ہوں، مجھے مت پکڑو ـ تاریکی کے بے رحم ہاتھ "علم” کو دبوچ لیتے ہیں ، کتاب اور قلم زمین پر گر کر دوبارہ اٹھائے جانے کے منتظر ہوتے ہیں ـ یہ ہے ان کی نئی فلم "من نہ آں” ـ

"من نہ آں” مکمل دیوانگی ہے ـ یہ فلم نہیں ایک دیوانے کا ہوش مند سماج کے منہ پر طمانچہ ہے ـ معروض کا طمانچہ کیمرے کی صورت ـ طارق مراد کیمرہ لئے معروض سے لڑرہا ہے ـ اسے بدلنے کے لئے، فرزانوں کو دیوانگی کا درس دیتے ہوئے ـ مگر

ناصر کہتا ہے "دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے”

Facebook Comments
(Visited 54 times, 1 visits today)

متعلق ذوالفقار علی زلفی

ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے۔