مرکزی صفحہ / درویش کا دیوان / ممتاز ساجدی، صحرا کی صدا!!

ممتاز ساجدی، صحرا کی صدا!!

محمد خان داؤد

مدھو گوٹھ میں پہلی گولی ضامن شاہ کو لگی، دوسری گولی پریل شاہ کو، اور اب کئی گاڑیوں میں موجود لوگ آتے ہیں اور کراچی یونیورسٹی کے آئی آر کے آخری سال کے شاگرد کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں جس سے وہ شاگرد سہم سا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت شور ہوتا ہے۔ پر جب روایتی میڈیا کو دیکھا جاتا ہے۔ تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

پر مدھو گوٹھ کے برابر میں موجود غریبوں کی سستی تفریح گاہ اس بات کی اکیلی آئی وٹنس ہے کہ مدھو گوٹھ میں پہلی گولی ضامن شاہ کو لگی تھی، جو کتابوں کا رسیا تھا۔ اپنے پیسوں سے کتابوں کے میلے لگاتا تھا۔ دوستوں کو دعوت دیتا تھا، اور جو غریب دوست ہوتے تھے جو کتاب نہیں خرید سکتے تھے، پر ضامن شاہ کے کہنے پر اس کتب میلوں میں چلے آتے تھے، شام کو جاتے وقت ضامن شاہ انہیں بہت سی کتابیں دے کر رخصت کرتا تھا۔

پھر دوسری گولی پریل شاہ کے دامن کو چیرتے ہوئے اس ماں کے سینے میں پیوست ہو گئی جس ماں کا اب رونا مقدر ٹھہرا اور وہ اب بلا وجہ بہت روتی ہے۔

وہ پریل شاہ جو سیاست کا رسیا تھا، وہ کارکن تھا۔ وہ کتابیں کم اور لطیف کی وائیاں بہت سُنتا تھا۔

پریل شاہ جب اپنی تقاریر میں شاہ کی وائیوں کو شامل کرتا تھا تو وہ لوگ ہی کیا پر حال بھی جھوم اُٹھتا تھا۔

وہ پریل شاہ مدھو گوٹھ میں اپنے نازک نفیس سینے میں جی تھری کی گولیاں کھا کر کھاری مٹی میں دفن ہوگیا، پیچھے رہ گئے وہ وڈیو کلپ جو اس کے دوستوں نے یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیے۔

پر کیا اس ماں کے درد کو کسی یوٹیوب پر اپ لوڈ کیا جا سکتا ہے؟!! کیا اس ماں کے آنسو کو ساحل کی لہر سمجھ کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا ان بہنوں کی سسکیوں کو کسی کاغذ پر منتقل کیا جا سکتا ہے؟!!

مدھو گوٹھ کو ایسے ہی بدنام کیا گیا ہے جیسے شہرِ کوفہ کو کیا گیا تھا۔ جو بھی سوچنے والا دل، سمجھنے والا دماغ اور بولنے والی زباں محسوس کرنے والا قلب پایا جاتا ہے، مدھو گوٹھ میں اس کے ساتھ وہی حشر کیا جا رہا ہے جیسا اہلیانِ کوفہ نے کوفہ کے ساتھ کیا تھا۔ پر یہ مدھو گوٹھ کی خوش نصیبی ہے کہ مدھو گوٹھ کے مکین اپنے گوٹھ کے دشمن نہیں ہیں۔ پر اہلِ کوفہ اپنے کوفہ کے دشمن ٹھہرے تھے!

اب جب مدھو گوٹھ میں ایک عرصے سے سکون تھا، اور ہمارے بلوچ بھائی اس گوٹھ کو جائے پناہ بنائے ہوئے تھے، وہ مدھو گوٹھ میں عشق کو بھی ہوا دے رہے تھے تو ساتھ میں وہ کتابیں بھی پڑھ رہے تھے جو کراچی کے بازاروں میں سستے میں مل جاتی ہیں۔ اور جو کوئی کتاب پڑھتا ہے تو کتاب اس سے یہی چاہتی ہے کہ وہ بات بھی کرے، اور جب وہ بات کرتے ہیں، تو رات کو کئی لوگ گاڑیوں میں آتے ہیں اور ان معصوم طالبِ علموں کو اپنی بندوقوں اور اپنے جوتوں سے ڈراتے ہیں جو طالبِ علم کئی کئی کتابیں پڑھ کر اپنے دل کو موم بنا لیتے ہیں جن کو پاس سے گزرنی والی گاڑی کا ہارن بھی اچھا نہیں لگتا۔

ان طالب علموں کو وہ گالیاں دی جاتی ہیں جو گالیاں اگر پتھر کو بھی دی جائیں تو وہ پتھر بول پڑیں۔ وہ پتھر بولیں کیا وہ تو ان پر برس پڑیں جو انہیں گاڑیاں دے رہا ہو۔ پر وہ طالبِ علم اس شہر کی روایت سے واقف نہیں وہ شہر جو ظالم بھی ہے اور مظلوم بھی، وہ شہر جو قاتل بھی ہے اور مقتول بھی، وہ شہر جو سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں! اس شہر میں ایک بلوچ طالب علم کا رات کی تاریکی میں یوں اُٹھ جانا کیا معنیٰ رکھتا ہے!!

طالبِ علم بھی وہ جو با شعور ہو، جو دل کی بات زباں پر لاتا ہو، جو اپنے قلم سے وہ الفاظ لکھواتا ہو جو عموماً لوگ نہیں لکھتے، طالبِ علم بھی وہ جو سیاسی سمجھ رکھتا ہو، طالبِ علم بھی وہ جو آؤٹ آف سلیبس ہی نہیں پر جس کا سلیبس ہی سیاسی کتب سے بھرا پڑا ہو جس کو کلاس میں یہ نہ پڑھایا جا رہا ہو کہ قائد کے چودہ نکات کیا ہیں۔ پر وہ اپنے استادوں سے یہ پوچھتا ہو کہ اس تقریر کا کیا ہوا جو قائد نے 1948 میں اقلیتوں کے حق میں کی تھی۔

طالبِ علم بھی وہ جو اپنی روایت سے واقف ہو۔ طالب علم بھی وہ جو بہت سی کتابیں پڑھ کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ طالبِ علم بھی وہ جو سیاسی اور سماجی ایکٹیویسٹ ہو۔ جو شہر میں ان احتجاجوں میں شریک ہوتا ہو جو احتجاج اس لیے کیے جاتے ہیں کہ ان طاقتوں تک یہ پیغام جائے کہ،

ایان رُنڑ مان رڑ
اچی پئی اچی
متان سمجھین کہ مُئا مور سار!!

ابھی صحرا سے صدا
آ رہی ہے
یہ نہ سمجھو کہ سب مور مر گئے!!

طالبِ علم بھی وہ جو اس تپتی صحرا کا مور تھا جو اپنی صدا سے اس شہر کو یہ باور کرنا چاہتا تھا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ جو اُٹھا لیے گئے انہیں اب بھلا بھی دیا جائے۔ وہ ان مظاہروں میں اسی لیے شرکت کرتا تھا، کہ کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ وہ بھلا دیے گئے ہیں جن کی اب بس تصوریں رہ گئی ہیں۔

طالبِ علم بھی وہ جو اپنی بات دوسروں تک مہذب انداز سے پیش کرتا تھا، اور دوسروں کی بات ایک اچھے طالبِ علم کے جیسے سنتا تھا وہ اپنے روم سے (گھر تو اس کا پہاڑوں کے بیچ ہے)۔

جب کامریڈ صوبو کو سندھ میں بہت زیادہ پریشان کیا گیا کہ وہ سندھ اور پاکستان چھوڑ جائے تو اس نے ایک میجر سے پوچھا کہ میرا کیا قصور ہے، میں سندھ کیوں چھوڑوں، یہ میری ماں ہے میں نہیں چھوڑوں گا۔
تو میجر نے جواب دیا، تمہارے دو جرم ہیں؛ ایک کہ تم ہندو ہو، دوسرا کہ تم سندھی ہو!

اب ممتاز ساجدی کا جرم کیا ہے کہ اس کو رات کی تاریکی میں گم کر دیا گیا ہے؟!!

جیسے پہلی گولی مدھو گوٹھ میں ضامن شاہ کو لگی، دوسری گولی پریل شاہ کا دامن چیرتی اس ماں کو لگی جو اب کئی سال گزرنے جانے کے بعد بھی بے سبب روتی ہے….. اسی طرح وہ گالیاں، وہ بندوقوں کے بٹ، وہ لانگ شوز ممتاز ساجدی کا کمزور دامن چیرتے اس ماں کو جا لگے ہیں جو خضدار میں رہتی ہے، اور اب بس بے سبب روتی ہے۔

کیا اس ماں کا رونا بھی بے سبب ہے؟!!

اور میں تو ضامن شاہ اور پریل شاہ کی ماں کو بھی یہ نہیں بتا پایا تھا کہ وہ میرے دوست تھے، میں ان کا دوست ہوں، تو میں کیسے ممتاز ساجدی کی ماں کو بتا پاؤں کا کہ میں ممتاز کا دوست ہوں اور وہ میرا دوست تھا۔ ہائے میرے دوست!!!

Facebook Comments
(Visited 19 times, 1 visits today)

متعلق محمد خان داؤد

محمد خان داؤد
کراچی میں مقیم محمد خان داؤد سندھی اور اُردو صحافت کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب بہ طور فری لانسر کام کرنے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھ-بلوچستان کے مشترکہ مسائل اور درد پہ لکھنے کا یارا رکھتے ہیں۔ Email:dawood.darwesh@yahoo.com